94

سیاسی نجومیوں کی پذیرائی

مجھے ،بلکہ مجھے کیا شایدکسی کو بھی یہ سمجھ نہیں آتی کہ سنسنی پھیلانے کی نیت سے بے سروپا سیاسی پیش گوئیاں کرنے والے عناصر کو بار بار کے آزمائے جانے کے باوجود میڈیا ہاتھوں ہاتھ کیوں لیتا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا پر جتنا وقت ان عناصر کے بظاہر چٹ پٹے لیکن در حقیقت کھوکھلے الزامات ‘تجزیوں اور تبصروں کو دیا جاتا ہے اتنا وقت اگر عوامی مسائل اور انکے حل کی تجاویز سامنے لانے کیلئے متعلقہ ماہرین کو دیا جائے تو ملک و قوم کا بھلا ہو سکتا ہے پچھلے قریباً دس سال یعنی دو جمہوری ادوار حکومت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ سیاسی نجومیوں کے بارہا منہ کی کھانے کے باوجود میڈیا پر انکی پذیرائی میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی ۔ فروری2008 ء سے لیکر مارچ2013ء تک پی پی پی دور حکومت میں متعدد واقعات کو بنیاد بنا کر جمہوری سیٹ اپ کیخلاف سنسنی خیز پیش گوئیوں کے ذریعے انتشار پھیلایا جا تارہا ‘مذکورہ دورمیں مارچ 2009ء میں ججز بحالی کیلئے کیا جانیوالا لانگ مارچ ایسی پیش گوئیوں کی ابتداء تھا‘بعدازاں28 جولائی 2010ء کو آنیوالے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرین سیلاب کی امدادو بحالی کے عمل میں حکومتی کوتاہیوں پر متاثرین کے غیض و غضب کوحکومت گرنے کے سندیسے سے تعبیر کیا گیا۔

اس دوران تیونس ٗمصر اوردیگر عرب ممالک میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں جیسے کسی انقلاب کے پاکستان میں رونما ہو نے کے امکانات بھی ظاہر کئے گئے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے تناظر میں بھی پی پی پی حکومت گرنے اور قبل از وقت انتخابات کی افواہیں زیر گردش رہیں جبکہ پی پی پی حکومت اور عدالت عظمیٰ کے درمیان کشید گی کو بھی انتشار انگیز سیاسی پیش گوئیوں کی بنیاد بنایا گیا ۔پچھلے دور حکومت میں 23دسمبر 2012ء کو ڈاکٹر طاہرالقادری کے جلسہ لاہور کے بعد بھی پی پی پی حکومت کی چھٹی سے متعلق تجزیوں اور تبصروں نے سر اٹھایا جو بالآخر 17جنوری 2013ء کی رات ڈاکٹر قادری اور پی پی پی حکومت کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد ڈکلیریشن کے بعد دم توڑ گئے۔موجودہ جمہوری دور حکومت میں 2014ء سے میڈیا پر سیاسی نجومیوں کی پیش گوئیوں اور افواہوں کا بازار گرم رہا ہے ۔ڈاکٹر قادری نے 2014ء کے وسط میں پہلی بار کہا تھا کا2014ء کا اگست (ن) لیگ حکومت کا آخری سال ہوگا جبکہ شیخ رشید کی قربانی سے پہلے قربانی ہو گی کی بڑھک بھی سب کو یاد ہے جس کا مطلب تھا کہ 2014ء میں بڑی عید سے قبل ہی حکومت رخصت ہو جائے گی ۔مذکورہ دونوں راگ 2014ء کے وسط میں اُس وقت الاپے گئے تھے جب پاکستان عوامی تحریک اورتحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاج نے زور پکڑنا شروع کیا تھا یہ دونوں راگ کئی ماہ تک میڈیا کیلئے نشریات کا پیٹ بھرنے کا سامان فراہم کرتے رہے لیکن نہ تو اگست 2014ء موجودہ وفاقی حکومت کا آخری مہینہ ثابت ہوا اور نہ اس عید قرباں سے پہلے قربانی ہوئی بلکہ پی اے ٹی اور پی ٹی آئی کے دھرنے وابستہ توقعات کی تکمیل میں ناکام ہو ئے۔

بعد ازاں سیاسی نجومی2015ء کو عام انتخابات کا سال قرار دیتے رہے لیکن یہ دعوے بھی غلط ثابت ہوئے جون2016ء میں جب ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے موجودہ وفاقی حکومت پر دوسری جبکہ بحیثیت مجموعی ملک کے جمہوری نظام پر تیسری مرتبہ چڑھائی کا اعلان کیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے اور یہ رواں سال (2016 ) کے ستمبر سے آگے نہیں جائے گی‘ انہی کے ہم نوا پاکستانی سیاست کے ایک اور کھلاڑی شیخ رشید نے بھی فرمایاکہ 2016ء موجودہ حکومت کا آخری سال ہے۔لیکن یہ بھی غلط ثابت ہوا۔گزشتہ ماہ ڈاکٹر قادری نے جب ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو انصاف دلانے کا نعرہ لگاتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک کا اعلان کیا تو سنسنی خیز پیش گوئیوں کے نئے سلسلہ نے جنم لیاجو پاکستان عوامی تحریک اور انکی حامی جماعتوں کے مشترکہ جلسہ لاہور کی ناکامی اور سینٹ انتخابات کے اعلان کے بعد دم توڑ گیا ہے ۔ مذکورہ دس سال کے دوران میاں نواز شریف کی نااہلی ایسا موقع رہا جسے بنیاد بنا کر سیاسی نجومی اپنے سنسنی خیز اظہار خیال کی کامیابی کا ڈھول پیٹتے نظر آئے اس کے علاوہ انھیں ہر مرتبہ حزیمت اٹھانا پڑی ۔میڈیا اداروں کے منتظمین کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا سیاسی نجومیوں کے کہے سے متاثر ہو کر انکے اقوال کو تجزیوں و تبصروں کا محور بنانااور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے میں حصہ ڈالنا قومی مفاد میں ہے یا پھر ان عناصر کی حوصلہ شکنی ؟ پاکستان میں جمہوریت کی بقا و استحکام کا تقاضاہے کہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر غیر یقینی صورتحال کی آبیاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ‘اس سلسلے میں میڈیا اداروں کے منتظمین کو اتفاق رائے سے واضح پالیسی اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔