307

قیمتیں بڑھنے کے باوجود کاروں کی فروخت میں 23 فیصد اضافہ

کراچی: مقامی طور پر تیار ہونے والی کاروں، کمرشل گاڑیوں، وین اور جیپ کی قیمتوں میں اضافے کے باجود سالانہ پیداوار 23 فیصد اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 70 ہزار 345 یونٹس رہی۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کے مطابق فروری میں 15 فیصد یعنی 22 ہزار 654 یونٹس تیار کیے گئے جو سال کی پہلی سہ ماہی میں غیر معمولی ہدف ہے۔

دوسری جانب ٹاپ لائن سیکیورٹی کے رائے عمر بشارت نے کہا کہ درآمدی قوانین میں تبدیلی، کم شرح سود پر قرضے کی سہولت اور آن لائن رائڈنگ سروس کے باعث طلب میں اضافہ ہوا۔

پاک سوزوکی کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایم سی ایل) کی فروخت میں سالانہ 25 فیصد اضافہ ہوا۔

پی اے ایم اے کے مطابق پاک سوزوکی مہران کی فروخت میں 30 فیصد، ویگن میں 27 فیصد، کلٹس میں 23 فیصد اضافہ رہا جو فروخت میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں سالانہ 96 ہزار 62 یونٹس کا اضافہ ہے۔

ہونڈا کار کی فروخت ماہانہ 20 فیصد کے ساتھ 4 ہزار 501 یونٹس رہی اس طرح کمپنی کے اشاریوں میں 33 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور 33 ہزار 669 یونٹس فروخت ہوئے۔

پی اے ایم اے کے مطابق ٹویوٹا کی جانب سے محدود وسائل کی وجہ سے ان کی فروخت میں کمی دیکھنے میں آئی جو سالانہ 8 فیصد جبکہ یونٹس کی فروخت میں ماہانہ 2 فیصد کمی ہوئی۔

فروری میں ٹریکٹر کی فروخت میں 11 فیصد اضافہ ہوا، الغازی ٹریکٹرز کی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور ٹریکٹر کی سالانہ فروخت 44 ہزار 627 یونٹس رہی۔

ٹوٹل ٹرک مالی سال 18-2017 میں جولائی سے فروری تک 5 ہزار 859 یونٹس فروخت ہوئے جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد 4 ہزار 677 رہی۔