176

اصلاحات کی ضرورت

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے وطن عزیز میں لیگل ریفارمز کے آغاز کا اعلان کردیا ہے‘ جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس قانون سازی کااختیار نہیں اور شاید قانون سازوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ قانون سازی کرسکیں‘چیف جسٹس کھلے دل کیساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے قوانین بوسیدہ ہوچکے ہیں‘ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ہمارا سول پروسیجر کوڈ 1908ء میں ترتیب دیاگیا‘ظاہر ہے کہ اسوقت کے حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے قاعدے آج کی ضروریات کسی طور پورے نہیں کرسکتے چیف جسٹس تسلیم کرتے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہے بعض کیس تیس تیس سال سے پڑے ہیں‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالتوں میں پیش ہونیوالا ہر سائل ہر تاریخ پر جیتا اور مرتا ہے‘ لیگل ریفارمز اور انصاف کی فراہمی کیلئے اقدامات کا احساس وادراک اور عملی کوششیں قابل اطمینان ہیں‘۔

جہاں تک اصلاحات کا تعلق ہے تو انکی کامیابی ارضی حقائق کی روشنی میں اقدامات سے جڑی ہوتی ہے‘ ہمارے ہاں اکثر شعبوں میں حکومتی اقدامات صرف اسلئے ثمر آور ثابت نہیں ہوتے کہ ان کیلئے حکمت عملی بند کمروں میں صرف فائلوں کے اندر کاغذات کی روشنی میں ہوتی ہے اور اصل حقائق جاننے کیلئے کوئی سعی نہیں کی جاتی‘ اصلاحات کی ضرورت ہمارے بہت سارے شعبوں میں ہے‘ وفاقی حکومت نے بیوروکریسی میں اصلاحات کا عندیہ دیا تھا‘ اسی طرح خدمات کے اداروں میں بھی بہتری لانا وقت کا اہم تقاضا ہے‘ عالمی کساد بازاری اور وطن عزیز کی معیشت میں اتار چڑھاؤ کیساتھ مارکیٹ کنٹرول کیلئے پرویز مشرف کے دور میں سمیٹے جانے والے مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے اقدامات سرکاری فائلوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور صوبوں کی سفارشات کے باوجود اس معاملے کو یکسو نہیں کیاجارہا‘ کیا ہی بہتر ہو کہ مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل مختلف شعبوں میں اصلاحات پر توجہ دیں اور جو ریفارمز کرچکی ہیں ان کے عملی نتائج یقینی بنائیں۔

گیس کے ٹیرف میں اضافہ؟

ایک جانب وزیراعظم2050ء میں پاکستان کے دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہونے کا عندیہ دے رہے تھے تو دوسری طرف سوئی ناردرن گیس کمپنی نے گیس کے بلوں میں 80فیصد اضافے کی تجویز دیدی‘ تجویز منظور ہونے کی صورت میں 455روپے ایم ایم بی ٹی یو ملنے والی گیس 811روپے میں ملے گی جو 356روپے اضافہ دکھا رہا ہے‘ انگریزی روزنامے کی خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیس یوٹیلٹی اس وقت اربوں روپے کے خسارے میں ہے‘ سوئی سدرن نے بھی ٹیرف میں 23فیصد اضافے کا کہا ہے‘ذمہ دار اداروں کو سب سے پہلے گیس کمپنیوں کے خسارے میں جانے کی وجوہات کا تدارک کرنا ہوگا اوگرا یا کسی بھی اور لیول پر گیس ٹیرف سے متعلق فیصلے میں یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ گیس کا ریٹ بڑھانے سے صرف یوٹیلٹی بل کا حجم نہیں بڑھے گا بلکہ صنعت بھی متاثر ہوگی اور مارکیٹ میں گرانی کا طوفان مزید شدت اختیار کر جائیگا‘یہ بات بھی ہر لیول پر مدنظر رکھنا ہوگی کہ گیس ہو یا کوئی بھی اور شعبہ غلط انتظامی فیصلوں اور چیک اینڈبیلنس کے فقدان کے باعث ہونیوالے نقصانات کا بوجھ عام شہری پر ڈالنا کسی طور مناسب نہیں‘ سب سے پہلے خدمات کے ان اداروں کو سیٹ کرنا ضروری ہے۔