323

سینٹ الیکشن اور پارٹی ڈسپلن

وطن عزیز میں پارلیمانی جمہوری نظام کا ایک اہم مرحلہ ایوان بالا کی52خالی نشستوں پر انتخاب کیساتھ طے ہوگیا جسکے ساتھ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کیلئے سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں مہیا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے حامی15سینیٹرز منتخب ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی12اور تحریک انصاف 6 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جے یو آئی ف کے منتخب ارکان کی تعداد2 ہے جبکہ جماعت اسلامی کا ایک رکن منتخب ہوا ہے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے5 ارکان منتخب ہوئے جبکہ پنجاب میں ن لیگ کے حامی11 اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے10 اراکین منتخب قرار پائے ہیں فاٹا سے4 کامیاب امیدواروں کا اعلان بھی کردیاگیا ہے ایوان بالا کے الیکشن میں بعض بڑے اپ سیٹ بھی سامنے آئے خیبرپختونخوا میں جے یو آئی س کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور جے یو آئی ف کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نہ جیت سکے جبکہ قومی وطن پارٹی کی امیدوار انیسہ زیب ایوان بالا کی رکن منتخب نہ ہو سکیں ایوان بالا کی خالی نشستوں پر الیکشن کا مرحلہ آتے ہی سیاسی رابطوں کا سلسلہ تیز سے تیز تر ہوتا گیا۔

اس میں اچھی امیدیں بھی تھیں جبکہ چمک اور بریف کیس جیسی اصطلاحات بھی استعمال ہوتی رہیں انتخابی نتائج حسب توقع ہونے کیساتھ بعض بڑے اپ سیٹ بھی لے کر آئے جس پر مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے عمران خان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ارکان اسمبلی کی بولیاں لگائیں جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کہتے ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ کی تمام کوششیں ناکام بنا کر دکھا دی ہیں مریم نواز کا کہنا ہے کہ نوازشریف پھر سرخرو ہوئے ہیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ سینٹ الیکشن ملتوی ہونے سے متعلق افواہوں نے دم توڑ دیا ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی ایوان بالا کی خالی نشستوں پر انتخاب کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کے اندر نظم و ضبط کا جائزہ لے اور پارٹی ڈسپلن کو یقینی بنایا جائے اگلے عام انتخابات کی تیاریوں کے ساتھ قومی اہمیت کے حامل امور پر یکجا ہو کر فیصلے کئے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے اسی سے لوگوں کا سسٹم پر اعتماد بڑھے گا۔

تعلیمی اداروں میں داخلے

وطن عزیز میں رائج تعلیمی کیلنڈر کے مطابق مارچ اور اپریل امتحانات اور نئے داخلوں کے حوالے سے اہمیت کے حامل مہینے ہیں حکومت کی جانب سے فروغ تعلیم کیلئے اقدامات ریکارڈ کا حصہ ہیں تاہم اس کے باوجود غریب اور متوسط طبقے کیلئے داخلے یونیفارم اور کتابیں کاپیاں ایک بڑا مالی بوجھ ہی ہوتا ہے اس میں ضرورت سرکاری اداروں میں داخلوں کے عمل اور کتابوں کی تقسیم جیسے معاملات کی کڑی نگرانی کی ہے دوسری طرف یہ بات بھی بھرپور حکومتی توجہ کی متقاضی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں میں معیار اور چارجز سب ایک قاعدے قانون میں رہیں اس بات پر بھی کڑی نظر رکھنا ہوگی کہ نئے داخلہ دینے والے اداروں میں کوالیفائیڈ اساتذہ موجود ہوں اس سے اگلے مرحلے میں کالجوں میں ہونیوالے داخلوں کیلئے طلباء و طالبات کی تعداد کی نسبت سے پیشگی انتظامات کئے جائیں تاکہ تعلیم کے شعبے میں حکومتی اقدامات ثمرآور ثابت ہوسکیں۔