154

ٹیکنالوجی نہ ہونے سے1ارب ڈالرکی زرعی اجناس ضائع ہورہی ہیں

کراچی:  کراچی کے ڈپٹی میئر ڈاکٹر ارشد وہرہ نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں کے ایم سی کو جاری 8 ارب روپے مالیت کے فنڈز کا کسی نجی کمپنی سے آڈٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 ارب روپے کے فنڈز سے بڑے نوعیت کے400 قابل ذکر منصوبوں کی تکمیل ہوسکتی تھی لیکن نمود نمائش کے باوجود 4 قابل ذکر منصوبے بھی نہیں بنائے جاسکے۔

منگل کو کراچی ایکسپوسینٹر میں بارہویں تین روزہ ایگری، رائس اور فوڈ ٹیکنالوجی نمائش کے افتتاح پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے، ٹیکنالوجی نہ ہونے کے باعث 1 ارب ڈالر کی اجناس، پھل و سبزیاں ضائع ہو رہی ہیں، جب تک جدید ٹیکنالوجی اپنائی نہیں جائے گی، ہم اہداف حاصل نہیں کر سکیں گے، صنعتی انقلاب کے لیے چیمبرز، فیڈریشن، وازرتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی، ہماری ٹیکسٹائل برآمدات کا گراف نیچے جارہا ہے، 20 سال قبل گارمنٹ سٹی منصوبے کا اعلان کیا گیا۔جس کا اب کوئی اتا پتا نہیں، یہ منصوبہ صرف کاغذات کی حد تک رہ گیا، اگر اس پر سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کیا جاتا تو 5 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرنے کاذریعہ بن جاتا اوراربوں ڈالر کا ریونیو بھی حاصل ہوتا، پاکستان کے معاشی حب کو پروان چڑھانے کیلیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ ڈپٹی میئر نے ہالز کا دورہ کرتے ہوئے مختلف اسٹالز پر مصنوعات کا معائنہ بھی کیا۔

نمائش میں 150 سے زائد ایگزیبیٹرز مقامی اور بین الاقوامی مصنوعات پیش کررہے ہیں جبکہ 100 سے زائد غیر ملکی وفود شرکت کررہے ہیں، ای کامرس گیٹ وے کے تحت اس نمائش میں 20 ممالک جن میں چین، ترکی، سری لنکا، سوئٹزرلینڈ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، سنگاپور، ملائیشیا، بلجیم اور کوریا کی مصنوعات اور ٹینکالوجی اسٹال سجائے گئے ہیں، 12 اپریل تک جاری رہنے والی اس نمائش میں 50 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔