208

بارشیں، برف باری اور سیاحت

وطن عزیز میں کافی انتظار کے بعد ہونے والی بارشوں میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے بارشوں کیساتھ پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ شروع ہونے پر سیاحوں کی بڑی تعداد پہاڑی مقامات کا رخ کرتی ہے، سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کو ترجیح قرار دینے والی مرکز اور صوبوں کی حکومتیں برفباری کے دوران سڑکوں کو کلیئر اور ٹریفک کو رواں رکھنے کے اقدامات میں پوری طرح کامیاب دکھائی نہیں دیتیں جس کے باعث سیاحوں کی بڑی تعداد پہاڑی علاقوں کو جانے کا رسک نہیں لیتی، خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بارش نے ایک دفعہ پھر میونسپل سروسز کی فراہمی کیلئے بہت کچھ کرنے کا اشارہ دیا ہے‘ حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کا حلیہ بہتر بنانے اور عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کیلئے درجنوں بیانات اور اعلانات ریکارڈ پر موجود ہیں، اس ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں تاہم اس حقیقت سے انحراف نہیں کیاجاسکتا کہ حکومتی اقدامات صرف چند علاقوں تک محدود ہیں، شہر کے وسیع وعریض جغرافیے کا تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لینے اور اربن پلاننگ کی مہارت سے حکمت عملی کی ضرورت موجود ہے۔

شہر کی صفائی سے متعلق اعدادوشمار بارش میں کھل کر حقیقی صورت میں سامنے آتے ہیں، سیوریج سسٹم کا آپریشن خود بخود نظر آجاتا ہے،پلاسٹک شاپنگ بیگز سے ماحول کے ساتھ سیوریج لائنوں کی بلاکیج ڈھکی چھپی نہیں رہتی، تعمیراتی ملبہ قاعدے قانون کے بغیر گرایا جانا عوامی مشکلات کی صورت سب کے سامنے ہے اس سب کے باوجود ہر بارش کے بعد پن پوائنٹ ہونیوالے مسائل اگلی بارش میں پہلے سے زیادہ ہی نظر آتے ہیں‘ یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تلخ حقائق کو تسلیم کیاجائے اور آنکھیں بند رکھنے کی روش ترک کی جائے جب تک حقائق کا سامنا نہیں کیا جائے گا اس وقت تک اصلاح احوال کیلئے ثمر آور اقدامات بھی تجویز نہیں ہوں گے۔اس مقصد کیلئے سٹیک ہولڈرز اداروں اور عوامی قیادت کے درمیان رابطہ ناگزیر ہے ۔

عملی نتائج؟

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ہیلتھ سیکٹر میں اصلاحات ریکارڈ پر موجود ہیں اس مقصد کیلئے فنڈز کے اجراء میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ صحت کے شعبے میں خدمات سرانجام دینے والوں کیلئے متعدد مراعات اور سہولیات کا اعلان بھی کیاجاتا رہا ہے۔ ہیلتھ کارڈ کا اجراء بھی ایک بڑا اقدام ہے، سرکاری شفاخانوں کو جدید آلات سے لیس بھی کیا جا رہا ہے اس سب کے باوجود اب جبکہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کو ہے لوگ سرکاری علاج گاہوں میں سہولیات اور خدمات کی فراہمی کے حوالے سے اسی طرح شکایات رکھتے ہیں انہیں بڑے ہسپتالوں کے گیٹ پر مریض کو اندر لے جانے کیلئے ٹرالی اور وہیل چیئر کے حصول سے لیکر اگلے ہر مرحلے میں مشکلات کا سامنا ہے، ایمرجنسی میں پرچی بنانے کیلئے تیمارداروں کے قطار میں کھڑے ہونے پر مریض کراہتے رہتے ہیں جبکہ تشخیص کے مراحل میں ہر شعبے لے جائے جانیوالے مریض لمبی اذیت برداشت کرتے ہیں یہی سلسلہ اور قطاروں میں لگنا آگے بھی جاری رہتا ہے حکومتی اقدامات اسی صورت ثمرآور ثابت ہوسکتے ہیں جب لوگوں کو سہولت آن سپاٹ ملے اور ایسا صرف چیک اینڈ بیلنس کیلئے اوورسائٹ کے نظام اور شکایات کے اندراج اور فوری حل کیلئے اقدامات سے ممکن ہے۔