144

ووٹ کی حرمت

سینٹ کے لئے انتخاب کیا ہوا کہ ایک پنڈورا بکس کھل گیا‘ ہر پارٹی کا الزام ہے کہ اس کے اراکین بک گئے ہیں‘تحریک انصاف کے لیڈر توپورا پورا حساب بھی رکھتے ہیں ‘پہلے وہ نواز شریف کے چھ سو کروڑ کی بات کرتے تھے ‘ خدا جانے اُن کو یہ عددی مقدار کہاں سے ملی مگر وہ چونکہ ایک ایسے لیڈر ہیں کہ جنہوں نے اپنی ساری سیاست ہی شریف خاندان کے اثاثوں پر کی ہے اسلئے وہ اس کاحساب کتاب خوب جانتے ہیں کہ کس نے کتنا لیا اور کس نے کتنا کھایا‘ ان کے مطابق ا نکے کے پی کے اراکین اسمبلی نے اپنا ایک ایک ووٹ چار کروڑ میں بیچا ہے ‘ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ خان صاحب جھوٹ بو ل رہے ہیں اسلئے کہ وہ جہاں دوسروں کا حساب کتاب رکھتے ہیں وہیں وہ اپنو ں پر بھی پوری طرح نظر رکھتے ہیں اس لئے ان کا کہنا ماننا بنتا ہے اب کس کس نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اس کا فیصلہ ذرا مشکل ہے اس لئے انہوں نے اس کا ذمہ وزیر اعلیٰ صاحب کے سپرد کر دیا ہے اب وہ کس کس کو پہچان سکتے ہیں یہ ان کی ہمت پر منحصر ہے اس لئے کہ جب کوئی آدمی خود کو بیچتا ہے تو وہ اس کی اتنی سخت پردہ داری کرتا ہے کہ ایک ہاتھ سے جب وہ لیتا ہے تو دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہونے دیتا تو خٹک صاحب کیسے اس ہاتھ کو ڈھونڈپائیں گے کہ جس نے لیتے وقت دوسرے ہاتھ کو بھی معلوم نہیں ہونے دیا۔ گو یہ بات تو شرم کی ہے مگر ایک بات کا ضرور خیال رکھا جائے کہ یہ لوگ بھی اسمبلی میں اللہ واسطے نہیں آئے اور جس نے پیسہ خرچ کر کے ایک سیٹ حاصل کی ہے تو وہ اس کا فائدہ تو اٹھائے گا۔اس لئے جس نے جتنا فائدہ اٹھا لیا ہے اس پر مٹی ڈالو اور آگے کی سوچو۔

آگے سینٹ کے چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کا انتخاب ہونا ہے اس کے لئے بھی بہت سے لوگ خود کو بیچنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں‘یہاں ہمارے خیال میں کسی کو پکڑنا بہت مشکل ہے‘ہر پارٹی اپنے نمبر پورے کرنے میں لگی ہے‘اور مسلم لیگ کو تو اپنے نمبر پورے کرنے کا یقین ہے اس لئے کہ اسے بہت کم تگ و دو کرنی پڑے گی‘مگر پی پی پی نے تو یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ وہ اپنا چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین ضرور کامیاب کروائے گی اور آصف علی زرداری سے یہ بعید بھی نہیں ہے اور بلاول نے تو یہ کہہ بھی دیا ہے کہ اُن کی پارٹی سینٹ میں سب سے بڑی پارٹی ہے کیوں کہ جن لوگوں کومسلم لیگ ن اپنے اراکین کہتی ہے وہ تو اس کی پارٹی کے ہے ہی نہیں اس لئے کہ وہ ’ آزاد‘ حیثیت سے الیکشن جیت کر آئے ہیں اور آزاد ممبران پر کوئی قدغن نہیں کہ وہ اپنا ووٹ کدھر دیتے ہیں‘ یہ نقطہ دوسری جماعتوں کے لئے الارمنگ ہونا چاہئے‘ اب اس الیکشن میں اگر تجارت ہوتی ہے تو کوئی اس کو چیلنج بھی نہیں کر سکتا۔

اس مول تول سے بچنے کے لئے ایک اچھی تجویز نواز شریف کی طرف سے آئی ہے کہ رضا ربانی ایک ایسی شخصیت ہے کہ اس کے آنے سے پی پی پی کاموقف بھی جیت جاتا ہے اور کسی کو بکنے بکانے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی‘مگر اس پیش کش کو الٹا رنگ دے دیا گیا ہے مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات بھی حرف آخر نہیں ہوا کرتی ‘اور سیاست میں دشمنیاں نہیں ہوتیں بلکہ اختلاف رائے ہوتا ہے‘جیسے عمران خان بھی اس طرف جھکے نظر آتے ہیں کہ وہ پی پی پی کے امیدور کو ووٹ کرنے کو تیار ہیں‘ اس لئے اگر نواز شریف نے پی پی پی کے کسی آدمی کا نام لے لیا ہے تو اس میں کون سا گناہ ہو گیاہے کہ کوئی اسے گگلی کہہ رہا ہے تو کوئی پی پی پی میں پھوٹ ڈالنے کی بات کر رہا ہے۔پی پی پی کی قیادت کی مرضی کہ وہ جیسا بھی امیدوار سامنے لاتی ہے مگر جو بھی آئے گا اس کے لئے خرید و فروخت ہو گی‘اس لئے کہ بیس کی تعداد کو پینتا لیس بنانے کے لئے بہت زیادہ ہاتھ پاؤں مارنے ہوں گے اور اگر ایک اچھی تجویز دشمن کی طرف سے بھی آئے تو اس پر کان ضرور دھرنا چاہئے ویسے سیاست میں زرداری صاحب کو مات دینا ہمارے خیال میں ذرا مشکل ہی ہے اور جہاں ان کے حریف نا اہل بھی ہو چکے ہوں تو بات کچھ زیادہ ہی مشکل بن جاتی ہے۔اب دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے ۔ تاہم جو بھی ہو ہماری دعا ہے کہ پاکستان کے لئے بہتر ہو اس لئے کہ ایک دنیا ہمیں کاٹ کھانے کو تیار ہے۔ہندوستان ایسی سیاست کھیل رہا ہے کہ اس کی کاٹ کے لئے ہمیں پورے اتحاد اور محنت کی ضرورت ہے۔ ایک اچھی سیاسی حکومت ہی اس کاٹے کا علاج ہو سکتی ہے اور اتحاد اس کے لئے بنیادی شرط ہے۔