212

ارسطو‘ جالینوس اور ایٹم بم

ایک عمر ٹیلی ویژن سے منسلک ہونے کے باعث میں ٹیلی ویژن سکرین کے سامنے کم ہی بیٹھتا ہوں جیسے ایک ڈاکٹر اگر چھٹی پر ہو تو وہ کسی ہسپتال میں جانا پسند نہیں کرتا‘ جیسے ایک سیاست دان اپنے گھر والوں کے ساتھ نہ فریب کرتا ہے اور نہ ہی جھوٹ بولتا ہے کہ یہ کام تو صرف جلسوں اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں وہ کرتا ہی ہے...یا پھر ایک ملاح جب پرسکون ہوناچاہتاہے تو وہ سمندر سے دور ہو کر خشکی کو ترجیح دیتا ہے...تو ایسے ہی میں بھی اگر پرسکون ہونا چاہتا ہوں تو ٹیلی ویژن سے دور رہتا ہوں کہ ٹیلی ویژن آن ہو تو مجھے لگتا ہے کہ میں ڈیوٹی پر ہوں...لیکن پچھلے کچھ عرصے سے میں ٹیلی ویژن سکرین کا شیدائی ہوگیا ہوں...اس کی سکرین سے تقریباً منہ جوڑے بیٹھا رہتا ہوں کہ ان دنوں تقریباً ہر چینل پر کمال کے مارننگ شوز ہو رہے ہیں اور ان شوز کی میزبانی کرنے والی خواتین نہ صرف خوش شکل ہیں بلکہ ان کے انداز دلربا اور دل فریب ہیں...وہ ہاتھوں میں گجرے پہنے‘ ہاتھ نچا نچا کر ‘ آنکھیں مٹکا مٹکا کریوں آپ سے مخاطب ہوتی ہیں کہ آپ کا جی چاہتا ہے کہ پرانے زمانوں کی مانند آپ بلے بلے کرتے رہیں‘ علاوہ ازیں ان میں ارسطو اور حکیم جالینوس کی روحیں حلول کر چکی ہیں اور وہ دنیا کے ہر موضوع پر مسلسل اور بے تکان بولتی چلی جاتی ہیں اور حکمت کے اتنے موتی بکھیرتی ہیں کہ مارننگ شو کے اختتام پر وہاں موجود لوگ ان پر پھسلتے چلے جاتے ہیں...صرف یہی نہیں ان کو انگریزی زبان پر بھی ملکہ حاصل ہے بلکہ ملکہ الزبتھ حاصل ہے۔

ان کا فقرہ’’ یونو‘‘ سے شروع ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے بازو فضا میں لہرا دیتی ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں...ایک اور پسندیدہ اظہار’’ وہاؤ‘‘ کا ہے جسے وہ بے دریغ استعمال کرتی ہیں...میں شاید اس سے پیشتر بھی حوالہ دے چکا ہوں کہ ایک مارننگ شو میں شاید کوئی ماڈل تھے جو کہہ رہے تھے کہ کل میں نے میٹھے چاول کھائے تھے اور میں بہت اداس تھا...اس سے پیشتر کہ وہ اپنی اداسی کا سبب بتاتے میزبان خاتون نے دونوں ہاتھ نچا کر کہا’’ وہاؤ‘‘ اس پر مہمان ماڈل نے کہا کہ دراصل میری نانی جان فوت ہوگئی تھیں اور ان کے سوئم پر میٹھے چاولوں کی دیگ اتری تھی جو میں نے کھائے...اس پر میزبان خاتون نے ایک اور پرمسرت’’ وہاؤ‘‘ کا نعرہ لگایا اور کہنے لگیں’’ آپ کی نانی جان فوت ہوگئیں...وہاؤ...ہاؤسیڈ‘‘... یہ مارننگ شوز کی میزبانیاں جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں عہد حاضر کے ارسطو اور حکیم جالینوس ہیں بلکہ دقیانوس ہیں‘ آپ کو علم ہوگا کہ دقیانوس بھی ایک یونانی فلسفی تھے تو یہ اگر کسی مہمان کو اپنے شو میں مدعو کرتی ہیں تو محض اس لئے کہ ایک شو میں کوئی نہ کوئی مہمان تو ہونا چاہئے ... ورنہ یہ شو نہیں’’ شی شو‘‘ ہوگا یعنی ون مین شو کے مقابلے میں ون وومین شو... بہرطور میزبانیاں ایسی قادر الکلام ہیں کہ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ان کے آگے پانی بھریں بلکہ شرمندہ ہو کر اپنی مرغوب دودھ کے بغیر چائے پیتے ہوئے اپنے ماتھے سے مسلسل عرق انفعال پونچھتے رہیں ۔

چنانچہ وہ مہمان کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس مہمان کے شعبے کے بارے میں ایسی بصیرت آموز گفتگو کرتی ہیں کہ مہمان بھی دنگ رہ جاتا ہے‘ اور شو کے دوران ایک آدھ مرتبہ مہمان سے بھی اگر کچھ دریافت کرتی ہیں تو کیمرہ مہمان کو نہیں ان کے کانوں کے جھمکے دکھاتا رہتا ہے‘ اکثر شو کے اختتام پر مہمان اپنی نشست میں دھنسا منہ کھولے خراٹے لے رہاہوتا ہے‘ ان مارننگ شوز کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جو کہا جاتا ہے ناں کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے تو یہاں ایک شو میں دو نہیں درجن بھر مزے آپ کو دیکھنے کے لئے مل جاتے ہیں... زندگی کے تمام بھید‘ فلسفے اور نفسیات کے سب پہلو‘ گائیکی کے رنگ‘ ڈانس کے اَنگ‘ اور نخرے ایسے کہ کل دنیا دنگ... ان شوز میں سب سے دلچسپ حصہ جسے ان دنوں سیگ منٹ کہا جاتا ہے وہ ناظرین کی براہ راست ٹیلی فون کالز کا ہوتا ہے‘ کہ باجی آج آپ نے جو کلیجی رنگ کا جوڑا پہن رکھا ہے اس میں آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں‘ جی چاہتا ہے آج دوپہر کے کھانے کے لئے کلیجی بھون لوں اور میزبان خاتون ذرا شرما کر کہتی ہیں‘ چھوڑیں بلو مجھے شرمندہ تو نہ کریں...پھر فون کرنے والی کوئی گھریلو خاتون یا بچی کہتی ہے...باجی آج آپ نے جو جھمکے پہن رکھے ہیں وہ تو آپ کے گول مٹول چہرے کے گرد گویا دو جھولے ہیں‘ ذرا ان کا ڈیزائن تو دکھایئے ان پر باجی مزید لجا کر اپنا چہرہ ذرا آگے کر دیتی ہے اور کیمرہ ان کے جھمکوں پر ذوم ان کر جاتا ہے‘ اور اس لمحے ریاض شاہد کے تحریر کردہ علاؤ الدین کے ادا کئے ہوئے فلم’’ بدنام‘‘ کے مکالمے پس منظر میں گونجنے لگتے ہیں کہ ’’ کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے...کس نے دیئے ہیں یہ جھمکے... سکول کی سطح پر امتحانوں میں اکثر کسی مضمون یا حساب کے مسئلے کے بارے میں طالب علم سے کہا جاتا تھا کہ مثال دے کر ثابت کریں... چنانچہ آپ اگر مجھ سے تقاضا کریں کہ آپ جوکچھ کہہ رہے ہیں کسی مثال کے حوالے سے ثابت کریں تو جناب فرض کر لیجئے کہ ایک نیو کلیئر سائنس دان ایک ایسے ہی مارننگ شو میں مہمان خصوصی ہے تو میزبان اس کا تعارف کیسے کرواتی ہیں اور ان سے کس نوعیت کی گفتگو کرتی ہیں...

ایٹمی سائنس دان کو سکرین پر دکھایا جاتاہے اور پھر فوراً ہی کیمرہ میزبان خاتون کے چہرے پر جاٹھہرتا ہے اور مدتوں وہیں ٹھہرا رہتا ہے اور وہ ناظرین سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں’’ پلیز آج آپ مجھے مت دیکھئے‘ نہ میرے ہاتھوں کے گجروں کو...نہ میرے جھمکوں کو بلکہ ایک ایسے شخص کو دیکھئے جس نے ہماری سرحدیں محفوظ کر دی ہیں‘ ہمارا سرمایہ ایٹم بم ہیں یعنی انہوں نے ایک بم بنا دیا ہے...تو آپ یہ فرمائیں کہ کیا آپ کو بچپن سے ہی بم بنانے کا شوق تھا‘‘؟ ’’ دیکھیں خاتون‘‘ وہ ذرا عاجزی سے کہتے ہیں’’ میں ایک نیو کلیئر سائنس دان ہوں اور...‘‘ مارننگ شوکی میزبان ان کو بات مکمل کرنے نہیں دیتیں اور کہتی ہیں‘ یہ تو کلیئر ہے کہ آپ ایک نیو کلیئر ہیں...لیکن ہمارے ناظرین کو بتائیں کہ ایک ایٹم بم کیسے بنایا جاتا ہے...ہو سکتا ہے کچھ ناظرین گھریلو سطح پر تجربہ کرنا چاہیں...ناظرین کاپی پنسل تیار رکھیں کہ ہمارے مایہ ناز سائنس دان ابھی ابھی آپ کو ایٹم بم بنانے کا نسخہ بتائیں گے‘‘۔ اس پروہ سائنس دان معذرت کرتے ہیں کہ خاتون آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ایٹم بم وغیرہ نہیں بنانا بلکہ ایٹم برائے امن پر یقین رکھتا ہوں‘ اس ملک کی انرجی پرابلمز کو حل کرنے کے لئے تحقیق کرتا ہوں... ’’ نہیں ناں‘‘ خاتون میزبان اپنی نشست سے اٹھ کر اپنی بانہوں میں پڑے گجروں کی نمائش کرتی ہیں اور پھر دوچار گھن گھیریاں کھا کر اپنی نشست پر براجمان ہو کر ناظرین سے مخاطب ہو کر کہتی ہیں ’’ناظرین... اب میں آپ کو بتاتی ہوں کہ ایٹم بم کیسے بنایا جاتا ہے‘‘۔