125

نئے عنوان

پاکستان کی سیاست میں نظریات اور نظریات میں سیاست کا درست تناسب تو معلوم نہیں لیکن سیاستدانوں نے ہر دور میں اپنے قول و فعل سے ثابت کیا ہے کہ ان کا کوئی نظریہ نہیں‘ ذاتی مفاد کے لئے اقتدار اور زیادہ سے زیادہ اختیارات کا حصول ہی انکے پیش نظر رہتا ہے جو جماعتیں نہیں بدل سکتے وہ قبل ازانتخاب اور بعدازانتخاب اتحاد کی صورت نظریات کا سودا کر لیتے ہیں تو یوں ایک پرانی کہانی ہمیشہ نئے عنوان سے آگے بڑھتی رہتی ہے! عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (نواز) کے چھ اراکین قومی اسمبلی اور دو ارکان صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ وجہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ہے جسکی قیادت میر بلخ شیر مزاری کر رہے ہیں‘ جنوبی پنجاب کے حقوق کی اچانک یاد میں مستعفی ہونیوالوں میں خسرو بختیار‘ اصغر علی شاہ‘ طاہر اقبال چوہدری‘ طاہر بشیر چیمہ‘ رانا قاسم نون‘ باسط بخاری جبکہ صوبائی اسمبلی سے سمیرا خان اور نصراللہ دریشک شامل ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ صوبہ پنجاب میں غربت ستائیس فیصد جبکہ جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پچاس فیصد سے زیادہ ہے جبکہ اِنہی غربت زدہ علاقوں سے ماضی میں وزرائے اعظم اور وفاقی و صوبائی وزراء کا تعلق رہا ہے۔ ہر ذی شعوراس ضرورت کا احساس کر رہاہے کہ صوبوں کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئے جس کیلئے بھارت اور جمہوری اسلامی ایران کی عملی مثالیں موجود ہیں‘ ۔

عام انتخابات سے قبل سیاسی توڑ پھوڑ کے عمل میں تیزی معمول کی بات ہے لیگی ارکان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی جبکہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں شمولیت سے انکار کرنے والے آزاد گروپ تشکیل دے رہے ہیں جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نوازشریف نے انتباہ کیا ہے کہ اگر بازو مروڑنے کا عمل یونہی جاری رہا تو نواز لیگ دوہزار اٹھارہ کے انتخابی نتائج تسلیم نہیں کرے گی‘ یعنی ابھی عام انتخابات ہوئے بھی نہیں اور وفاقی حکمران جماعت کے قائد نے نتائج تسلیم کرنے سے ممکنہ انکار کا اظہار کر دیا ہے!قریب ایک درجن ارکان اسمبلی کی طرف سے بغاوت یا اِنحراف کے بعد نواز لیگ کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے‘ جس پر ضبط کرنے کے باوجود بھی ان سے غم و غصے پر ضبط نہیں ہورہا۔ کیا نواز لیگ بھول گئی کہ ماضی میں وہ اِسی قسم کی جوڑ توڑ پر مبنی سیاسی کردار ادا کرتی رہی ہے‘ناراض ارکان جنوبی پنجاب کی محرومی کی بات کرتے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف کا دعوی ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے سب سے زیادہ دورے اور ترقیاتی کاموں کے منصوبوں کا آغاز کیا گیارہ اپریل کو شہباز شریف پشاور تشریف لائے اور انہوں نے اس موقع پر اپنی جس کارکردگی کا ذکر کیا اس کے مطابق پنجاب حکومت نے تعلیم و صحت اور بجلی کی پیداوار جیسے کئی منصوبے مکمل کئے اور میٹرو بس جیسے تیزی سے تکمیل کی طرف گامزن ہیں عجب ہے کہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا اچانک درد محسوس کرنیوالے ارکین اسمبلیوں نے کبھی جنوبی پنجاب کے مسائل یا الگ صوبے کا موضوع ایوانوں میں نہیں اٹھایا‘اپنے پارلیمانی دور میں کبھی کوئی ایسی قرارداد‘ اور نہ کوئی تحریک پیش کی گئی‘ ۔

اس ضرورت کا ذکر تک گزشتہ پانچ سال کے عرصہ میں نہیں ملتا‘ اب جبکہ اسمبلیوں کی مدت کی تکمیل میں محض چند ہفتے باقی ہیں تو ارکان کو جنوبی پنجاب صوبے کی یاد آگئی۔ کیا یہ لوگ جنوبی پنجاب صوبے کا مسئلہ لے کر نواز لیگ کی صوبائی و مرکزی قیادت کے پاس کبھی گئے؟ ایسی کوئی بات خود انہوں نے کی نہ کوئی ایسی خبر شائع یا نشر ہوئی‘بڑی عجلت میں پریس کانفرنس کردی گئی جس سے نواز لیگ میں بے چینی اور توڑ پھوڑ کا تاثر نمایاں ہوتا ہے‘نواز لیگ کے بقول مقتدر حلقے انکی انتخابی کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے آئندہ عام انتخابات میں مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے خواہاں ہیں‘ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے پر ان قیاس آرائیوں کو بھی تقویت ملتی ہے کہ کچھ قوتیں نوازلیگ کو کمزور کرنے کے درپے ہیں اور یہ علیحدگیاں کسی خاص قوت کے اشارے پر ہورہی ہے‘ اب حکومتوں پر اپنے منصوبوں کی تشہیر اور افتتاح پر بھی پابندی لگادی گئی ہے‘ آج ہر قابل ذکر پارٹی کسی نہ کسی صورت حکومت میں ہے‘اس پابندی کا نقصان زیادہ کام کرنے والی حکومت اور پارٹی کوہوگا مگر اراکین اسمبلی کی وفاداریاں اور سیاسی وابستگیاں تبدیل کرانے کا تاثر اگر کسی ایک جماعت کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے تو یقیناًیہ قبل ازانتخابات دھاندلی ہے جسکے بارے میں بھی الیکشن کمیشن کو غور کرنا چاہئے۔