116

احتساب :خوداحتسابی

قانون بطور نمائشی دستاویز ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کو پسند ہے لیکن کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ قوانین و قواعد کے مطابق معمولات کی پابندی کرے‘نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ انکی کابینہ اور سینئر حکام کیخلاف مالی بدعنوانیوں کے ایک سے زیادہ معاملات میں جب چھان بین کا حکم دیا تو قطعی خلاف توقع نہیں تھا کہ پنجاب حکومت ان تحقیقات میں تعاون سے گریز کرتی‘ اسی طرح چیئرمین نیب کی جانب سے پنجاب حکومت پر نیب تحقیقات میں عدم تعاون کا الزام بھی غیرمتوقع تھاکیونکہ سرکاری ادارے عموماً حکمرانوں کیخلاف اس قسم کے انتہائی روائیوں کا اظہار نہیں کرتے اور یہی وجہ تھی کہ جن پر الزام لگا‘وہ توخاموش رہے لیکن لیگی رہنمااور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ اس قدر سیخ پا ہوئے کہ انہوں نے رسمی بیان جاری کرنے کی بجائے باقاعدہ پریس کانفرنس ہی کر ڈالی اور بجائے نیب اعتراضات کا جواب دینے نیب کی کارکردگی اور کردار پر سوالات اٹھا دیئے۔ وزیرقانون نے جو کچھ کہا وہ کسی وزیرقانون کے شایان شان نہیں تھا کیونکہ اگر قانون کے رکھوالے ہی قانون اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات اٹھائیں گے تو عام آدمی کی نظر میں اداروں کا وقار گرتا چلا جائے گا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ’اگر چیئرمین نیب کو پنجاب حکومت سے کوئی شکایت ہے تو سرکاری اداروں کے مابین رابطے کیلئے پریس کانفرنس اور تقریر معقول ذریعہ رابطہ کاری نہیں اور ہمیں ‘ انکے خیال میں چیئرمین نیب کو انکے ماتحتوں نے گمراہ کر رکھا ہے‘کسی ادارے کے سربراہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ گمراہ ہو چکا ہے۔

توہین کی انتہاء ہے‘ دنیا جانتی ہے کہ گمراہی کا الزام کبھی نہ لگایا جاتا اگر سستے گھروں کی آڑ میں اربوں روپے کی کرپشن بارے تحقیقات نہ کی جاتیں اور چیئرمین نیب حکومت کے منظور نظر رہتے اگر آٹھ فروری کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وہ یہ نہ کہتے کہ ہاؤسنگ سکیم میگا سکینڈل میں پنجاب حکومت نیب سے تعاون نہیں کررہی‘ نیب چیئرمین نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور انسداد کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے سربراہان کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ وہ ’اپنے باس سے مخلص ہونے کے بجائے عوام سے وفاداری نبھائیں‘ نیب کو میٹروبس ملتان اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سے متعلق تمام ریکارڈ درکار ہے‘ جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر مالی خورد برد کا الزام ہے!پنجاب کے وزیرقانون کے بقول کل 53پبلک سیکٹر کمپنیوں میں سے پندرہ غیر فعال جبکہ دو ختم ہو چکی ہیں تاہم 48کا ریکارڈ نیب کو فراہم کر دیا گیا ہے اور پنجاب حکومت کا فوکل پرسن نیب کی ہر درخواست کو سننے کے لئے مقرر ہے۔ شہباز شریف پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے معاملے میں تحریری جواب دینے کے بجائے ازخود نیب کے سامنے پیش ہوئے ہیں‘ وزیرقانون نے کہا کہ نیب سے منسلک بعض لوگ خود نیب کو مطلوب ہیں اور نیب حکام کا رویہ تضحیک آمیز ہے‘ ہمارے حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ سرکاری ادارے کس طرح عوام کی تضحیک کرتے ہیں لیکن جب انہیں اپنے خلاف تابع فرماں ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو انکی چیخیں نکل جاتی ہیں!

پنجاب کے حکمرانوں کی چاہے ایک آنکھ خوش اور دوسری روتی رہے لیکن انکے سربراہ کو ملتان میٹرو بس منصوبے سے متعلق نیب تحقیقات سے متعلق میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کیا جائیگا جبکہ لاہور میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکینڈل میں بھی شہباز شریف کو اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑیگی سیاستدانوں کا احتساب شروع کرنے والی نیب مشکل میں پھنس گئی ہے کیونکہ سیاست دان نیب کو الجھانے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر فوری عمل درآمد چاہتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف کو استثنا حاصل نہیں رہا۔ انہیں نیب قانون کے تحت تحقیقات کے بعد ٹرائل چلا کر سزا دی جا سکتی ہے‘سال دوہزارتیرہ میں جب ایک درخواست کے ذریعے نیب سے مشرف کیخلاف ظاہر کردہ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں کاروائی کا مطالبہ کیا گیا تو نہ جانے نیب نے کس دباؤ‘ مصلحت یا اندیشہ ہائے دور دراز کے تحت خود کو بے اختیار ظاہر کرنے میں عافیت سمجھی تھی۔ نیب نے پچیس اپریل دوہزارتیرہ کے روز درخواست دہندہ کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ مشرف کے خلاف تحقیقات کرنا اسکے اختیار میں نہیں‘ تعجب ہے کہ نیب کو اپنے اختیارات کی حد بھی معلوم نہیں تھی۔ قانون سے بالا کوئی شخص نہیں اور اب تو عدالت نے غیر مبہم فیصلہ دے دیا ہے کہ آرمی سے ریٹائرڈ اور عوامی عہدہ رکھنے کے باعث نیب کو مشرف کیخلاف تحقیقات کا اختیار ہے بلکہ یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ ہر شکایت کو زیرغور لائے اور بلاخوف و خطر شفاف انداز میں معاملے کی تحقیقات کرے۔