183

بیرونی ادائیگیوں میں کمی؟

وزیراعظم کے مشیر مفتاح اسماعیل کے اپنے خصوصی انٹرویو میں دئیے گئے اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ معیشت کے شعبے میں فوری طور پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘ وزیراعظم کے مشیر کہتے ہیں کہ حکومت کو بیرونی ادائیگیوں میں 6 ارب ڈالر کی کمی کا سامنا ہے وہ عالمی اداروں اور ڈونرز کی جانب سے 26 ارب ڈالر کے قرضوں اورگرانٹس کی یقین دہانی کے باوجود بڑے انفلوز کی کوئی امید نہیں رکھتے‘ فنانشل منیجر یورو بانڈ کے اجراء کا آپشن اب بھی موجود ہونے کا کہہ رہے ہیں حالانکہ اس سے قبل وزارت خزانہ اس حوالے سے سمری وفاقی کابینہ سے واپس لے چکی ہے‘ بیرونی قرضوں کا بڑھتا بوجھ‘ بیرونی ادائیگیوں کیلئے 6 ارب ڈالر کی کمی کا سامنا توانائی بحران سستے بیرونی قرضوں کے حصول کی کوششیں سب اس بات کی متقاضی ہیں کہ معاشی شعبے میں اصلاحات یقینی بنائی جائیں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے ثمرات سمیٹنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جائے‘ غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی ناگزیر ہے ۔

تجارتی خسارے کو کنٹرول میں لانے کیلئے برآمدات میں اضافہ کرنے کے حوالے سے اہداف کا تعین ضروری ہے ایک ایسے وقت میں جب پورے ملک میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں سیاسی تناؤ کیساتھ سینٹ اور بعد ازاں عام انتخابات کیلئے تیاریاں تیزی سے جاری ہیں ضرورت اس سب کیساتھ اکانومی کے استحکام پر خصوصی توجہ مبذول کرنے کی ہے یہ ایک ایسا ایشو ہے کہ جس میں ہر ایک کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا‘ اس مقصد کیلئے توانائی بحران کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے‘ دوسری جانب عام شہری بے روزگاری کیساتھ مہنگائی کے ہاتھوں شدید مشکلات کا سامنا کررہا ہے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کا گراف مسلسل اوپر جارہا ہے اس ساری صورتحال میں اگر سرکاری سطح پر اکٹھے ہونیوالے اعداد و شمار مثبت اشارے بھی دیں تب بھی غریب اور متوسط شہری کوئی اطمینان نہیں پاسکتا‘ اس شہری کی ریلیف ایسی کنٹرولڈ مارکیٹ سے جڑی ہے جس میں وہ آسانی کے ساتھ خریداری کرسکے اگر ہم نے آج اکانومی کے حوالے سے موجود تقاضوں سے چشم پوشی اختیار کئے رکھی تو آنیوالے کل کی مشکلات سے نکلنا بہت دشوار ہوگا۔

پشاور میں پہلے چڑیا گھر کا افتتاح

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور میں صوبے کے پہلے چڑیا گھر کا افتتاح کر دیا ہے 29 ایکڑ کے رقبے پر محیط پر چڑیا گھر پورے ملک میں نمایاں حیثیت کا حامل ہے منصوبے پر47کروڑ روپے آئی ہے جس میں بچوں کیلئے پلے ایریا اور سائیکلنگ ٹریک بھی موجود ہے پشاور میں تفریح کے حوالے سے چڑیا گھر کا منصوبہ قابل اطمینان ہے‘ اپنی افادیت کیساتھ اس پراجیکٹ کا وقت پر مکمل ہونا بھی ریکارڈ ہے ورنہ حکومتی منصوبے مدت تکمیل کے حوالے سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ ہی بنتے رہے ہیں حیات آباد کیساتھ راحت آباد میں تفریح گاہیں اور اب چڑیا گھر قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اندرون شہر موجود باغات اور پارکس ہنوز حکومتی توجہ کے منتظر ہیں اس کیساتھ شہر میں جی ٹی روڈ پر ایک اچھی اور معیاری تفریح گاہ کی ضرورت کا احساس بھی ناگزیر ہے پشاور میں موجود تمام تفریح گاہوں‘پارکس اور سبزہ زاروں کی دیکھ بھال کیلئے جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے دیکھ بھال کے اس کام میں باغات اور پارکس کے اردگرد ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ کیلئے خصوصی انتظامات بھی ناگزیر ہیں۔