207

کرپشن اوررزق حلال

اگلے روز ایک خبر کے مطابق نیب نے سی ڈی اے کے ایک سابق چیئرمین کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا اور خیبرپختونخوا کے ایک سابق سینئر افسر کیخلاف بھی کرپشن کے الزام میں تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا‘ یہ دونوں افسران سول سروس آف پاکستان کے اہم ارکان تھے‘ کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ آخر سول سروس سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے سینئر افسران کا یہ انجام دیکھ کر سبق کب سیکھیں گے؟ کس کام کی وہ دولت جس کی وجہ سے اس قسم کے کرپٹ افسران کے بال بچوں کوان کے سکول اور کالج کے کلاس فیلوز یہ کہہ کر یاد کریں کہ ان کے والدین تو چور تھے ڈاکو تھے‘ بے شک اس قسم کے کرپٹ افسران کے بال بچے بی ایم ڈبلیو‘ مرسڈیز یا پراڈو میں گھومتے ہوں گے، کئی کئی کنالوں پر محیط فارم ہاؤسز میں تعمیر شدہ محل نما بنگلوں میں بھی رہتے ہوں اور ہر سال چھٹیاں گزارنے اور شاپنگ کرنے دبئی‘ لندن اور نیویارک بھی جاتے ہوں گے‘ پینے کا پانی بھی ان کے ہاں امپورٹڈ آتا ہوگا‘ پر عام آدمی بھلا ان کی کیاعزت کرے گا؟ یہی نا دو ٹکے کی! اب بھی وقت ہے کہ اس ملک کے سول سرونٹس اپنے لچھن درست کرلیں‘اگروہ آپس میں یہ ایکا کرلیتے ہیں کہ وہ کبھی اپنے سیاسی باس کے کسی غیر قانونی حکم پر لبیک نہیں کہیں گے تو آخر کیا ہو جائیگا؟ کونسا آسمان ان پر ٹوٹ پڑے گا؟زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا ناکہ ان کو او ایس ڈی بنا دیا جا ئیگا‘ گھر میں آرام سے بیٹھ کر وہ تنخواہ لیں گے‘ اس سے آرام دہ اور آسان نوکری بھلا اور کیا ہوگی‘نہ کوئی بک بک اور نہ جھک جھک اور پھر اگر تمام سرکاری اہلکار ایکا کرلیں تو حکومت کس کس کو او ایس ڈی بنائے گی؟آخر اس نے کام بھی تو چلاناہے!پر اپنے سرکاری افسران کا المیہ یہ ہے کہ وہ سرکای گاڑی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے‘ ۔

انکے بال بچوں کو سرکاری گاڑیاں ہی تو سکول اور کالج پہنچاتی اور پھر واپس لاتی ہیں‘ سرکای پٹرول کا بے جا استعمال مال مفت دل بے رحم نہیں تو پھر کیا ہے؟حرام کا چسکا جس کو لگ جائے تو پھر وہ مشکل سے ہی چھوٹتا ہے‘ ویسے ہی تو یہ محاورہ اردو لغت میں نہیں آگیا کہ مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال ہے‘ اگر تو سرکاری اہلکار اس روز روز کی بدنامی‘ گرفتاری اور مقدمات سے واقعی اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں تو وہ قائداعظم کے اس سنہری فرمان پر عملدرآمد کریں کہ وہ حاکم وقت کا کوئی بھی غیر قانونی حکم نہیں مانیں گے‘ ایسا کرنے سے رات کو ان کو بڑے مزے کی نیند آئے گی اور ان کی آنکھ بغیر نیند کی گولی کھائے لگ جایا کرے گی جو ایک بڑی نعمت ہے‘ پر اس کیلئے ان کوخود بھی روکھی سوکھی روٹی کھانے کی عادت ڈالنی ہوگی اور اپنے بال بچوں کو بھی رزق حلال کھانے کیلئے راضی کرنا ہوگا‘یہاں پر ہم اپنے وکلاء کرام سے بھی ایک درخواست کرنا چاہیں گے اور وہ یہ کہ چونکہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ جو ملزم اپنے آپ کو قانونی گرفت سے چھڑانے کیلئے ان کی خدمات مستعار لینا چاہتا ہے وہ کتنے پانی میں ہے‘ لہٰذا وہ کرپٹ لوگوں کے مقدمات نہ لڑا کریں‘ ان پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسی کوئی حرکت نہ کریں کہ جس سے ججوں کی توقیر عوام کی نظروں میں گھٹ جائے کیونکہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کل کلاں عدلیہ کو بے توقیر کرنیوالے وکلاء خود کسی مقدمے میں پھنس جائیں‘ اگر عدلیہ کو آج کمزور کردیاجاتا ہے تو پھر کل وہ ان کو بھی داد رسی دینے کی پوزیشن میں نہ ہوگی۔