482

زرعی شعبے نے کھاد اور ادویہ پر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد: کاشت کاروں نے آئندہ بجٹ میں حکومت سے زرعی ادویہ اور کھاد پر ہرقسم کے ٹیکس ختم، قیمتوں میں کمی، زرعی قرضوں پر مارک اپ 5 فیصد تک محدود اور فی ایکڑ لون کی مالیت بڑھانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

’’ دستاویز کے مطابق آل پاکستان کسان فاؤنڈیشن نے حکومت کو ارسال کردہ بجٹ تجاویز میں زرعی شعبے کیلیے مختلف اقسام کی سبسڈیز کا مطالبہ کردیا اور زور دیا کہ کھاد کی قیمت میں کمی کی جائے، ڈی اے پی کی بوری 1200روپے، یوریا 850 اور پوٹاش 1500 روپے فی بوری دی جائے، اس وقت مارکیٹ میں ڈی اے پی 3100روپے، یو ریا 1400اور پوٹاش 5000 روپے فی بوری دستیاب ہے۔

کاشت کاروں کی نمائندہ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ کاشت کاروں کیلیے25سال کی آسان اقساط میں رعایتی سولر ٹیوب ویل دیے جائیں، زرعی ترقیاتی بینک (زیڈ ٹی بی ایل) کی جانب سے اس وقت کاشت کاروں کو 14فیصد مارک اپ پر جو قرضہ دیا جا رہا ہے ،اسے 3 سے 5 فیصد کیا جائے اور زرعی ترقیاتی بینک کی برانچز کی تعداد بڑھائی جائے، زرعی سیکٹر کیلیے ڈیزل کا ریٹ کم کیا جائے، ڈیزل سے ٹیکس ختم کیے جائیں اور کسانوں کو کم قیمت والے ڈیزل کے کارڈ جا ری کیے جائیں، زرعی ادویہ اور کھاد پر سے ہر قسم کے عائد ٹیکس ختم کیے جائیں، زرعی ادویہ، کھاد اور فصلوں کے بیج، خالص معیاری اور سستے داموں فراہم کیے جائیں، ٹریکٹر سمیت زرعی مشینری پر ٹیکسز ختم کیے جائیں، پانی کی منصفانہ تقسیم کا جدید طریقہ رائج کیا جائے اور محکمہ زراعت کی تشکیل نو کی جائے۔

 آل پاکستان کسان فاؤنڈ یشن کے چیئرمین سید محمود الحق بخاری نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ زرعی سیکٹر پر توجہ دی جائے کیونکہ زرعی سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ہم نے آئندہ مالی سال کیلیے بجٹ تجاویز حکومت کو بھیج دی ہیں اور ہم حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کھاد کی قیمتوں کو کم کیا جائے اور کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں، کسانوں سے متعلقہ تمام محکموں میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جس میں کسانوں کے نمائندوں کو موثر نمائندگی دی جائیں تاکہ زرعی سیکٹر کی پالیسی مرتب کرنے میں کاشت کار حکومت کو بہتر تجاویز دے سکیں۔

سید محمود الحق بخاری نے کہا کہ ملک میں زرعی سیکٹر کو اس وقت پانی کا بھی مسئلہ درپیش ہے، حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کیلیے ڈیمز بنانے پر توجہ دے۔