167

تربیت کی ضرورت

بعض لوگ کہتے ہیں افسر کے آگے اور جانور کے پیچھے سے کبھی بھی نہیں گزرنا چاہئے کیا عجب وہ آپ کو کسی بھی وقت دولتی جھاڑ دے غالباً رضا ربانی سے لگتا ہے کچھ ایسی ہی لغزش ہوئی جو زرداری صاحب کے مزاج پر گراں گزری وہ آپے سے باہر ہوئے اور ان کو انہوں نے سینٹ کی ممکنہ چیئرمینی سے محروم کروانے کی کوشش کی ‘اب یہ صاحب جہاں تک پی پی پی کا تعلق ہے اس کے راندہ درگاہ ہیں تاوقتیکہ زرداری صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہ ہو جائے کہ جسے بلاول ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ ان سے بھاری بھول ہوئی جو انہوں نے پاکستان کو انگلستان سمجھا اور پارلیمنٹ کے فلور پر ایسی ایسی باتیں کیں جو زرداری صاحب کے مزاج پر گراں گزریں بلاول کی کوشش تو بہت ہے کہ وہ رضا ربانی کو آخری وقت میں رسوا ہونے سے بچائیں کیونکہ اس عمر میں اب وہ کس پارٹی میں اپنے لئے کوئی ٹھکانہ ڈھونڈیں گے جس پارٹی میں بھی اگر انہوں نے شمولیت اختیار کی تو وہ ان کو کیسے اس طرح اپنی سرآنکھوں پر بٹھائے گی کہ جس طرح پی پی پی نے انہیں بٹھایا تھا ویسے زرداری صاحب سے اب اگر ان کی نہ بن سکے تو ان کیلئے بہتر یہ ہو گا کہ وہ ایک سائیڈ پر جا کر خاموشی سے بیٹھ جائیں اور اپنی باقی ماندہ زندگی میں کوئی تدریسی عمل کریں کوئی کتاب ہی لکھ ڈالیں آخر ان کے سینے میں کئی راز دفن ہوں گے کہ وہ ارباب اقتدار کے کافی قریب رہے ہیں جن کو اب قوم کیساتھ شیئر کرنے کا وقت آچکا ‘ویسے اب اس ملک میں نظریاتی سیاست کا دور ختم ہو چکا اب صرف اور صرف پیسہ بول رہا ہے پی پی پی میں کسی دور میں معراج خالد ‘ڈاکٹر مبشر حسن‘حنیف رامے ‘ بابائے سوشلزم شیخ رشید مرحوم ‘ جے اے رحیم اور سیف الرحمان کیانی جیسے غریب پرور مخلص لوگوں کی کمی نہ تھی لوگ ان کے بارے میں بھی جانتے ہیں کہ ان کو کس طرح سائیڈ لائن کر دیا گیا اگلے روز میاں محمد نواز شریف اور خواجہ آصف کے ساتھ جو دو واقعات پیش آئے وہ اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ ملکی سیاست سے برداشت عنقا ہو چکی ہے اس قسم کے واقعات میں ملوث لوگ ناقابل معافی ہیں۔

اگر ان کو لگام نہ دی گئی اور قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو کل کلاں کسی بھی سیاست دان کی پگڑی محفوظ نہیں رہے گی اور اس قسم کے واقعات دیگر سیاسی رہنماؤں کیساتھ بھی پیش آ سکتے ہیں ہم نے تو ماضی میں کبھی اس قسم کی حرکات کو ہوتے نہیں دیکھا جمہوریت کو اگر آپ نے اس ملک میں چلانا ہے تو پھر معاشرے کے ہر فرد کو وہ دلائل بھی سننے ہوں گے جو ہو سکتا ہے اس کے کسی نقطہ نظر سے مختلف ہوں اور پھر دلیل کا جواب دلیل سے دینا ہو گا نہ کہ جوتے سے‘ یا کسی پر کوئی رنگ پھینکنے سے‘ امن عامہ کے نفاذ کے ذمہ دار حکام ان دونوں واقعات میں ملوث ملزموں کو نشان عبرت بنائیں اور ان سے کوئی نرمی نہ کریں یہ ان کا لٹمس ٹیسٹ ہو گا سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کا بھی یہ کام ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے ورکروں کی مناسب اخلاقی اور سیاسی تربیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور انہیں شتر بے مہار نہ بننے دیں ساتھ ساتھ سیاسی لیڈر خود بھی الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں کارکنوں کو انتقامی کاروائیوں پر نہ اکسائیں اور نہ کسی کی بے عزتی کی شہ دیں ورنہ کل کلاں ان کا بھی نمبر آسکتا ہے اور یہ ملک انارکی کی طرف تیزی سے چلا جائے گا جس کو کنٹرول کرنا پھر مشکل ہو گا۔