81

جہالت

عالمی ادب میں اردو کی آواز اور مستند حوالہ‘ جن کے نام سب سے زیادہ اشعار کا ذخیرہ بھی ہے‘ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اسد اللہ خاں المعروف مرزا غالبؔ (1797ء 1869ء)‘ ہیں‘ جنہوں نے علم کو خودشناسی کی جانب پہلا قدم قرار دیا۔ ’علم سے ہی قدر ہے اِنسان کی۔۔۔ ہے وہی اِنسان جو جاہل نہیں!‘اس تناظر میں گردوپیش کا جائزہ لینے پر انسانوں کی کم تعداد دیکھ کر پریشانی نہیں ہوتی‘ بلکہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ہماری درسگاہیں اور دانش گاہیں اپنی موجودگی سے گردوپیش کو معطرنہیں کر رہیں‘ جسکی جانب برطانوی میگزین ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے بھی اشارہ کیا ہے اور سال دوہزار اٹھارہ کیلئے ایشیائی ممالک کی بہترین جامعات کی فہرست جاری کی ہے!کیا یہ بات پاکستان کے لئے قابل فخر اور باعث اطمینان قرار دی جاسکتی ہے کہ پہلی بار ایشیاء کی 100بہترین جامعات میں صرف ایک پاکستانی جامعہ (قائد اعظم یونیورسٹی) شامل ہوئی ہے! ایشیاء کی ’تین سو پچاس بہترین جامعات‘‘ پر مبنی مذکورہ فہرست میں شامل پاکستانی یونیورسٹیز کی کل تعداد 10ہے‘ اس سال بھی سب سے بہترین یونیورسٹی کا اعزاز نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور نے حاصل کیا ہے جو مسلسل تین برس سے اس اعزاز کادفاع کر رہی ہے‘ایشیاء کی دوسری بہترین یونیورسٹی کا اعزاز چین کی تشنگوا یونیورسٹی کے نام ہے‘مجموعی طور پر ابتدائی بائیس جامعات کا تعلق سنگاپور‘ہانگ کانگ‘ چین اور جنوبی کوریا سے ہے جبکہ تئیسویں نمبر پر سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی ہے اور بھارت کی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اُنتیسویں نمبر پر ہے۔

اسلامی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن اعلیٰ تعلیم کا شعبہ زوال پذیر ہے‘جامعات کی تعداد میں اگرچہ ہر سال اضافہ ہو رہا ہے لیکن تعلیم کا معیار ہر گزرتے دن ماضی کے مقابلے کم ہونے پر تشویش نہیں پائی جاتی‘ اگر ہم دوہزار اٹھارہ کے آغاز پر اعلی تعلیم کا جائزہ لیں تو صورتحال زیادہ مایوس کن دکھائی دیتی ہے کہ ہماری جامعات سے حاصل ہونیوالی پیداوار متاثر کن اور حسب حال و ضرورت نہیں‘جامعات کی مالی سرپرستی ہر گزرتے دن کم ہو رہی ہے۔ آج تدریسی نصاب سے متعلق جامعات کو محدود آزادی حاصل ہے۔ جامعات کی عمارتیں اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق نہیں اور ان اداروں کی انتظامی نگرانی کا طریقہ کار بھی خرابیوں کا مجموعہ ہے‘ جس میں اساتذہ کو نہ تو تحقیق و تخلیق سے کام لینے کی اجازت و آزادی حاصل ہے اور نہ ہی وہ حکمت سے کام لیتے ہوئے تدریسی اصلاحات متعارف کرا سکتے ہیں جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ دو سال قبل پاکستان کی صرف 6 جامعات دنیا کی800 یونیورسٹیز کی فہرست میں شامل تھیں لیکن سال 2017 کے اختتام تک انکی تعداد مزید کم ہو کر 3 رہ گئی ہے!اس صورتحال میں جبکہ جامعات کی ایک بڑی تعداد مقررہ قواعد و ضوابط پر پوری نہیں اُترتیں اور وفاقی اور صوبائی حکومتیں مزید نجی یونیورسٹیوں کے اجازت نامے جاری کر رہی ہے تو کیا اس سے بہتری آئیگی یا تعلیم برائے فروخت سے ایک لاحاصل کوشش ہے اَیچ اِی سی کی جانب سے بڑے پیمانے پرتعلیمی وظائف دیئے جاتے ہیں لیکن ان وظائف کو دینے کے عمل میں علوم سے متعلق ملکی و مقامی ضروریات کا تعین نہیں کیا جاتا جو نہایت ہی ضروری امر ہے کیونکہ توانائی کے متبادل ذرائع سمیت سستے ایندھن کی فراہمی جیسے شعبوں میں پاکستان ایسی تحقیق کا متمنی ہے‘ جس سے کوئلے‘ تیل و گیس کے نئے ذخائر کی کھوج اور دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ ممکن ہو سکے عجب ہے کہ پاکستان کی ترقیاتی ضروریات کے بارے میں توجہ ایک جانب مرکوز ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم مخالف سمت میں گامزن ہے!جامعات کیا ہیں اور کیا ہونی چاہئیں؟

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے کئی جوابات کاجامع خلاصہ یہی ہوگا کہ یونیورسٹیوں کو روایتی تعلیم کے طریقہ کار سے آزاد کیا جائے ‘طلباء و طالبات میں تنقید اور تنقیدی جائزے کا حوصلہ بڑھایا جائے تاکہ وہ خود اعتمادی اور قوت ارادی سے مسائل اور بحرانوں کا حل نکال سکیں۔ قومی و عالمی موضوعات پر مباحثے اور مختلف جامعات کے طلباء و طالبات کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر تحقیق کے ذریعے سے علم و ہنر کے نئے افق تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ مردان کی یونیورسٹی میں ہونے والا مشال قتل معاملہ بھی ہمارے فیصلہ سازوں کے پیش نظر رہنا چاہئے جس میں انتہاء پسندی اور جذبات کی رو میں بہنے والے طلباء کو تو سزائیں دی گئیں ہیں لیکن اُنہیں اُکسانے اور گمراہ کرنے والے عناصر سے بطور مجرم سخت گیر معاملہ نہیں کیا گیا۔ جامعات کو سیاست اور انتہاء پسندی سے پاک کرنے کیلئے شعوری کوششیں کرنا ہوں گی‘ جس کیلئے ہمارے فیصلہ سازوں کو فی الوقت سوچنے اور عمل کی فرصت نہیں! لہٰذا گلہ مندی کے ساتھ‘ جہالت ہی سے استفادہ اور اِسی پر اکتفا کرنا پڑے گا لیکن کیا کریں کہ ’’ہے وہی انسان‘ جو جاہل نہیں۔‘‘