290

سینٹ کا انتخابی عمل مکمل

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی ایوان بالا کے چیئرمین منتخب ہوگئے نتائج کے مطابق صادق سنجرانی نے57 جبکہ ا نکے مدمقابل مسلم لیگ ن کے راجہ ظفر الحق نے46 ووٹ حاصل کئے ایوان بالا کی خالی نشستوں پر انتخاب کے شیڈول کیساتھ شروع ہونیوالے اعصاب شکن سیاسی رابطوں کے نتیجے میں گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی عمران خان اور بلاول بھٹو سے ملاقاتیں ہوئیں ان ملاقاتوں کے بعد چیئرمین کے عہدے کیلئے بلوچستان سے منتخب آزادرکن کی حمایت کا فیصلہ سامنے آیا مسلم لیگ ن نے اپنے امیدواروں کا اعلان پولنگ سے چند گھنٹے پہلے کیا ایوان بالا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں پر انتخاب کے ساتھ ہی سیاسی رہنماؤں کے گرما گرم اور تندونیز بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا جو تادم تحریر جاری ہے سینٹ کے اجلاس کے موقع پر مہمانوں کی گیلری میں بھی گرما گرمی نوٹ کی گئی وطن عزیز کی سیاسی فضا میں سینٹ کی خالی نشستوں پر انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ اور چمک کی شکایات سامنے آئیں جن پر کافی روز بحث ہوتی رہی ایوان بالا کی خالی نشستوں اور بعدازاں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں کا انتخاب جمہوری عمل کا حصہ ہے جو گزشتہ روز طے ہوگیا ۔

اس دوران بہت سارے اتارچڑھاؤ سامنے آئے وطن عزیز کی سیاسی فضا میں تناؤ اور گرما گرمی کافی عرصے سے جاری ہے صدر مملکت ممنون حسین نے گزشتہ روز ملک میں عدم برداشت کے بڑھتے رجحان پر دکھ کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ عدم برداشت کا رجحان ملک کو تباہی کی جانب لے جائیگا وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قوم میثاق اخلاق پر متحد ہو جائے صدرمملکت اپنی بات چیت سے ایک قدم آگے بڑھ کر اگر سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور اہم معاملات پر اتفاق پیداکرکے انہیں یکسو کرتے ہیں تو اسے اچھی شروعات ہی قرار دیا جائیگا جمہوری ممالک میں سیاسی اختلافات عیب نہیں یہی جمہوریت کا حسن ہیں تاہم ان اختلافات کیساتھ بعض معاملات پر خصوصی توجہ بھی ناگزیر ہے اس وقت فاٹا اصلاحات سمیت بہت سارے معاملات حل طلب ہیں جن کیلئے سیاسی قیادت کا سرجوڑنا ضروری ہے اسی سے عوام کی ریلیف جڑی ہے اسی سے سیاسی استحکام اور اسکے نتیجے میں مستحکم معیشت ممکن ہو سکتی ہے۔

پیشگی انتظامات سے گریز؟

موسم کے بدلنے کیساتھ وطن عزیز کے دوسرے حصوں کی طرح خیبر پختونخوا اور اس کے دارالحکومت میں مکھی‘ مچھروں کی تعداد میں اضافے کیساتھ بیماریوں کی شرح بڑھ جاتی ہے ہمارے ہاں ذمہ دارمحکموں میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ کوئی بھی مسئلہ جس وقت سنگین صورتحال اختیار کرتا ہے تواس کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور اس وقت تک کافی نقصان ہو چکا ہوتا ہے ڈینگی کے کیس میں درجنوں اموات کیساتھ سینکڑوں لوگ بیماری کی اذیت اور خوف سے گزرے جس کے بعد صفائیاں اور سپرے شروع ہوئے اب بھی موسم گرما کی آمد سے پہلے اگرصفائی اور سپرے کیا جاتا ہے تو شہریوں اور خصوصاً بچوں کا بہت ساری بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے اس میں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کیا ہمارے ہاں ری ہائیڈریشن کیلئے انتظامات آبادی کے تناسب سے کافی ہیں یا نہیں دیکھنا یہ بھی ضروری ہے کہ ماضی کی طرح لوگ بیمار بچوں کو گود میں اٹھائے ایک سے دوسرے شفا خانے نہ بھیجے جائیں نہ ہی ایک ایک بستر پر چار چار بچوں کو لٹایا جائے‘ یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب تمام انتظامات پیشگی کئے جائیں۔