69

فاقہ مستیاں

’قرض کچھ بن گیا تو لاتا ہوں ۔۔۔ جیسا میں نے کیا ہے پاتا ہوں (میر تقی میرؔ ) کے الفاظ پاکستان پر صادق آتے ہیں کیونکہ ہمارے لاتعداد معاشی و اقتصادی مسائل کیلئے کوئی اور نہیں بلکہ حکمرانوں سے لیکر عوام الناس تک ہر اکائی ذمہ دار ہے‘ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ایک عرصے سے برقرار ہے اور بڑھ بھی رہا ہے لیکن اسکے باوجود بھی سامان تعیش کی طلب میں کسی بھی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی‘ بجلی اور گیس کی کمی بصورت بحران طاری ہے لیکن نمائشی مقاصد اور تفریح کیلئے بجلی کا اسراف ایک معمول بن چکا ہے‘ دس فروری کی شب پشاور میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا اتفاق ہوا‘ جو سرکاری اراضی کو اجارے پر دیکر بنایا گیا تھااور حساس فوجی تنصیبات اور پشاور کے سب سے پرسکون و پرآسائش جدید رہائشی علاقے کے مرکز میں بنایا گیا وہاں نہ شادی ہالز کے مقررہ اوقات کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی کھانے پینے اور دیگر رسومات کی ادائیگی میں سادگی اختیار کی گئی‘جو باآسانی ممکن تھی۔ سمجھ نہیں آتی کہ اگر کسی کے پاس دولت ہے تو اس کی نمائش کرنے کی ضرورت کیا ہے!؟ وقت ہے کہ ہم دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے پوچھیں اور اپنے گردوپیش میں کھلی آنکھوں سے دیکھیں کہ کس طرح ہمارے رویئے ہماری زحمتوں کا باعث ہیں۔ صابن سے لیکر گاڑی تک روزمرہ استعمال کی اشیاء کا چناؤ کرتے ہوئے ہماری پہلی ترجیح غیرملکی برانڈز کیوں ہیں؟ کیا ہم سوچنے سمجھنے والی مخلوق ہیں؟کیا ہمیں واقعی پاکستان سے محبت ہے اور حب الوطنی کے تقاضوں کا ادراک رکھتے ہیں؟

کیا یہ ممکن نہیں کہ ملک کے دگرگوں اقتصادی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنی اپنی زندگیاں کچھ اس سادگی سے مرتب کریں کہ اس سے روحانی مراتب میں اضافہ‘ رحم دلی اور ہمدردی کا اظہار ہو جبکہ معاشرت کا وہ کھویا ہوا وقار بھی بحال ہو سکے‘ جو کبھی ہمارا خاصہ ہوا کرتا تھا!؟بناء تفکر ترجیحات کے تعین سے درپیش مسائل کا حل ممکن نہیں اقتصادی مسائل سے متعلق اگر مرکوز نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کسی ایک ہی شعبے کی بات کی جائے تو پاکستان میں ہر قسم کی گاڑیوں کی صنعتیں تو موجود ہیں‘ لیکن انکی پیداوار کا معیار‘ قیمتیں اور عائد ٹیکسوں کی شرح کے باعث یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ غیرملکی ساختہ استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی جائیں۔ کیا یہ انکشاف تلخ نہیں کہ سال دوہزار سولہ کے مقابلے دوہزار سترہ میں پاکستان میں استعمال شدہ درآمد کی جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کی تعداد میں تقریباً 70فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 38ہزار 676 سے بڑھ کر65ہزار723 تک پہنچ گئی اور غیرملکی گاڑیوں کی درآمد کا رجحان رواں سال بھی جاری ہے۔سپورٹس یوٹیلٹی گاڑیوں (ایس یو ویز) کی درآمد بھی انسٹھ فیصد اضافہ (سات ہزار سے زائد یونٹس) جبکہ پک اپس اور وینز کی تعداد نو فیصد اضافہ (تین ہزار سے زائد یونٹس) خریدنے والے متوسط طبقات سے تعلق نہیں رکھتے جن کیلئے گاڑی سفر کی بنیادی ضرورت نہیں بلکہ آسائش اور لائف سٹائل کا اظہار ہے‘ اگر حکومت اس قسم کے نمائشی رہن سہن رکھنے والوں پر ٹیکس عائد کرے اور عام آدمی کو ریلیف دے تو بھی کوئی حرج نہ ہو لیکن مقامی صنعتوں کو ترجیحات سے الگ کرنے سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے‘سال دوہزار سترہ میں ٹویوٹا کمپنی کی وٹز نامی گاڑی سب سے زیادہ درآمد ہوئی یعنی تین سو پینسٹھ دنوں میں اس گاڑی کے آٹھ ہزار چھ سو اَسی یونٹ خریدے گئے جو گذشتہ سال کے مقابلے چالیس فیصد اضافہ ہے تو اگر پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کا معیار بھی بہتر بنایا جائے تو کوئی بھی درآمدی اشیاء پر بھروسہ نہیں کرے گا خیال کیا جارہا ہے کہ کم شرح سود‘ بینکوں کی جانب سے آسان شرائط پر قرضہ جات کی فراہمی میں اضافہ اور ٹیکسی سروس کریم اور اوبر کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری کے باعث استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات تیزی سے بڑھی ہیں ۔

جبکہ مقامی سطح پر اسمبلڈ ہونے والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ویسے تو پاکستان کوئی ایک بھی ایسی گاڑی نہیں بناتا جو سوفیصد پاکستانی ہو لیکن مقامی ساختہ گاڑیوں کی تعداد میں ایک سال کے دوران بیس فیصد سے زائد اضافہ اِس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ گاڑیوں کی کھپت‘ اس ضرورت کو پورا کرنے میں ناکام ہے جو تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ چھ ماہ کے درمیان ایک لاکھ تین ہزار چارسو بتیس مقامی گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں‘ ادارۂ شماریات کی ویب سائٹ پر اعداد وشمار دستیاب ہیں‘ جن کا مطالعہ ہوشرباہے۔ ماہ جولائی سے دسمبر دوہزارسترہ کے درمیان درآمد شدہ موٹر گاڑیوں میں چونسٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے جن کی کل مالیت ستائیس کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر ادا کی گئی ہے!یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس مقامی صنعت کی آمدنی میں قریب تیئیس ارب روپے کی کمی آئی لیکن اِس کے باوجود بھی فیصلہ ساز اور عوام الناس بیدار نہیں ہو رہے‘ اگر پاکستان صنعتیں یونہی خسارے سے دوچار رہیں‘ گاڑیاں اور انکے فاضل پرزہ جات کی درآمد کا سلسلہ جاری رہا تو آنیوالے دنوں میں اقتصادی مشکلات میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مارکیٹ کے بہاؤ اور رجحان کے مطابق منصوبہ سازی کی جائے‘ اس سلسلے میں حکومت سرمایہ کاروں کو متوجہ کرے تو روزگار کے کم ہوتے ہوئے مواقعوں کو سہارا دیا جاسکتا ہے ۔