351

پاکستان کا دوٹوک جواب

وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی ملک اور طاقت کے مفادات کا تحفظ نہیں کریگا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کی پراکسی بنے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد ہم نے پھر وہی غلطی دہرائی جس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں دریں اثناء سلامتی کونسل میں اظہار خیال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے پاکستان سے تعاون حاصل نہیں کیا جاسکتا افغان سفیر کے الزامات مسترد کرتے ہوئے ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اب پروپیگنڈہ مہم بند ہونی چاہیے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کہتی ہیں کہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کررہا ہے اورکلبھوشن کی شکل میں بیسیوں ایجنٹ پاکستان میں سرگرم ہیں وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ امریکہ ہم سے ایسی امید نہ رکھے جو ہم پوری نہ کرسکیں اس سب کیساتھ قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں وزارت خارجہ کے حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے منفی بیان پر امریکہ کو بتا دیاگیا ہے کہ یہ زبان ناقابل قبول ہے تازہ ترین منظرنامے میں امریکہ پاکستان کی بعض شکایات کو درست قرار دینے کیساتھ انہیں رفع کرنیکا عندیہ بھی دے رہا ہے۔

سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کہتی ہیں کہ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت نہیں ہونے دی جائے گی پاکستان کا موقف کلیئر جبکہ خطے میں امن کے لئے کردار ریکارڈ کا حصہ ہے اس کے باوجود ایک جانب بے بنیاد الزام تراشیاں ہوتی ہیں تو دوسری طرف بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں اور بھارتی ایجنسیوں کا پاکستان میں سرگرم ہونا ہے پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے بڑی قربانیاں دے چکا ہے اس سب کیساتھ خو د پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوچکی ہے جسکی بحالی میں سی پیک معاون ہوسکتا ہے تاہم یہ پراجیکٹ بھارت سے ہضم نہیں ہوپارہا پاکستان امریکہ کیساتھ سٹرٹیجک ڈائیلاگ کا خواہاں ضرورہے تاہم تعلقات آگے بڑھانے کیلئے کچھ اصول ہیں پاکستان کا موقف وہی ہے جو کسی بھی آزاد اور خود مختیار ریاست کا ہونا چاہیے اگر امریکہ سمیت کوئی بھی ملک اس واضح اور شفاف موقف کو تسلیم نہیں کرتا تو خود اسکی غیر جانبداری کا نعرہ سوالیہ نشان بن جاتا ہے وطن عزیز کے کلیئر موقف کو سپورٹ سیاسی استحکام سے بھی ملتی ہے جس پر توجہ مبذول کرنا ضروری ہے۔

جعلی ادویات کی فروخت؟

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے سربراہ کو جعلی ادویات کے معاملے کی تفتیش کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ جعلی ادویات کے معاملے پر کسی کو اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کسی بھی ملک میں ادویات کا جعلی اور دونمبر ہونا المیے سے کم نہیں انسانی صحت اور زندگی سے جڑا یہ معاملہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے پول کھولتا ہے وطن عزیز میں غریب اور متوسط مریض علاج کے لئے قرض اٹھا کر اور بعض اوقات اپنے اثاثے فروخت کرکے آتے ہیں ان سے بھاری فیسیں بٹورنے کے بعد انہیں جو دوا دی جائے وہ بھی اگر جعلی ملے تو یہ سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکز اور صوبوں کے ذمہ دار ادارے بھی فوری متحرک ہوکر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔