296

جمہوری عمل کا اہم مرحلہ

ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آج ہو رہا ہے‘ 52خالی نشستوں پر منتخب ہونیوالے ارکان بھی آج ہی حلف اٹھا رہے ہیں‘ صدر مملکت نے اجلاس طلب کرلیا‘ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی دن 12بجے تک جمع کرائے جاسکیں گے‘ چیئرمین کا انتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعے 4بجے ہوگا‘ سپریم کورٹ نے دہری شہریت کے معاملے میں 5سینیٹرز کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کرنے کا حکم دیدیا ہے‘ سینٹ کی خالی نشستوں پر انتخاب کا مرحلہ مکمل ہونے کیساتھ ہی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کیلئے جوڑتوڑ کا سلسلہ شروع ہوا جو تادم تحریر پورے زور وشو ر سے جاری ہے‘ اس دوران کئی نام فیورٹ قرار پائے تو کئی سامنے آنے کے بعد ڈراپ ہوئے‘ ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب جمہوری عمل کا حصہ ہے اور یہ اپنے قاعدے قانون کے مطابق ہی آج مکمل ہونا ہے‘ اس سے پہلے ایوان بالا کی خالی نشستوں پر انتخاب میں سامنے آنیوالے اپ سیٹس نے ہارس ٹریڈنگ کے اشارے دیئے جس پر ہر جانب سے تنقید ہوئی۔

اس ضمن میں بیانات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ وہ حلفاً کہتے ہیں کہ سینٹ الیکشن میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا‘ ان کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ بازار میں پھر رہے تھے ہم نے ووٹ کیلئے کسی کو پیسہ نہ دینے کا فیصلہ کیا‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس ملک میں سیاست بدنام ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنہوں نے ووٹ خریدے ان کا مقابلہ کیاجائیگا‘ وطن عزیز میں سیاسی وجمہوری عمل کو شفاف انداز میں جاری رکھنا سیاسی قیادت کی اہم ذمہ داری ہے سینئر قیادت پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر کسی کو بھی جمہوری اور سیاسی عمل پر تنقید کا موقع نہ فراہم کرے‘ ایوان بالا میں آج چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب مکمل ہونے کیساتھ عام انتخابات کی تیاریاں بھی ہونی ہیں‘ اس سب کیساتھ قومی بجٹ بننا ہے جبکہ قومی نوعیت کے اہم منصوبوں اور فیصلوں کیلئے بھی سیاسی قیادت کو مشترکہ اقدامات اٹھانے ہیں‘اس کیلئے قومی بجٹ ایک اہم موقع ہے‘ اس میزانیے میں عوام کو ریلیف اس صورت مل سکتی ہے جب حکومت پوری سیاسی قیادت کواعتماد میں لے کر اہم امور یکسو کرے‘ اس کیلئے سب کو اکٹھے ہو کر فیصلے کرنا ہونگے‘ ایک دوسرے کی بات سننا ہوگی‘ سیاسی اختلافات اپنی جگہ عوامی ریلیف یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

بنیادی سہولیات کی فراہمی؟

صوبائی دارالحکومت کے متعدد علاقوں میں لوگ ٹیوب ویلوں کی مرمت میں تاخیر کے باعث احتجاج کرتے نظر آتے ہیں‘ موسم گرما میں خصوصاً پانی کی بندش معمول کا حصہ بن جاتی ہے‘طویل لوڈشیڈنگ کے بعد پانی کی سپلائی بحال ہونے پر ٹیوب ویل میں خرابی اذیت ناک صورت اختیار کرلیتی ہے‘ دوسری جانب ٹیوب ویل درست ہوتے ہی بجلی کی ترسیل کے سسٹم میں خرابی پیدا ہونے پر شہری گھنٹوں لوڈشیڈنگ کے بعد پھر اندھیروں میں ہی رہ جاتے ہیں‘ یہی حال سوئی گیس کے کیس میں بھی ہے جبکہ سرکاری شفاخانوں میں خدمات کا معیار تمام تر کوششوں کے باوجود سوالیہ نشان ہی ہے‘ حکومت کو بڑے منصوبوں اور اعلانات کیساتھ بنیادی سہولیات کی بہتر انداز میں فراہمی پر توجہ مبذول کرنا ہوگی جب تک شہریوں کو بنیادی سہولیات نہ ملیں وہ تبدیلی کا احساس نہیں پاسکتے۔