123

سیاسی درجہ حرارت اور فاٹا اصلاحات

وطن عزیز میں جاری سیاسی گرما گرمی کی فضاء میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی بات چیت اعتدال کی حامل اور عام انتخابات کے حوالے سے ان کے پراُمید ہونے کی عکاس ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عدلیہ و قانون کی تضحیک ناقابل قبول ہے اور طلال چوہدری نے کوئی ایسی بات کی ہے تو اس پر معذرت کرنی چاہئے۔ نجی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن وقت پر ہوں گے۔ عین اسی روز جب شاہد خاقان عباسی چترال میں گولن پاور پراجیکٹ کا افتتاح کررہے تھے پشاور میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ عدل قائم کرنے کے لئے کشتیاں جلا کر میدان میں نکلے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کروڑوں ووٹ لینے والے کو 5 لوگوں نے نکال دیا ہے۔ جلسے سے خطاب میں سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ پشاور نے فیصلہ دے دیا ہے کہ صادق اور امین کون ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ شریفوں نے ملک کو معاشی طور پر تباہ کردیا جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کہتے ہیں کہ ملک میں باریاں بانٹنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اسی طرح دوسری مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تند و تیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے اس سب کے ساتھ سینٹ کے الیکشن کیلئے رابطے بھی عروج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

عام انتخابات کے سال میں تند و تیز بیانات اور سیاسی رابطے معمول کا حصہ سہی تاہم بیانات کی حدت اداروں تک پہنچ جانا اور الیکشن قریب آنے کے باوجود بعض اہم معاملات کا یکسو نہ ہونا قابل غور ضرور ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے لئے مہم چلانے کا عندیہ دے رہے ہیں جبکہ فاٹا اصلاحات جیسے اہم مسئلہ پر پیش رفت کی رفتار سست ہوتی جارہی ہے اس ضمن میں سیاسی قیادت کے مل بیٹھنے اور تحفظات و خدشات دور کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ قبائلی عوام کو سہولیات مل سکیں اس سب کے ساتھ ملک میں گرانی پر قابو پانے اور عام شہری کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات انتہائی ناگزیر ہوچکے ہیں خارجہ محاذ پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے موثر حکمت عملی بھی ناگزیر ہے۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم سے متعلق امور طے کرنے اور بجٹ میں عوام کیلئے ریلیف یقینی بنانا ضروری ہے اس سب کیلئے اعتدال‘ تحمل اور کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے کا موقف سننے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک فاٹا اصلاحات کا تعلق ہے تو اس کو عملی شکل دینے کے لئے سٹیک ہولڈرز کو فوری طور پر متحرک کرنا ہوگا۔

پشاور کا انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی دارالحکومت کا چہرہ نکھارنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور ساتھ ہی کہا گیا کہ پشاور صوبے کے ماتھے کا جھومر ہے شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے متعدد منصوبے بھی دئیے گئے تاہم کئی دہائیوں کے بگاڑ کو سنوارنے کے لئے جو بھی ہوا وہ کم ہے اور ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس مقصد کے لئے ضرورت ایک ایسی جامع حکمت عملی کی ہے کہ جس میں جی ٹی روڈ اور بعض دوسری بڑی سڑکوں سے ہٹ کر اندرون شہر کے مسائل اور مشکلات کو دور کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے ساتھ سیوریج سسٹم کو کلیئر کرنا اور صفائی کے لئے موثر انتظامات یقینی بنانا ہوں گے یہ سب اس صورت ثمرآور ہوسکتا ہے جب مشاورت کے عمل کو وسعت دی جائے اور اس میں سٹیک ہولڈرز کی آراء کو اہمیت حاصل ہو۔ اس طرح مسائل کی تہہ تک پہنچ کر حل کا راستہ نکالا جاسکتا ہے۔