166

فوڈ سیفٹی اتھارٹی سے توقعات

چند روز قبل خیبر پختونخوا میں قائم فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا ایک انٹرویو شائع ہوا تو یا د آیا کہ ہمارے صوبے میں تو یہ اتھارٹی مارچ 2014ء میں منظور ہونیوالے ایک باقاعدہ قانون کے تحت قائم ہوئی تھی اورپچھلے چار سال کے دوران جہاں ایک طرف پنجاب فوڈ اتھارٹی کارکردگی کے میدان میں اہم معرکے سر کرتی آرہی ہے وہیں خیبر پختونخوا کی صوبائی فوڈ سیفٹی اتھارٹی اپنی موجودگی کا احساس تک نہیں دلا پائی‘چار سال قبل خیبر پختو نخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا مقصد پورے صوبے میں اشیائے صرف کے معیار پر نظر رکھنا ‘غیر معیاری‘ کم وزن اور حفظان صحت کے اصولوں سے متصادم اشیائے خوردونوش فروخت کرنیوالوں کیخلاف کاروائی عمل میں لانا اور خیبر پختونخوا کے عوام کوصاف ستھری ‘غذائیت سے بھرپوراشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانا تھااس عرصے کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایسے ایسے معرے سر کئے ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی‘پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں اس قدر زور و شور سے ا پنا کام کیا کہ شیر فروش ہوں یا قصاب ‘کھوکھے والے ہوں یا ریسٹورنٹس والے‘چھوٹے پیمانے پر فوڈ آئٹمز کا کاروبار کرنیوالے ہوں یا بڑے بڑے ہوٹلوں کے مالکان سب کو اپنا قبلہ درست کر لینے میں ہی عافیت نظر آئی۔

وجہ یہ تھی کہ ایک طرف تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے حوالے سے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی اور اشیاء خوردونوش کا بہتر معیار یقینی بنانے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو فری ہینڈ دیا جبکہ دوسری طرف پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسروں اور اہلکاروں نے بھی بڑی جانفشانی اور لگن سے فرائض کی ادائیگی کو اپنا شعار بنایا‘اس عمل کے دوران کسی بھی دباؤیا اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے غیر معیاری اشیاء خوردونوش فراہم کرنیوالی ہتھ ریڑھیوں سے لیکر نامی گرامی ہوٹلوں تک کیخلاف قانونی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں جبکہ ساتھ ساتھ تمام طعام گاہوں کی مجموعی صفائی اور ان میں لائی جانیوالی اشیاء خوراک کا معیار جانچنے کیلئے باقاعدہ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے یوں پنجاب کے مذکورہ اضلاع میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنیوالوں پر مستقل بنیادوں پر نظر رکھی جارہی ہے اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے‘اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی عضو معطل ہی بنی رہی ‘اتھارٹی کے ڈی جی نے مذکورہ انٹرویو میں جو اظہار خیال کیا ہے اس سے کچھ امید تو پیدا ہوئی ہے کہ اب ہمارے صوبے میں بھی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی کاروائیاں نظر آئیں گی‘۔

اگرخیبرپختونخوا میں اشیائے خوردو نوش کی فروخت سے متعلق مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو فی الوقت مارکیٹس میں عمومی طور پر فروخت ہونیوالے فوڈ آئٹمز میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے شہری پورے وثوق سے معیار ی اور حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق کا سرٹیفکیٹ دے سکیں‘ پرچون دکانوں سے لیکر ہول سیل مراکز تک میں فروخت ہونیوالی اشیاء خوردونوش ہوں یا ہتھ ریڑھیوں‘سٹالز‘کھوکھوں‘ موبائل یونٹس اور ریسٹورنٹس پر دستیاب پکوان‘معیار کے معاملے پر صارفین میں اطمینان کم کم ہی پا یا جاتا ہے‘ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ دودھ اور گوشت سمیت اشیائے خوردونوش کی فروخت کے مراکز پر نظر رکھنے‘ ان مراکز کو رجسٹریشن و لائسنسنگ کے دائرے میں لانے اورانھیں معیار و حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کیلئے کل وقتی بنیادوں پر کام کیا جائے اسی طرح چھوٹے بڑے ریسٹورنٹس ‘ ہوٹلز‘ کیفیز ‘ بیکریز اور فوڈ پارلرز وغیرہ اور اشیائے خورودونوش تیار کرنیوالے کارخانوں پر مستقل نظر رکھنا بھی لازمی ہے ‘مختصراََ یہ کہ غیر معیاری اشیائے خور و نوش کی فروخت کا سلسلہ اس قدر مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اور اس سلسلے سے جڑے دکاندار و تاجر حضرات اپنے فرائض و ذمہ داریوں سے اس حد تک غافل ہو چکے ہیں کہ اصلاح احوال فوڈ سیفٹی اتھارٹی کیلئے بہت بڑا چیلنج ہو گا جسکے مقابلے کیلئے اتھارٹی کے سربراہ اور دیگر افسران واہلکاروں کو اپنی توانائیوں کو روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر کام میں لانا ہو گا‘ اب جب کہ اتھارٹی کو وسیع اختیارات کیساتھ ایک فعال و متحرک خود مختار ادارے کی حیثیت سے میدان میں اتار نے کا اعلان سامنے آیا ہے‘عوام شدت سے اس ادارے کو ایکشن میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔