184

سینٹ الیکشن اور معتدل رویہ

سیاست کے میدان میں جاری گرماگرمی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ایک مرتبہ پھر یہ کہنا کہ فوج اور عدلیہ کے خلاف بیانات نہ دیئے جائیں‘ معتدل رویئے کی عکاسی کرتاہے‘ اپنے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری اور دانیال عزیز کے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس پر معذرت کرنی چاہئے‘ فوج اور عدلیہ کیخلاف بیان کی آئین وقانون میں کوئی گنجائش نہیں‘ اس سب کیساتھ وزیراعظم سینٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا امکان ظاہر کررہے ہیں‘ عین اسی روز جب وزیراعظم فوج اور عدلیہ کیخلاف بیانات روکنے کا کہہ رہے تھے‘ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ مکمل آزاد ہے اور اس کے آزاد نہ ہونے سے متعلق تاثر درست نہیں‘ وطن عزیز میں سیاسی بیانات کی شدت میں اضافے کیساتھ ان کا دائرہ اداروں تک بھی پہنچ چکا ہے‘ جس پر وزیراعظم کا دوسری مرتبہ یہ کہنا کہ فوج اور عدلیہ کیخلاف بیان نہ دیاجائے قابل اطمینان ہے‘ سینئر سیاسی قیادت کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے روکنے کیلئے اپنی اپنی جماعتوں میں جونیئرز کو ہدایت کرنا ضروری ہے ‘ ۔

اس سب کیساتھ قومی نوعیت کے اہم معاملات پر سیاسی قیادت کے درمیان رابطہ ناگزیر ہے تاکہ عام انتخابات سے قبل اہم امور یکسو ہوسکیں‘ان میں معاشی استحکام‘ داخلہ وخارجہ حکمت عملی‘ فاٹا اصلاحات ‘ این ایف سی ایورڈ‘ مرکز اور صوبوں کے درمیان اہم معاملات اور خیبرپختونخوا کو واجبات کی ادائیگی جیسے اہم کیس بھی شامل ہیں‘اس کیساتھ گرانی کے باعث غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے مارکیٹ قابو کرنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا بھی ضروری ہے‘ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات بھی ناگزیر ہیں‘ حالات کا تقاضا یہ بھی ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکا جائے‘ اس ضمن میں بھی اہم ذمہ داری سینئر سیاسی قیادت پر ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کے اندر ڈسپلن کے حوالے سے بنے قاعدے پر عمل درآمد یقینی بنائیں‘ خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان ابتدائی رابطے اور اگلے مرحلے پر اس طرح کے روابط جاری رکھنے پر اتفاق خوش آئند ہی ہے‘ اسی طرح کے رابطے سینٹ کے آنیوالے انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت روک سکتے ہیں۔

پینے کا صاف پانی اہم حل طلب مسئلہ

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو ڈبلیو ایس ایس سوات کی بریفنگ میں بھی بتایاگیاہے کہ زیادہ توجہ طلب معاملہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہے جس کیلئے مزید ٹیوب ویل بنانے ہیں‘ صوبائی دارالحکومت اور صوبے کے دوسرے شہروں میں نئے ٹیوب ویلز کیساتھ اصل ضرورت پینے کے پانی کیلئے بچھائی گئی بوسیدہ اور زنگ آلود پائپ لائنیں تبدیل کرنے کی ہے۔ سیوریج کی نالیوں کیساتھ گزرنے والی یہ پائپ لائنیں پانی کو آلودہ کرتے ہوئے کئی کئی بیماریاں ساتھ لیکر آتی ہیں‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومت اضلاع کی سطح پر فی الفور اس حوالے سے سروے کرواکے بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کی مشاورت کیساتھ بوسیدہ اور زنگ آلود پائپ لائنوں کو فی الفور تبدیل کرنے کا حکم دے اور وزیراعلیٰ خود اس مقصد کیلئے ٹائم فریم دیں اس کے ساتھ واٹر ٹینکس کی صفائی کیلئے باقاعدہ شیڈول مقرر کیاجائے تاکہ پانی زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جاسکے۔