81

سوچوں کی یکتائی

یہ ایک سمجھ آنے والی بات ہے کہ کوئی بھی گھر اس وقت ہی ٹھیک چل سکتا ہے کہ جب ہر فرد اپنی ڈیوٹی تندہی سے سرانجام دے۔جس کے ذمہ جو کام ہے وہ اسی کوتوجہ سے کرے ‘اگر یسا نہ ہو تو گھر کا نظام بگڑ جاتا ہے‘ اگر ہم گھروں کے ٹوٹنے کا سروے کریں تو اس میں ایک ہی بات نکلتی ہے کہ جس کو جو کام سونپا گیایاجس کو جو کام کرنا تھا اس کے کام میں دوسرے نے مداخلت کی اور اس پر تو تو میں میں شروع ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارانظام تلپٹ ہو گیا اور جس کا جدھر منہ اٹھا چل دیا اور گھر گھر نہ رہا بربادی کا گڑھ بن گیا۔ یہی حال ملکوں کا ہے۔ ملک بھی ایک گھر کی مانند ہوتا ہے جس میں خاندان کے کچھ لوگ بستے ہیں جن کی اپنی اپنی ڈیوٹیاں ہیں‘ان افرا د کو ہم ادارے کہتے ہیں اگر ہر ادارہ اپنا اپنا کام کرے تو گھر ٹھیک چلے گا اور اگر ایک ادارہ دوسرے کے کام میں مداخلت کر ے گا تو پھر گھر کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔اس گھر میں سب سے سپریم یعنی گھر کا بڑا پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ ہی گھر کے باسیوں کیلئے طرز معاشرت بناتا ہے اور جو کچھ وہ بنالے وہ قانون ہو گا اور اس کو ماننا ہر فرد کا فرض ہوتا ہے اس کے بنائے ہوئے ضابطے کو اگر کوئی نہیں مانتا یا اس کے بنائے ہوئے ضابطے کو اگر غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے توگھر کا نظام بگڑ جائے گا‘دوسرا ادارہ یا فرد عدلیہ ہے۔عدلیہ کا کام ان ضابطوںیا قانون پر عمل درآمد کروانا ہے جو بھی ان ضابطوں کیخلاف جاتا ہے تو عدلیہ اسکے خلاف اقدام کرے گی اور اس کے لئے قانون میں دی گئی سزا تجویز کریگی جس کو لاگو کرنے کے لئے مقننہ کا ہی ایک حصہ یعنی پولیس فورس اس پر عمل درآمد کرے گی اگر پولیس اٹھ کر عدلیہ کا کام کرنے لگے یا عدلیہ اٹھ کر مقننہ کا کام کرے گی تو بات بگڑ جائے گی‘اس لئے کہ یہ اس کا کام نہیں ہے‘جس کا کام ہو گا وہ اس کے لئے مہارت رکھتا ہو گا اور کوئی بھی شخص سب کچھ کا ماہر نہیں ہوسکتا اور اگرعدلیہ مقننہ کے ہر کام میں دخل اندازی کرے گی توبھی گھر کا چلنا مشکل ہو جائے گا اور اگر مقننہ ہی ہر کام کو اپنے سر لے گی یعنی عدلیہ کا کام بھی وہی کرے گی تو پھر بھی گھر کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔

مقننہ کا ہی ایک حصہ فوج بھی ہے جس کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے یااور بھی کوئی کام جو مقننہ اس کو تفویض کرے گی اُسے کرنا ہو گا اور اگر فوج مقننہ بننے کی کوشش کرے گی تو بھی گھر کا چلنا مشکل ہو جائے گا اس لئے کہ فوج کو جو کام تفویض کیا گیا ہے وہ اسی کی ماہر ہے اور اس کے علاوہ کوئی کام کرے گی تو مسئلہ بگڑ جائے گا یعنی گھر کا نظام بگڑ جائے گایہی وجہ ہے کہ ادارے اپنا اپنا کام کرتے ہیں او ردوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتے‘ مگر ہمارے ہاں کچھ عرصے سے ہر ادارہ دوسرے کے کام میں مخل ہو رہا ہے‘ جیسے آج کل ہو رہا ہے کہ عدلیہ کے سربراہ عدلیہ کی طرف توجہ دینے کی بجائے دوسری جانب زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ عدلیہ کا اپنا یہ حال ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھر مار ہے‘ سائل رُل رہے ہیں ‘ ایک ایک مقدمہ سالوں چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ ابھی ایک مقدمے کا فیصلہ آیا جو ایک سو سال پہلے دائر کیا گیا تھا اسی طرح بہت سے مقدمات کے حال ہی میں فیصلے �آئے ہیں اور وہ ملزم بری ہوئے ہیں جو سالوں پہلے راہی ملک عدم ہو چکے ہیں‘ہمارے ہاں کسی بھی شریف آدمی کا عدالت میں پیش ہونا بہت ہی برا سمجھا جاتا ہے ۔ چاہے وہ اپنے مسئلے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے یا عدالت میں کوئی دوسرا اسے گھسیٹ لائے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اگر کوئی شریف آدمی عدالت میں گھسیٹ لایا گیا ہے یا اپنے ہی کسی کام کے لئے آیا ہوتو عدالت میں بیٹھے اور آئے ہوئے لوگ جو اس سے واقف ہیں اسے حیرت کی نظر سے دیکھیں گے۔خود راقم کے ساتھ ایساواقعہ پیش آ چکا ہے اسلئے میں تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ عدالت کے احاطے میں جا کر ایک شریف آدمی کو جس خفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

راقم تو خیر ایک عام آدمی ہے اور وہ بھی ایک استاد۔ اور اگر یہی کام ایک وزیر اعظم کو کرنا پڑے تو اس کا کیا حال ہو گا۔ عدالت کے بلانے پر ہر شخص کو اس کے ہاں حاضری لازم ہے مگر اس کی کیفیت ایک جج نہیں جان سکتا اس لئے کہ جج کے لئے راستہ بھی مخصوص ہے اور اس کے لئے کمرہ اور کرسی بھی مخصوص ہے اسلئے ایک جج اس خفت کو محسوس نہیں کر سکتا جو ایک شریف انسان کو اس کے کٹہرے میں جانے اور اُس سے پہلے عدالت کے احاطے میں جانے پرہوتی ہے۔اس لئے عدالت کے معزز ججوں کو کسی شریف انسان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دینے سے قبل اس کی عزتِ نفس کا بھی خیال کرنا چاہئے۔