118

قدرتی آفات‘ صرف الرٹ کافی نہیں

وطن عزیز کے مختلف حصوں میں گزشتہ روز شدت کے زلزلے میں لوگ خوف و ہراس کے باعث گھروں ‘ دفاتراور دکانوں سے باہر نکل آئے‘ زلزلے کے جھٹکوں کیساتھ سب سے زیادہ خوف سکولوں میں پھیلا اور لوگ بچوں کو لینے تعلیمی اداروں کو دوڑے پشاور کے ایک سکول میں خوف کے باعث جلدی میں باہر نکلتے ہوئے چھوٹی بچیوں کو چوٹیں بھی آئیں جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی ‘ بعض علاقوں سے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کی بھی اطلاعات ہیں ‘ جیالوجیکل سروے رپورٹ کے مطابق زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش میں178 کلو میٹر گہرائی میں تھا اورجھٹکے افغانستان کیساتھ بھارت میں بھی محسوس کئے گئے ‘ زلزلے کیساتھ ہی آفٹر شاکس کے حوالے سے الرٹس جاری کر دی گئیں ‘ وطن عزیز میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس اور دیگر قدرتی آفات کے حوالے سے ذمہ دار ادارے الرٹس جاری کر دیتے ہیں تاہم اس کے باوجود کسی ایمر جنسی کی صورت میں عوام کی مشکلات اپنی جگہ جوں کی توں ہی رہتی ہیں۔

قدرتی آفات میں عمارات کاگرنا عام رہتاہے اگر اس حوالے سے بلڈنگ کوڈ اور بعد ازاں خستہ حال عمارت کے حوالے سے موجود قاعدے قانون پر پوری طرح عمل ہو تو عمارتوں کو زیادہ محفوظ بنایا جاسکتا ہے اس سب کیساتھ خدمات کی فراہمی کا نظام آندھی بارش اور طوفان کی صورت میں بری طرح متاثر ہوتا ہے جس کی بحالی اور مرمت کیلئے ایمر جنسی پلان کو فول پروف بنانا ضروری ہے ‘ ہسپتالوں تک رسائی اورشفاخانوں کے اندر سروسز کی فراہمی ضروری ہے ‘ قدرتی آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار ادارے اپنا کام مہیا وسائل کے اندر ہی سر انجام دے سکتے ہیں ان کے اختیارات بھی حدود کے پابند ہیں۔موسم کی شدت ہو یا کوئی دیگر مشکل ‘ضرورت ان ذمہ دار اداروں کو معاونت فراہم کرنے کی ہے، اگر ہمارے تمام ذمہ دار دفاتر قدرتی آفات کے حوالے سے خدمات کی فراہمی میں ان اداروں کی دی گئی گائیڈلائنز پر عمل درآمد کیساتھ باہمی رابطہ یقینی بنائیں تو بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں، بصورت دیگر مرکز اور صوبوں میں یہ ادارے صرف الرٹس ہی جاری کرپائیں گے جو کافی نہیں، تمام متعلقہ اداروں کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے دفاتر کیساتھ رابطے اور ہدایات کا عملی طورپر پابند بناناہوگا۔

گرانی اور ملاوٹ پر خاموشی

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی گرانی کی شدت روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے، مہنگائی کیساتھ ملاوٹ کا دھندہ عروج پر ہے، کھانے پینے کی اشیاء میں مضر صحت اجزاء ملائے جارہے ہیں‘عدالت عظمیٰ مضرصحت پانی اور ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کا نوٹس لے چکی ہے جبکہ اضلاع اور تحصیل کی سطح پر انتظامیہ کی کاروائیاں صورتحال کی سنگینی کے مقابلے میں قطعاً ناکافی دکھائی دیتی ہیں، ایک جانب اس صورتحال کے کنٹرول کیلئے موجود مجسٹریسی سسٹم کو ختم کیاگیا ہے تو دوسری جانب اس کے متبادل انتظامات کسی صورت کافی قرار نہیں دیئے جاسکتے، انتظامیہ کے ذمہ دار ایک آدھ چھاپہ مارتے ضرور ہیں لیکن گلی محلے کی سطح پر چیک اینڈ بیلنس کیلئے نہ تو کوئی واضح حکمت عملی دکھائی دیتی ہے نہ ہی اس کیلئے افرادی قوت کا کوئی انتظام ہے، ایسے وقت میں جبکہ ہر سطح پرمنتخب قیادت موجود ہے عوامی اہمیت کے اس معاملے پر فوری توجہ ناگزیر ہے‘ اس ضمن میں منتخب قیادت سے معاونت لی جا سکتی ہے۔