403

گرانی کے طوفان پر خاموشی؟

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے جاری سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے پٹرول3.56 جبکہ ڈیزل2.62 روپے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے وفاق کو بھجوائی جانے والی سمری کی منظوری کے ساتھ ہی مٹی کا تیل6 روپے28 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل ایک روپیہ فی لیٹر مہنگا ہوگیا ہے۔ وطن عزیز میں عام شہری پہلے ہی گرانی کی چکی میں بری طرح پس رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو یا پھر حکومت کی جانب سے کوئی ٹیکس یا ڈیوٹی عائد ہو تو اس کا براہ راست اثر صرف عام صارف پر ہی پڑتا ہے۔ کاسٹ آف پروڈکشن میں اضافے سے سرمایہ کار اتنا متاثر نہیں ہوتا دوسری جانب حکومتی سطح پر کوئی ریلیف دی جائے تو اس کا فائدہ عام شہری کو منتقل ہی نہیں ہوپاتا ماسوائے بجلی کے بلوں میں کچھ برائے نام ریلیف کے‘ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ ایک ایسے وقت میں بڑھ کر شہریوں کیلئے مہنگائی کی شدت میں اضافے کیساتھ اذیت کا باعث بن رہے ہیں۔

جب معیشت کی بحالی کیلئے بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے ہیں ایک جانب تجارتی خسارہ بڑھتا دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف گردشی قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے‘ اس سے بڑھ کر قابل تشویش ہے کہ ملک میں پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خود پانی کے بہتر نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ واٹر پالیسی کے مسودے کو صوبوں کیساتھ مشاورت کرکے جلد مکمل کیاجائے‘اس پالیسی میں پانی کے ذخائر19 ملین ایکڑ کی بجائے28 ملین ایکڑ کئے جا رہے ہیں‘ تاہم ایک ایسے وقت میں جب مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں اپنی مدت ختم کرنے والی ہیں اور سیاسی تناؤ اپنے عروج پر ہے‘ سیاسی قیادت سینٹ اوربعد ازاں عام انتخابات کی تیاریوں میں ہے اگر واقعی میں نئی واٹر پالیسی پر مشاورت ہوتی ہے تواسے انتہائی ذمہ دارانہ اقدام قرار دیاجائے گا اس کے ساتھ ہی مستقبل کی اکانومی جڑی ہے جس کی کمزوری نے ملک کو مقروض اور عوام کو پیس کر رکھ دیا ہے۔

کابل سے ہونے والے اعلانات

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے افغان طالبان اور پاکستان کیساتھ امن مذاکرات کا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں طالبان کو سیاسی جماعت کے طورپر قبول کرلیاگیا ہے‘افغان سفیر نے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کیساتھ ملاقات میں افغان صدر کا پیغام پہنچایا ہے‘ اشرف غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے کابل بہتر جگہ ہے‘ اسلام آباد میں وزیرخارجہ خواجہ آصف کہتے ہیں کہ افغان صدر کی طالبان کو مذاکرات کیلئے پیشکش خوش آئند ہے‘طالبان سیاسی قوت ہیں ماضی میں پاکستان امریکہ کی پراکسی کے طورپر استعمال ہوا‘ وزیرخارجہ فارن پالیسی کو متوازن رکھنے کا عندیہ دیتے ہیں‘ پاکستان افغانستان پر روس کی یلغار کے وقت سے اب تک نہایت اہم اور مثبت کردار ادا کرتا چلا آرہا ہے اور خود دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے‘ افغان صدر ہوں یا امریکہ اور اس کے اتحادی ان کیلئے لازم ہے کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کا کردار تسلیم کرنے کے ساتھ پاکستان کے موقف کو بھرپور سپورٹ دیں۔