270

جوڑ توڑ...... توڑ پھوڑ!

سینیٹ اِنتخابات (تین مارچ) سے قبل جہاں مختلف النظریات سیاسی جماعتوں کے درمیان ’جوڑ توڑ‘ (مخالفت کی بنیاد پر اتحاد اور مخالفت ہی کی بنیادی اختلافات) کا سلسلہ جاری ہے وہیں سیاسی جماعتوں میں ’توڑ پھوڑ‘ کا عمل اِس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ سیاسی اختلافات کا تعلق اصولوں (نظریات کی کسوٹی) پر نہیں ہوتا۔ پہلی مثال تحریک انصاف اور مسلم لیگ (قائد اعظم) کی ہے جنہوں نے پنجاب اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کی نشستوں کے لئے ایک دوسرے کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین حزب اختلاف کی جماعتوں سے ہاتھ ملانے میں شکوک و شبہات کا شکار نظر آتی ہے‘ دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدے کے مطابق ’تحریک انصاف‘ اور ’قاف لیگ‘ اس بات پر متفق ہے کہ جنرل نشستوں پر ایک دوسرے کے امیدواروں کو ووٹ دوسرے درجے پر ترجیح ہوگی‘ جبکہ خواتین کی نشست پر ’قاف لیگ‘ تحریک کی امیدوار محترمہ عندلیب عباس کو پہلی ترجیح پر ووٹ دے گی۔ تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب میں سینیٹ کی جنرل نشست پر سابق گورنر چوہدری سرور جبکہ قاف لیگ کی جانب سے ’کامل علی آغا‘ نامزد ہیں۔ دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سینیٹ انتخابات کے موقع پر خود کو تقسیم نہ ہونے سے بچانے کی کوششیں کر رہی ہے!

مسئلہ ’سینٹ کے لئے سیاسی جماعتوں کی نامزدگیوں (ٹکٹوں) کا ہے جس پر اصول پرستی کے مینار ’’ایم کیو ایم پاکستان‘‘ کے قائدین عملاً دو حصوں میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ چکے ہیں! سیاسی جماعت کی صفوں میں جاری اِس کھینچا تانی کا نتیجہ یہ ہے کہ متحدہ رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر شپ سے فارغ کر کے خالد مقبول کو ان کی جگہ کنوینر منتخب کر لیا ہے جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے متحدہ ورکرز کنونشن منعقد کر کے رابطہ کمیٹی تحلیل کر دی ہے اور سترہ فروری کو جماعتی انتخابات کا اعلان کر دیا ہے! ’’میرے ہونے کا اعتراف کیا ۔۔۔ مجھ سے جس نے بھی اختلاف کیا (شہزاد نیئر)۔‘‘

سینیٹ کے کسی اُمیدوار کی حمایت اور مخالفت متحدہ کے بانی الطاف حسین پر پابندی لگنے کے بعد ’ایم کیو ایم‘ پہلے ہی تین حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ مصطفی کمال اُور اَنیس قائم خانی نے متحدہ سے الگ ہو کر اپنی نئی جماعت ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ قائم کر لی تھی جبکہ ایک دھڑا ’’ایم کیو ایم لندن‘‘ کے نام اور دوسرا دھڑا ’ڈاکٹر فاروق ستار‘ کی قیادت میں ’’ایم کیو ایم پاکستان‘‘ کے طور پر منظرعام پر آیا تھا۔ کراچی میں اُردو بولنے والے مہاجروں کی اکثریت کے نام پر سیاست کا آغاز کرنے والی ’ایم کیو ایم‘ آج اپنی تنزلی کے بدترین دور سے گزر رہی ہے‘ اسکے پاکستان میں موجود دونوں دھڑوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپنے مقاصد کے تحت بطور مُہرا‘ اِستعمال کیا جا رہا ہے تاہم فاروق ستار اور مصطفی کمال اپنااپنا الگ سیاسی شخص قائم کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں‘ گزشتہ چار دہائیوں سے کراچی اور حیدر آباد میں کامیابی کی علامت بنی متحدہ پر جاری کھینچا تانی سے اِس کا سحر ٹوٹتا نظر آیا تو متحدہ کی مخالف جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے سے یہ تاثر قائم ہو رہا تھا کہ وہ متحدہ کے ووٹروں کو اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم پر متحد رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے تاہم سینٹ انتخابات کے موقع پر پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر ’’ایم کیو ایم‘‘ رابطہ کمیٹی اور ڈاکٹر فاروق ستار کے مابین پیدا ہونیوالے نئے تنازع نے متحدہ کے غبارے سے مکمل طور پر ہوا نکال دی ہے۔

فاروق ستار پارٹی صدر کی حیثیت سے ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی کے تمام اہم فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے جس کیلئے وہ پارٹی آئین میں موجود کنوینر کے اختیارات کا حوالہ دیتے رہے جبکہ رابطہ کمیٹی معروف کاروباری شخصیت ’’کامران ٹیسوری‘‘ کو سینٹ کا ٹکٹ دینے کا فاروق ستار کا اعلان گوارا نہ ہوا‘ اور اس کے ارکان کھل کر فاروق ستار کے مدمقابل آ گئے۔ اس وقت فاروق ستار عملاً متحدہ کی صفوں سے باہر نکل چکے ہیں جبکہ الیکشن کمشن نے خالد مقبول کے دستخطوں کے ساتھ جاری ہونے والے سینٹ پارٹی ٹکٹوں کو قانونی طور پرتسلیم کر لیا ہے‘ چنانچہ ’’رابطہ کمیٹی‘‘ کو تحلیل کرنے سے متعلق فاروق ستار کے اعلان کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اُنہیں اب مستقبل کی سیاست کے لئے یا تو مصطفی کمال کی طرح نئی پارٹی بنانا پڑے گی یا سیاست سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنا ہو گی۔ ان کے حوالے سے یہ تاثر ابھی تک برقرار ہے کہ انہوں نے الطاف حسین کے ایماء پر ہی ایم کیو ایم متحدہ کو ایم کیو ایم پاکستان کا نام دیا تھا تاکہ وقتی طور پر الطاف حسین کی پاکستان مخالف سیاست پر پردہ ڈالا جا سکے۔

اب فاروق ستار بھی متحدہ کی سیاست سے آؤٹ ہوئے ہیں تو اس سے یقیناًالطاف حسین کا ہی مستقبل مزید تاریک ہوا ہے‘ جن کے لئے فاروق ستار اُمید کی کرن تھے۔ ’ایم کیو ایم‘ کی سیاست سے جس قدر بھی اختلاف کیا جائے لیکن چونکہ وہ کراچی اور سندھ کے کئی شہروں میں عوامی اکثریت کی حمایت رکھتی ہے‘ جس کا اپنی ذات میں متحد رہنا اُتنا ہی ضروری ہے جتنا کوئی سیاسی جماعت قومی ترقی کیلئے کارکنوں کو متحد و منظم رکھنے جیسا ’بنیادی فریضہ‘ اَدا کرتی ہے لیکن سردست اختیارات کی کھینچاتانی میں ’ایم کیو ایم‘ کو پہنچنے والا نقصان اِس جماعت کی آئندہ عام انتخابات میں کارکردگی کو متاثر کرے گا‘ سیاسی جماعتوں کا اندرونی ڈھانچے کا جمہوری ہونا بھی جمہوریت کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔