535

علم والے اور جاہل

تحقیق انسانی ترقی کا بنیادی عنصر ہے‘ گھوڑے سے اترکر آواز سے تیز رفتار ہوائی جہاز ہو یا نت نئے کیمیکلز کی دریافت ہو ‘یہ سب تحقیق کی مرہون منت ہے‘ تاہم چونکہ میرا تعلق طب سے ہے اسلئے میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ دنیا میں تمام بیماریوں کا علاج اسی تحقیق کا نتیجہ ہے خواہ وہ انفیکشن کیلئے پینسلین کی ایجاد ہو یا کسی نئی ٹیکنالوجی کا حصول ہو‘ چنانچہ جب میری مسلسل درخواستوں پر بالآخر ڈاکٹر افشاں زاہد نے حامی بھر لی کہ ہمیں بھی طبی تحقیق پر کچھ پڑھا دیں تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی‘ہم نے ہسپتال کے آڈیٹوریم میں بندوبست کیا اور واللہ کتنی شرمندگی ہوئی کہ ہم جتنی تحقیق کرسکتے ہیں اسکا عشر عشیر بھی نہیں کررہے‘ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے میڈیکل کالج میں میڈیکل سٹودنٹس سے بنیادی تحقیق کی کاوش شروع کی اور اب وہ طلبہ پانچ سالوں میں کئی طبی تحقیقاتی مقالے لکھ کر دنیا میں اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔
تقریب کے شروع میں میں نے خود ہی تلاوت کی اور سورۃ علق کی آیات سے شروعات کیں‘ ’اقراء‘ اللہ کی پہلی آیت تھی جو محمد ؐ پر نازل ہوئی‘ ’پڑھو‘، اللہ نے حکم دیا‘ پھر آگے کہا کہ پڑھتارہ کہ تیرارب بڑا کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا‘میں نے ڈاکٹر صاحبہ کا تعارف کروایا اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیا‘ اسکے بعد ڈاکٹر صاحبہ کی پریزنٹیشن سے سب سے زیادہ ہمارے جونیئر ڈاکٹر متاثر ہوئے‘ ڈاکٹر صاحبہ نے پچھلے دنوں پشاور میں ڈینگی کے مرض اور اسکے اثرات کی مثال پیش کی کہ اس پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ تحقیق ہوئی سوائے پشاور کے‘ اور اسی تحقیق سے اندازہ ہوا کہ وہ ایک عمل جس سے تہکال میں سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے وہ سڑک کی کھدائی کے وقت گندے نالے کا کھلنا تھا۔

اس وقت دنیا میں مسلمان تحقیق اور علم کے لحاظ سے سب سے پیچھے ہیں اور یہ وہ امت ہے جس کو سب سے پہلا حکم پڑھنے کا ملا‘سورۃالزمر کی آیت ہے کہ ’کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے ، کبھی برابر ہوسکتے ہیں؟‘ یعنی علم رکھنے والوں کی رفعت کا اندازہ ہی نہیں لگا یا جاسکتااور آخرکار وہی ہوا کہ وہ امت جس کو پہلا حکم پڑھنے کا ملا، اب بے علم ہوکر ، علم رکھنے والوں کی غلام ہوگئی ہے‘ آخر اس امت پر کون سی ایسی آفت نازل ہوئی کہ اس نے علم سے منہ موڑ لیا اور دنیا کے پسماندہ ترین باشندے بن بیٹھے‘ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ علم رکھنے والے کی جاہل پر کیا فضیلت ہے، وہ ایسی ہے جیسی کہ میری(محمدؐ) ایک عام آدمی پر ہے‘ ایک وقت تھا کہ خطیب مسجد کیلئے تعلیمی معیار یہ تھا کہ اس نے نہ صرف عربی‘اطالوی اور عبرانی زبان میں ماسٹر کیا ہو بلکہ ریاضی، فلسفہ اور فلکیات کا علم بھی رکھتا ہو‘ ترکی کے عجائب گھروں میں آج بھی وہ اشتہار موجود ہے جس میں خطیب کی آسامی کیلئے یہی شرائط درج تھیں‘ اب مجھے علم نہیں کہ کب اور کیسے ہمارے منبر ومحراب سے سوائے قرآن اور زیادہ تر فرقہ وارانہ مسائل کے سوا تمام قسم کے علوم کو حرام قرار دیا گیا‘ وہ علوم جو مسجد نبویؐ میں جنگ بدر کے قیدیوں سے سیکھنا شروع ہوئے انکا کب سے دیس نکالا ہوچکاہے۔
بھارت میں سچر کمیٹی دو ہزار چھ میں بنی اور اس میں مسلمانوں کے پسماندہ رہنے کے اسباب تلاش کئے گئے‘ اس میں ایک عنصر عام پایا گیا اور وہ تھا مسلمان بچوں کا سکول وکالج سے باہر رہنا‘ وہ بچے جو سکول جاتے بھی ہیں ان میں تقریباً نصف نے کبھی کالج یا یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی‘ سکولوں میں بھی سب سے کم شرح مسلمان بچوں ہی کی ہے‘ میرا اپنا آنکھوں دیکھا حال یہ ہے کہ جب آپ بھار ت کے کسی شہر میں بھی صبح باہر نکلتے ہیں۔

۔ تو ہزاروں بچے سکول جارہے ہوتے ہیں اور ان میں سے آدھے سے زیادہ بچوں کے پیروں میں جوتے نہیں ہوتے‘ ان میں مسلمان بچے مشکل ہی سے ملتے ہیں‘بھارت میں ہر سال 531 اول درجے کے پی ایچ ڈی نکلتے ہیں جن میں سے صرف ایک مسلمان ہوتا ہے‘ چلو بھارت میں تو مسلمان منقارِ زیر پر ہیں‘ یونیسکو کی 2003ء کی رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا میں اوسطاً ایک مسلمان سال میں ایک کتاب سے کم پڑھتا ہے جبکہ ایک اوسط یہودی سال بھر میں چالیس کتابیں پڑھتا ہے‘ یورپین اوسطاً سالانہ پڑھنے میں دوسو گھنٹے لگاتے ہیں جبکہ عرب اور بالخصوص مسلمان سال بھر میں اوسطاً چھ منٹ پڑھنے پر ’ضائع ‘ کرتے ہیں۔
کمال کی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے علوم کے مراکز یعنی مساجد سے انگریزی تعلیم کو تو علم مانا ہی نہیں جاتا‘وہیں قرآنی تعلیم بھی محض ناظرہ اور وظائف تک محدود ہے‘اسلامی مدارس کا سارا نصاب محض فرقہ وارانہ مواد پر مشتمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر مدرسہ کسی نہ کسی فرقے کے قبضے میں ہے‘ وہاں دوسرے فرقے کی نہ تو کتابیں پائی جاتی ہیں اور نہ ہی کسی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے افکار پر بھی غور و فکر کریں‘علماء کے درمیان اختلافات کی یہ حد ہے کہ کسی زمانے میں ایک عالم کے بارے میں کہا گیا کہ اگر اس کی قبر پر درخت اُگ آئے اور اسکے پتے ایک بکری کھالے تو اس بکری کا گوشت بھی حرام ہے‘ تاہم اسلام کی بجائے اسلام آباد تک پہنچنے کیلئے ان کو آپس میں مل بیٹھنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔

میری گزارش ہے کہ آپ اگر اپنے بچوں کو کتابوں کے شوقین نہیں بنا سکتے تو کم از کم خود ایک کتاب پڑھ کر اسکا خلاصہ اپنے بچوں کو سنادیا کریں‘ گاڑی میں بیٹھے ہوں تو آڈیو بُکس جو انٹرنیٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ ہوسکتی ہیں، وہی سنادیا کریں‘ اب تو ایسے ایپس آگئے ہیں کہ آپ کے پاس پوری کتاب پڑھنے کا وقت نہیں تو کتاب کا خلاصہ آواز یا تحریر کی شکل میں ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں‘کچھ کیجئے کہ نئی نسل پڑھ کر علم والوں میں شامل ہوجائے اور اس پسماندگی سے نکل سکے۔