105

پاکستان کا موقف

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیر صدارت ہونیوالی کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء نے بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کو علاقائی امن کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا دریں اثناء وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ممکنہ جنگ کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہوگی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں خرابی سے خطے میں عدم استحکام ہوگاوزیر داخلہ کہتے ہیں کہ کراچی میں چینی باشندے کی ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ ہوسکتا ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان خطے میں امن کے لئے ریکارڈ کوششیں کرتا چلا آ رہا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے خیبرپختونخوا میں خصوصاً کارخانوں کو تالے لگے جبکہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ دوسرے علاقوں کو منتقل کرنے پر مجبورہوئے وطن عزیز کی معیشت عالمی قرضوں تلے دب گئی تو تجارتی خسارے نے رہی سہی کسر پوری کردی پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھنے کے ساتھ گرانی کے طوفان میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔

جس سے عام شہری کی زندگی اجیرن ہو کررہ گئی ہے ایسے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے اس منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی بھارت کی جانب سے رنگ برنگے بیانات سامنے آنا شروع ہوگئے بھارت کو اس بات کا دکھ ہے کہ اس پراجیکٹ کے ساتھ پاکستان کا اقتصادی رسوخ بڑھ جائے گا ادھر امریکہ بے بنیاد الزام تراشی کررہا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق اب امریکی صدر کی پالیسیوں پر خود امریکہ میں تنقید ہورہی ہے اور وہاں منتخب اراکین یہ کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کی جنگ امریکہ کو سالانہ 45 ارب ڈالر میں پڑ رہی ہے امریکی محکمہ خارجہ خود کانگرس میں اعتراف کررہا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے کچھ نہیں ہوگا‘بر سرزمین حقائق اور پاکستان کا مثبت کردار اس بات کا متقاضی ہے کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک پاکستان کے حوالے سے منفی رویہ ترک کریں خود وطن عزیز میں بھی سیاسی قیادت کو موثر خارجہ حکمت عملی اور مستحکم اکانومی کے لئے موثر کردار ادا کرنا ہوگا تا کہ ملک ترقی کی جانب بڑھ سکے۔

جی ٹی روڈ پر شجرکاری کی ضرورت

صوبائی دارالحکومت میں بس منصوبے کا آغاز جی ٹی روڈ پر چمکنی کے قریب سے ہورہا ہے جبکہ چمکنی سے آگے سڑک کے وسط میں سبزہ پھول اور درخت لگانے کے لئے کافی جگہ موجود ہے کھجور کے کچھ درخت لگائے بھی گئے ہیں جبکہ چمکنی سے آگے گرین بیلٹ بھی متعلقہ اداروں کی توجہ کا تقاضا کرتی ہے اب جبکہ بہار کی آمد آمد ہے اگر بس منصوبے کے سٹارٹ پوائنٹ سے آگے جی ٹی روڈ پر شجرکاری کے حوالے سے بھرپور توجہ کر لی گئی تو یہ شجرکاری نہ صرف ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں معاون ہوگی بلکہ شہر کی خوبصورتی میں اچھا اضافہ ہوگا یہ بات بھی مد نظر رہے کہ صرف درخت لگانا کافی نہیں انکی دیکھ بھال بھی پوری ذمہ داری کی متقاضی ہے جی ٹی روڈ پر چمکنی سے آگے کی سڑک پر صفائی کا انتظام بہتر بنانے اور سبزہ اور درخت لگانے کیساتھ لائٹنگ کا بندوبست بھی شہر کی مرکزی شارع کے ساتھ پھیلنے والی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہوتا جارہا ہے جس کے لئے وزیراعلیٰ کو خود جامع منصوبے کے تحت کام کا حکم دینا ہوگا۔