225

پی ایس ایل میں سٹے بازی کی ایک اور کوشش ناکام

دبئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ نے پاکستان سپر لیگ کو کرپشن سے بچانے کے لئے جاسوسی کا جو نیٹ ورک بچھایا ہے اس نے سٹے بازوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک کی ایک اور کوشش ناکام بنادی۔پی سی بی کے حد درجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین دن قبل دبئی کے ہوٹل میں تمام 6 فرنچائز کو ایک اور ہنگامی بریفنگ دی گئی جس میں انہیں پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سٹے باز کی مشکوک سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ 

سٹے باز پاکستان سپر لیگ کو اپنے گھنانے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پی سی بی نے اپنے سیکیورٹی افسران کی مدد سے ٹیموں کو جو بریفنگ دے کر خبردار کیا ہے اس کے مطابق پشاور سے تعلق رکھنے والا ایک سٹے باز دبئی میں ہے جس کی تصویر دکھا کر کھلاڑیوں اور آفیشل کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس شخص کی دبئی میں آمد کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات ہیں۔تصویر دکھا کر ٹیموں کو کہا گیا ہے کہ اگر یہ شخص کسی کھلاڑی سے رابطہ کرے تو اس کی اطلاع فوری طور پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو دی جائے۔

ٹیموں کو بتایا گیا ہے کہ مشکوک شخص کے بارے میں اطلاع آئی سی سی کے جاسوسی والے نیٹ ورک نے دی ہے تاہم کھلاڑیوں اور آفیشلز کو اس شخص سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔پی سی بی کو یہ اطلاع ملی تھی کہ پشاور کا یہ مشہور سٹے باز پی ایس ایل میچوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے دبئی میں ہے۔ پی سی بی کے افسران نے اس شخص کی تصویر ٹیموں کو یہ کہہ کر دینے سے گریز کیا کہ آئی سی سی نے اس تصویر کو شیئر کرنے سے منع کیا ہے۔

مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی سٹے بازوں میں پی سی بی کے مخبر بھی موجود ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔قبل ازیں دبئی میں پی ایس ایل کے پہلے ہفتے کے دوران انٹرنیشنل سٹے بازوں کے نیٹ ورک کی ٹورنامنٹ کو بدنام کرنے کی ایک سازش ناکام ہوگئی تھی اور غیر ملکی گروہ سے تعلق رکھنے والے سٹے باز اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔عمر نامی بنگلہ دیشی سٹے باز کی تصویر بھی کھلاڑیوں کو دکھائی دی گئی تھی اور اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس حلیے کے کسی شخص کو نہیں دیکھا ہے۔ 

تاہم پی سی بی کے تفتیش کاروں نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے صورتحال کا جائزہ لیا، جس کے مطابق عمر اور دوسرا بھارتی سٹے باز ٹیم ہوٹلوں کے قریب دکھائی نہیں دیئے۔البتہ برطانوی کرائم ایجنسی اور آئی سی سی کی جانب سے اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ بین الاقوامی گروہ سے تعلق رکھنے والے دونوں خطرناک سٹے باز دبئی میں موجود ہیں۔اب تیسرے سٹے باز کے بارے میں پی سی بی کو ٹھوس شواہد دیئے گئے ہیں۔