140

پاکستان سے مطالبے کرنیوالے خاموش کیوں؟

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر حملے کیلئے400 بھارتی تخریب کاروں کی تیاری اور انہیں تربیت کیلئے افغانستان بھجوائے جانے سے متعلق رپورٹس آچکی ہیں دوسری جانب پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا ہے ،قابض بھارتی افواج لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سول آبادی کے علاقوں کو خودکار ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے‘ 2018ء میں اب تک بھارت کی جانب سے 190 مرتبہ سیز فائر لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزی ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں13 معصوم شہری شہید اور 65 سے زائد زخمی ہوئے ہیں‘ پاکستان بھارت کیساتھ تصفیہ طلب امور بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی کوششیں کرچکا ہے تاہم اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اپنے موقف سے کسی صورت کبھی بھی دستبردار نہیں ہوسکتا اور اس کا اظہار گزشتہ روز یوم یکجہتی کے موقع پر بھی کیاگیا ہے، دوسری جانب افغانستان سے متعلق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ایک بار پھر واضح کر رہے ہیں کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں جبکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں تعاون کیلئے بھی تیار ہیں ۔

قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے اقدامات کی حمایت کی ہے‘ اس ساری صورتحال میں پاکستان سے ڈومور کے مطالبے کرنیوالے ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں‘ امریکی تھنک ٹینک بھارت سے خطے کی سربراہی اور سیکورٹی کیلئے قائدانہ کردار کا کہہ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ بھارت کیساتھ تعلقات میں وسعت کی باتیں کر رہی ہے جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عالمی ادارے کی قراردادوں کو سردخانے میں ڈالنے جیسے بھارتی اقدامات سے متعلق مسلسل خاموشی اختیار کی جاچکی ہے‘ بھارت سے پاکستان کی معاشی ترقی کا منصوبہ کسی طورپر ہضم نہیں ہورہا اس اہم مرحلے پر جبکہ سی پیک کے ثمرات سمیٹنے کا وقت آرہاہے بھارت اور اس کو چودھراہٹ دینے والے ممالک کے منفی عزائم کو ناکام بنانے کیلئے قومی اتحاد ناگزیر ہے اس مرحلے پر سیاسی قیادت کو اپنا اہم کردار ادا کرنا ہے‘ سیاسی اختلافات اور انتخابی مہم اپنی جگہ اہم سہی، وطن عزیز کے مفاد اور آئندہ نسلوں کیلئے مستحکم معاشی مواقع فراہم کرنے کیلئے سی پیک اور دوسرے اہم منصوبوں کیلئے سب کو یکجا ہوکر ٹھوس اور مربوط حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔

نرخناموں کیلئے موبائل ایپلی کیشن

خیبرپختونخوا حکومت نے پھلوں اور سبزیوں کے نرخناموں سے متعلق موبائل ایپلی کیشن فراہم کرنیکا فیصلہ کیا ہے‘ مہیا تفصیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر نرخناموں کے حوالے سے ویڈیوز ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کرینگے‘ اس ایپلی کیشن ہی کے ذریعے سبزیوں اور پھلوں کے نرخوں کا تعین کیا جائیگا‘ ذمہ دار افسر روزانہ‘ ہفتہ وار اور ماہانہ کارکردگی رپورٹ کی شکل میں پی ایم آر یو کو ارسال کرینگے‘ حکومت کی سعی قابل اطمینان سہی تاہم اس کا ثمرآور ہونا عملدرآمد کے فول پروف انتظام سے مشروط ہے‘ اسکے ساتھ ہی مارکیٹ کنٹرول کیلئے آپریشنل اداروں کے درمیان باہمی رابطہ ناگزیر ہے۔ صوبے میں حلال فوڈ اتھارٹی بھی کام شروع کرنے والی ہے اگر تمام ادارے اپنے اپنے طور پر کام کرتے رہے اور باہمی رابطوں کا فقدان رہا تو مارکیٹ بے قابو ہی رہے گی ضرورت پورے صوبے کی سطح پر مارکیٹ کنٹرول روم کے قیام کی ہے جو تمام اداروں کے ساتھ رابطے میں رہے۔