274

پاکستان کا موقف‘ امریکی وضاحت

وائٹ ہاؤس کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے تحت پاکستان اور افغانستان میں امریکی کمانڈرز کو کاروائیوں کے لئے اختیارات دے دیئے گئے ہیں اور انہیں تمام ضروری وسائل فراہم کئے جائیں گے اس رپورٹ کے اگلے ہی روز امریکہ نے پاکستان میں فوجی کاروائیوں کے بارے میں اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نئی حکمت عملی کے تحت مختلف آپریشنز میں اسلام آباد کے تعاون ومعاونت کا خواہاں ہے یہ بیان امریکی لیفٹیننٹ جنرل کے حوالے سے خبررساں ادارے نے دیا دریں اثناء پینٹا گون کی ترجمان ڈینا وائٹ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ پاکستان جہاں دہشت گردی سے متاثر ملک ہے وہیں اس نے دہشت گردوں کی معاونت بھی کی ہے اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گرد سرگرمیوں کا مخالف ہے اپنی سرزمین کسی پڑوسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا فارن آفس کے ترجمان نے یہ بھی کلیئر کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق الزامات مسترد کرتا ہے اور ہر قسم دہشت گرد سرگرمیوں کا مکمل طور پر مخالف ہے خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بھارت کی جانب سے صرف سال رواں کے چند دنوں میں 150 سے زائد مرتبہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔

دوسری جانب پاکستان اس وقت بھی لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے جبکہ افغان سرزمین سے پاکستانی علاقوں پر 470حملے ہوچکے ہیں اس صورتحال میں پاکستان نے افعان سرحد پر975 چوکیاں قائم کی ہیں پاکستان کی امن کے لئے قربانیاں صرف اپنے ملک نہیں بلکہ پورے خطے کے لئے ہیں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب میں بھی کلیئر کیا ہے کہ افغانستان میں حالات کی خرابی کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جاسکتا پاکستان یہ بات بھی واضح کررہا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں کچھ عناصر افغانستان میں ناکامی چھپانے کے لئے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں پاکستان اس وقت70 سے زائد ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کررہا ہے امن کے قیام کے لئے پاکستان کی کاوشیں اور قربانیاں سب کے سامنے ہیں اس کے باوجود اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے کوئی بھی ملک اگر پاکستان کو ہدف تنقید بناتا ہے تو عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

پاکستان سعودی عرب حج معاہدہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حج معاہدہ قابل اطمینان ہے رپورٹس کے مطابق پاکستان نے30 ہزار مزید عازمین کے لئے اضافی کوٹہ طلب کیا ہے جبکہ سعودی عرب کے ایئرپورٹس پر پاکستان حجاج کو بائیو میٹرک تصدیق سے مستثنیٰ قرار دینے کا بھی کہا گیا ہے وطن عزیز میں ہر سال حجاج کرام کی وطن واپسی پر درپیش مشکلات کے حوالے سے شکایات کے اندراج اور کاروائی کا آغاز ہوتا ہے یہ کاروائی اگر مکمل بھی کی جائے تو حجاج کرام جن تکالیف کا سامنا کرنے کے بعد وطن واپس آتے ہیں ان کی تلافی تو نہیں ہوسکتی تاہم بعد والوں کیلئے سہولت پیدا ہونے کا امکان ضرور رہتا ہے اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حج درخواستوں سے لیکرحجاج کرام کی وطن واپسی تک کے تمام مراحل کی کڑی نگرانی کی جائے اس کے ساتھ ہر مرحلے پر شکایات کے اندراج اور آن سپاٹ ازالے کا بندوبست کیا جائے ماتحت سے لیکر اعلیٰ افسروں تک کو اپنے فرائض کا پابند بنایا جائے۔