182

نقل کی تدراک

ملک میں میں سالانہ امتحان ہو رہے ہیں‘ٹی وی پر روزانہ ان کا حال بیان ہو رہا ہے‘امیدوار سامنے کتابیں کھول کر نقل کررہے ہیں‘امتحانی عملہ یوں لگتا ہے کہ اسی لئے لگایا گیا ہے کہ امیدوارو ں کو نقل کروا کر پاس کروائے۔کوئی اللہ کا بندہ یہ نہیں کر رہا کہ ان سے نقل لے ہی لے۔ کیا جو عملہ اس بات پر متعین ہے کہ امتحان میں گڑ بر نہ ہو اور اس کے لئے اسے بورڈ اچھی خاصی رقم دے رہا ہے کیا یہ رقم جو وہ بورڈ سے لے گا وہ حلال ہو گی۔ اس لئے کہ جس کام کے لئے اسے امتحانی مرکز پر رکھا گیا ہے وہ کام تو بالکل انجام نہیں دے رہا۔ایک نسل کو چور بنایا جا رہا ہے‘ہم خدا کو کیا منہ دکھائیں گے اور یہ نسل جو کچھ پاکستان کیساتھ کریگی پھر پاکستان کا کیا بنے گا‘سندھ کے سارے سیاسی لیڈر دن رات پنجاب کے پیچھے پڑے ہیں‘کیا ان کو یہ کچھ نظر نہیں آ رہا کہ ایک پوری نسل تباہ کی جا رہی ہے۔ کل کو اگر میرٹ پر نوکریاں دی گئیں تو ان نقل بازوں کو کون پوچھے گا پھر سارے سندھی لیڈر شور مچائیں گے کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ ادھر سندھ میں سکول کے اساتذہ کا یہ حال ہے کہ ان کو سکول کے ہجے نہیں آتے اور برسوں سے حرام کی تنخواہ لے رہے ہیں ان کو بھرتی کرنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہو کہ ایسے لوگوں کو سکول کے اساتذہ کے طور پر بھرتی کیا ہو اہے کہ جن کو اپنانام بھی لکھنا نہیں آتا۔

ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ اندرون سندھ اساتذہ کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی تنخواہ لیتے وقت بھی دستخط نہیں کرتے بلکہ انگوٹھا لگا کر تنخواہ وصول کرتے ہیں‘ اس کے بعد ہمارے سندھی لیڈر چاہے وہ پیپلز پارٹی سے ہوں یا سندھ کی نیشنل پارٹیوں کے ہوں دن رات سندھ کیساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک کا رونا روتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے کہ وہ اپنے لوگوں کو کیا تعلیم دے رہے ہیں‘خورشید شاہ صاحب جیسے لوگ بڑے فخر سے سینے پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ انہوں نے سندھ کے محکمہ تعلیم میں چار ہزار لوگوں کو روزگار دیا ہے‘ بڑی اچھی بات ہے مگر جن کو روزگار دیا ہے انکی اہلیت کیا ہے ؟ وہ محکمہ تعلیم میں بچوں کو پڑھانے کیلئے رکھے گئے ہیں مگر ان کو اپنا نام بھی لکھنا نہیں آتا‘جس استاد کو سکول کے ہجے نہیں آتے وہ بچوں کوکیا تعلیم دے گا‘یہی حال صوبہ خیبر پختو خوا کا ہے‘یہاں تو ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ سی ایس ایس کے امتحان میں نقل چلائی گئی تو وہ امتحان ہی ختم کر دیا گیا تھا‘اگر امتحان میں نقل کروائی جائیگی اور اس کے بعد انٹری ٹیسٹوں میں بھی نقل کی جائیگی اس طرح جو سٹف سامنے آئیگا اس سے کیا امیدیں وابستہ کی جا سکیں گی‘ جب مقابلہ کل پاکستان کی سطح پر ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ نقل خور بچے تو کامیاب نہیں ہو پاتے اور پھر ہمارے ہاں سے آوازیں آنے لگتی ہیں کہ بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائیوں سے ناروا سلوک کرتا ہے مگر ہم نے کبھی بھی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ ہمارے بچوں کو صحیح تعلیم دی جائے ‘۔

ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کا جوحال ہے وہ سب پر عیاں ہے اور یہ بھی کہ جس طرح اساتذہ کرام اپنے سکول کا ریزلٹ بہتر لانے کیلئے جو کچھ کرتے ہیں اور سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کیساتھ جتنا امتحانوں میں سکول انتظامہ‘ والدین اور بچوں کے دوست یار کرتے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے‘اسکے بعد ہم گلہ کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کیساتھ نوکریوں کے سلسلے میں زیادتی کی جاتی ہے‘ملک میں بہت بہترکام نجی تعلیمی ادارے کر رہے ہیں مگر ان کے پیچھے بھی عدالتیں ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہیں اب لگتا ہے کہ مکمل طور پر تعلیم کا بیڑا غرق ہے ۔