170

ڈاکٹر عبدالرحمن صاحبزادہ کی یاد میں

ڈاکٹر عبدالرحمن صاحبزادہ سے میری دوستی 63 سال پر محیط تھی ہم دونوں اسلامیہ کالج میں ہم عصر تھے اسکے بعد میڈیکل کالج میں بھی قربت رہی اور ہر چند کہ خیبرمیڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ہمارے راستے جدا ہوگئے ہمارا رابطہ بذریعہ خط وکتابت قائم رہا وہ انگلستان میں سرجری کی ٹریننگ حاصل کرنے گئے اور میں امریکہ چلا آیا انگلستان کے بعد وہ کینیڈا گئے وہاں شمالی کینیڈا کے زبردست جاڑوں سے تنگ آکر وہ امریکہ کی ریاست الابامہ چلے گئے جہاں وہ پچیس‘تیس سال پریکٹس کرنے کے بعد واپس پاکستان آگئے۔

عبدالرحمن(میں انہیں ہمیشہ عبدالرخمان کہتا تھا اور وہ بھی اپنے خطوط کے آخر میں عبدالرخمان ہی لکھتے تھے ) کو ادب سے بہت شوق تھا اسلامیہ کالج کے دنوں میں‘ میں کالج کے مجلہ خیبر کا مدیر تھا اسلئے ان کی نگارشات میری نظر سے گذرتی تھیں وہ لیڈی عبدالقادر کی تحریروں سے بہت متاثر تھے اور انکے اکثر افسانوں میں لیڈی عبدالقادر کے افسانوں کی جھلک نظر آتی تھی خصوصاً مابعدالطبیعات اور ماورائی قسم کے افسانوں اور آواگون کے گورکھ دھندوں سے مزین کہانیاں انکی پسندیدہ تھیں میڈیکل کالج میں بھی میرے اصرار پر انہوں نے کالج کے ادبی مجلہ سینا کیلئے لکھا لیکن وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ میں ادیب نہیں ہوں ویسے ہی اوٹ پٹانگ لکھ لیتا ہوں لیکن وہ بہت اچھا لکھتے تھے انکی تحریروں میں مشاہدات کی گہرائی ہوتی تھی جسکی وجہ سے انکی تحریریں بہت دلچسپ ہوتی تھیں۔عبدالرحمن کی تربیت اور شخصیت سازی میں ان کے بہنوئی پروفیسر ادریس باچا کا بہت ہاتھ تھا وہ اسلامیہ کالج اور بعد میں پشاور یونیورسٹی میں اقتصادات کے پروفیسر تھے انکی اعلیٰ تعلیم امریکہ میں ہوئی تھی وہ نہ صرف اپنے مضمون میں ایک مستند اتھارٹی تھے بلکہ انہیں اور بھی کئی علوم پر دسترس حاصل تھی ایک لحاظ سے وہ چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا تھے عبدالرحمن نے اسلامیہ کالج اور میڈیکل کالج میں طالب علمی کا زمانہ باچا صاحب کے گھر گزارا‘آخری دم تک وہ ادریس باچا کی باتیں کرتے تھے کہ کس طرح ادریس باچا کی رفاقت نے انکی زندگی بدل دی۔

ہمارے درمیان کچھ اختلافات بھی تھے ایک زمانے میں وہ کہتے تھے کہ پاکستان میں رہنے والے سب انگریز لوگ جاسوس ہیں وہ اس زمرے میں اسلامیہ کالج کے پروفیسر ایچ ایم کلوز کو بھی لے آتے تھے اب میرے نزدیک پروفیسر کلوز ایک عظیم انسان تھے جنہوں نے خیبرپختونخوا کے لوگوں کی جتنی خدمت کی وہ ہمارے پشتونوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی ایک شخص جس نے اپنا نام زندگی اور اپنا اثاثہ پشتون لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے وقف کردیا ہو وہ کیسے جاسوسی کریگا ہمارے درمیان تین چار مباحثوں کے بعد عبدالرحمن نے کلوز صاحب کے بارے میں اپنا موقف بدل دیا ہمارا دوسرا اختلاف یہ تھا کہ وہ امریکن لوگوں سے شاقی تھے کہ انہوں نے صاحبزادہ صاحب کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں بات یہ تھی کہ امریکہ کی جنوبی ریاست الابامہ میں اکثر سفید فام لوگ کالے یا براؤن لوگوں کو پسند نہیں کرتے میرے دوست کی بنیادی شرافت انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ اپنے حقوق کیلئے لڑیں اسلئے وہ خاموش ہوجاتے تھے میرے خیال سے ان کے واپس پاکستان جانے میں یہ عنصر بھی شامل تھا میرا تجربہ یہ ہے کہ امریکن لوگوں کی اکثریت ایماندار اور شریف النفس ہے وہ کسی کا حق نہیں مارتے اس وقت امریکہ میں ہزاروں پاکستانی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور امریکہ کی اونچے درجے کی درسگاہوں میں پڑھاتے ہیں لیکن اپنا حق لینے کیلئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔عبدالرحمن اپنے لڑکپن میں سرکی دروازہ کے اندر رہتے تھے اندرون شہر میں رہائش کی وجہ سے انہوں نے بہت قریب سے پشاوری کلچر کا مشاہدہ کیا اپنی مشاہدات پر مبنی انہوں نے مجھے ایک 28صفحوں کا خط لکھا تھا جو میں نے اپنی کتاب مٹی کا قرض میں شامل کیا تھا انگریزی زبان میں لکھا ہوا یہ خط پشاور کے ایک علاقے کا مفصل اور انتہائی دلچسپ خاکہ ہے ان کی قوت مشاہدہ کی داد دینی پڑتی ہے۔

گذشتہ کئی سالوں سے وہ دل کے عارضہ میں مبتلا تھے یہ ایک دائمی مرض تھا جسکا وہ علاج تو مکمل کراتے تھے لیکن مرض کی نوعیت اس قسم کی تھی کہ مکمل صحت یابی ممکن نہ تھی وہ باقاعدگی سے ہر مہینے اسلامیہ کالج سینئر الومینائی کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد جاتے تھے اکثر ان سے وہیں ملاقات ہوتی تھی کبھی کبھی ان کی شامی روڈ والی رہائش گاہ پر بھی مل لیتے تھے گذشتہ دسمبر جب اسلام آباد میں ملاقات ہوئی توکہنے لگے امجدورورہ‘ سانس کی تکلیف زیادہ ہوگئی ہے دو قدم چلتاہوں تو سانس پھول جاتا ہے نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک چلتا ہے؟۔صاحبزادہ صاحب ایک منفرد انسان تھے باذوق تھے‘خوش لباس تھے‘خوش گفتار تھے ‘خوش خوراک تھے اور دوسروں کا خیال رکھتے تھے ایسے لوگ بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں وہ خود گذر گئے لیکن دوستوں اور احباب کے لئے بہت خوشگوار یادیں چھوڑ گئے ۔ اللہ مغفرت کرے ‘بڑے کام اور مزے کے انسان تھے۔