315

سینٹ الیکشن

وفاقی دارالحکومت‘ فاٹا اور صوبوں کے ریٹائر ہونے والے 52سینیٹرز کی نشستوں کیلئے پولنگ آج ہو رہی ہے‘ خیبرپختونخوا میں خالی نشستوں کی تعداد 11ہے جبکہ فاٹا سے 4ارکان منتخب کئے جائینگے‘ سینٹ کے انتخاب میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو پولنگ سٹیشن قرار دیاگیا ہے‘ پولنگ کے روز ریٹرننگ افسروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کردیئے گئے ہیں‘ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بھی جاری کردیا ہے‘ ماضی میں ایوان بالاکیلئے انتخاب متعدد مرتبہ تنقید کی زد میں رہ چکا ہے اور ہارس ٹریڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں‘ اس مرتبہ مختلف جماعتوں کی جانب سے ماضی کی ایکسر سائز نہ دہرائے جانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں‘عدالت کی جانب سے سابق وزیرا عظم نوازشریف کے بحیثیت پارٹی صدر تمام فیصلے کالعدم ہونے پر مسلم لیگ ن کے اراکین آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے‘ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گزشتہ روز ممبران اسمبلی کو ایک نکاتی ایجنڈے پر اعتماد میں لیا‘ پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہمارا کوئی رکن نہیں بکے گا۔

وہ برسراقتدار آکر ایوان بالا کاالیکشن براہ راست کرانے کا عندیہ دیتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور کسی نے نظام درست کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی‘ دریں اثناء خیبرپختونخوا میں اپوزیشن نے آج پولنگ کے موقع پر اسمبلی میں سپیکر‘ ڈپٹی سپیکر اور وزیراعلیٰ کے چیمبر بند رکھنے کا مطالبہ کیا ہے‘ اپوزیشن نے پولنگ سٹیشن کی حدود میں انتخابی مہم چلانے اور کیمرے ہٹانے کی درخواست بھی کی ہے‘ سینٹ کیلئے پولنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک میں سیاسی تناؤ اپنے عروج پر دکھائی دیتاہے جبکہ سینٹ کے بعد عام انتخابات کیلئے تیاریاں بھی جاری ہیں‘ اس اہم موڑ پر سیاسی جماعتوں کیلئے لازمی ہے کہ وہ پارٹی لیول پر ڈسپلن یقینی بنائیں جب بھی کسی جماعت کے اندر اپنا نظم وضبط درست ہو اسکے ارکان خود کو اس کا پابند ہی تصور کرتے ہیں‘ سیاسی قیادت پر خصوصاً یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایوان بالا جیسے ادارے کیلئے ارکان کے انتخاب میں بریف کیس اور چمک جیسی اصطلاحات کو ہمیشہ کیلئے ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے‘ اسی سے سیاسی قیادت پر عوامی اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا‘ سیاسی عمل مستحکم ہوگا اور اس پر کسی کو تنقید کا موقع نہیں ملے گا۔

ڈرگ کنٹرول‘ فارمیسی ڈائریکٹوریٹ؟

خیبرپختونخوا میں ڈرگ کنٹرول اور فارمیسی سروسز کی فراہمی کیلئے علیحدہ سیٹ اپ بنانے کا عندیہ دیا جارہا ہے‘ ادارے کی ذمہ داریوں میں ڈرگ ٹیسٹنگ اور تجزیاتی امور بھی شامل ہونگے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈرگ کنٹرول فارمیسی ڈائریکٹوریٹ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے‘ وطن عزیز میں کسی نئے ادارے کے قیام کیلئے دفتری کاروائی طویل وقت لیتی ہے‘ جب تک یہ ڈائریکٹوریٹ پوری طرح آپریشنل نہیں ہوجاتا اس وقت تک نئے دفتر کا انتظار کئے بغیر موجودہ سیٹ اپ کو فعال اور سرگرم بناتے ہوئے ادویہ سے متعلق امور کی کڑی نگرانی یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے‘ ادویہ سازی اور مارکیٹ میں دوائیوں کی فروخت انسانی صحت اور زندگی سے جڑا معاملہ ہے جس میں غفلت کی گنجائش ہرگز نہیں ہونی چاہئے‘ ذمہ دار دفاتر کو اس وقت ادویات کے حوالے سے شکایت کو چیلنج سمجھتے ہوئے ایکشن لینا ہوگا‘ ان دفاتر کو یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ محض اعلانات سے عوام کو ریلیف کبھی نہیں ملتی‘ یہ ریلیف عملی اقدامات سے مشروط ہے۔