168

پشاور زلمے: مایوس کن کارکردگی!

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے تحت کرکٹ مقابلوں کا تیسرا حصہ ٹیموں کی فتح سے زیادہ سنسنی خیز اِختتامیوں کا مجموعہ ہے۔ کراچی کنگز اورکوئٹہ گلیڈی ایٹر‘ تو کامیاب ہوئیں ساتھ ہی لاہور قلندرز مقابلے سے باہر ہوگئی‘ جس سے امیدیں وابستہ تھیں‘ یوں سب سے پہلے پی ایس ایل سے باہر ہو جانے کا اعزاز قلندروں کو ملا اور اب جہاں دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی کی پیشرفت کو سنگین خطرات لاحق ہیں‘ وہیں پہلے چھ میچز میں صرف ایک شکست کھانے والی ملتان سلطانز بھی مسلسل تین مقابلے ہارکر عرش سے فرش پر واپس آ گئی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ کوئٹہ گلیڈی اِیٹرز پہلی بار پوائنٹس ٹیبل پر نمبر ایک پر پہنچ گئی ہے۔ اس نے اپنے آٹھ مقابلوں میں سے پانچ جیتے اور دس پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ سرفراز احمد کی قیادت‘ معین خان کی کوچنگ‘ ویوین رچرڈز کی نگرانی اُور ’اسمیش برادرز‘ کیون پیٹرسن اور شین واٹسن کی بھرپور فارم کی بدولت اِس وقت ’کوئٹہ بلند مقام کے قریب پہنچ چکی ہے پھر اسلام آباد یونائیٹڈ ہے جو نیٹ رن ریٹ میں تو کوئٹہ سے پیچھے ہے لیکن پوائنٹس اس کے بھی دس ہی ہیں۔ اسلام آباد نے مسلسل چار کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب بھی اس کے تین مقابلے باقی ہیں یعنی اِس وقت بہترین پوزیشن میں ہے۔

کراچی کنگز بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ گو کہ نمبر ایک مقام کھو بیٹھی ہے لیکن جس طرح اس نے آخری مقابلے میں ملتان سلطانزکو ہرایا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر جو جارحانہ رویہ اب دکھارہی ہے‘ اس کے بعد کراچی سے کچھ بھی ممکن ہے‘ کراچی نے سات میچز میں نو پوائنٹس لئے ہیں اور اس کو ابھی روایتی حریف لاہور کے ساتھ‘ پشاور اُور اسلام آباد کے خلاف میچز بھی کھیلنے ہیں۔ ملتان پے در پے مقابلے جیتنے کے بعد دھڑادھڑ شکستیں کھا چکی ہے اور نو پوائنٹس کے ساتھ ہی چوتھے نمبر پر ہے۔ ان مشکل حالات میں ملتان کے لئے دو پہلو انتہائی مایوس کن ہیں‘ ایک تو اس کا نیٹ رن ریٹ جو سرفہرست پانچ ٹیموں میں سب سے کم ہے۔ پھر ’مرے ہوئے کو سو درے‘ مسلسل تین شکستیں‘ وہ بھی اُس وقت جبکہ محض ایک میچ باقی ہے جو اس نے مسلسل فتوحات سمیٹنے والی اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کھیلنا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آخری میچ میں کامیابی ضروری ہے‘ ورنہ ملتان کسی بھی بدترین نتیجے کے لئے تیار رہے۔

پشاور کو دُکھ یہ ہے کہ پی ایس ایل میں سب سے بُرا حال‘ دفاعی چیمپیئن پشاور زلمی کا ہے۔ آٹھ میچز میں صرف تین کامیابیاں‘ پانچ شکستیں اُور محض چھ پوائنٹس! زلمے کے لئے جاری سیزن مایوس کن ہے۔ ایک تو آغاز سے پہلے ہی وہ شکیب الحسن اور ڈیوین براوو جیسے آل راؤنڈرز کی خدمات سے محروم ہوگئی۔ رہی سہی کسر کپتان ڈیرن سیمی اور حسن علی کے زخمی ہونے سے پوری ہوگئی ہے جو کئی میچز نہیں کھیل پائے۔ پھر اِن فارم تمیم اقبال بھی قومی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے چلے گئے یہی نہیں بلکہ شکیب کی جگہ بلائے گئے شبیر رحمان بھی سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کھیلنے تمیم کے ساتھ سری لنکا چلے گئے اور ویسٹ انڈیز کے ایون لوئس ورلڈ کپ کوالیفائرز کھیلنے کے لئے زمبابوے میں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پشاور مسلسل تین ناکامیوں کے بعد اِس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ اگر آخری دونوں مقابلے نہ جیتی تو باہر ہی ہو جائے گی اور اگر جیت بھی گئی تو دوسروں کے نتائج پر اِنحصار کرے گی۔ اِس بار بھی پلے آف میں پہنچیں گی تو چار ٹیمیں ہی لیکن باہر دو بھی ہوں گی یعنی لاہور قلندرز کے ساتھ کوئی اور بھی ٹیم ہمیں دوسرے مرحلے میں نظر نہیں آئی گا۔

کیا وہ پشاور ہوگی یا ملتان یا پھر کوئی اور؟ اس کا فیصلہ اگلے چند دنوں میں شارجہ میں ہوگا‘اِس سے پہلے کہ باقی مقابلوں میں ٹیموں کے امکانات اور کچھ تازہ پیشرفت پر نظر ڈالیں پلے آف مرحلے کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اسی صورت میں ہم جان پائیں گے کہ ٹیمیں کس طرح آگے جا رہی ہیں ابتدائی مرحلہ مکمل ہونے پر پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست دو ٹیمیں پلے آف مرحلے کے پہلے مقابلے میں ٹکرائیں گی اور یہاں جو جیتے گا‘ وہ براہ راست فائنل میں پہنچ جائے گا‘ جو پچیس مارچ کو کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں ہوگا۔ اس مرحلے کے باقی دونوں مقابلے ’’ایلیمنیٹر راؤنڈ‘‘ ہوں گے یعنی جو ہارا‘ مقابلے کی دوڑ سے باہر۔ یہاں ہم پہلے پوائنٹس ٹیبل پر تین اور چار نمبر آنے والی ٹیموں کو کھیلتا دیکھیں گے‘ جس میں ہارنے والی ٹیم تو باہر ہو جائے گی اور جیتنے والی پہلے پلے آف کے شکست خوردہ سے کھیلے گی۔ جو ٹیم جیتی‘ وہ فائنل میں اور جو ہاری وہ باہر۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ براہ راست سیمی فائنلز کھیلنے کے بجائے آخر یہ لمبا راستہ کیوں اختیار کیا گیا؟ دراصل طویل سیزن کھیلنے کے بعد بالائی دو نمبروں پر آنے والی ٹیموں کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ محض ایک شکست اِنہیں دوڑ سے باہر نہ کرے۔ جیتنے والی ٹیم حقدار ہے کہ وہ براہ راست فائنل میں جائے اور جو ہارے‘ اسے بھی یکدم دیس نکالا نہ ملے۔ ملتان اور پشاور دونوں اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر تو مصیبت میں ہیں لیکن اِنہیں ایک اُور پریشانی لاحق ہے کہ مزید کوئی تازہ دم کھلاڑی نہیں ملنے والا! اِن کے مقابلے میں باقی تین ٹیمیں یعنی اسلام آباد‘ کراچی اُور کوئٹہ نہ صرف بہتر مقام پر ہیں بلکہ اُن سب کے لئے بڑی خوش خبریاں بھی ہیں۔