113

منظر ‘پس منظر

ماہ و سال کے اسباق ناقابل تردید ہوتے ہیں اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر اس بات پر بحث و مباحثہ کریں کہ 1976ء میں مستقبل کی برطانوی وزیراعظم تھیریسا مے کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے بال ڈانس میں ان کے مستقبل کے شوہر سے متعارف کروانے والی شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ بینظیر بھٹو کی تھی‘ تو ہم میں سے بہت لوگ خوشی خوشی اپنا کافی سارا قیمتی وقت اس گفتگو اور پھر اس گفتگو پر ہونے والی گفتگو میں گزار دیں گے‘ دوسری جانب اگر پوچھا جائے کہ آیا برطانوی وزیراعظم تھیریسا مے دنیا کے استحکام کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں تو اس بات کو شاید ایک افواہ قرار دیکر مسترد کردیا جائے مگر یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ ہمیں اکثر گاڑی کے عقبی شیشوں میں خبردار کیا جاتا ہے کہ شیشے میں موجود چیزیں اس سے زیادہ قریب ہوسکتی ہیں جتنی کہ وہ شیشے میں نظر آتی ہیں!اس انتباہ کا اطلاق بین الاقوامی سیاست پر بھی کیا جاسکتا ہے‘ ہم جو دیکھتے ہیں یا جو ہمیں لگتا ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں‘ وہ حقیقت سے کافی مختلف ہوسکتا ہے‘جو چیز دور دکھائی دیتی ہے‘ وہ گھر میں موجود تنازعات کا سبب ہوسکتی ہے‘ماہر سماجی سائنسدان اسے ’ڈائلیکٹِکس‘ کہتے ہیں جسکے تحت دنیا کی ہر چیز کو ہر دوسری چیز سے جوڑا جاسکتا ہے سیلزبری میں ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپل کا زہر کے ذریعے قتل دیکھیں یا باغیوں کے زیر اثر شامی علاقے دومہ میں تازہ ترین کیمیکل حملہ‘ دونوں کے درمیان تعلق دیکھنے کے معقول طریقے موجود ہیں مگر جس طرح خبروں اور معلومات کے ذرائع نامعقول ہوچکے ہیں‘ ایک عام شہری کو اس بحث میں گھسیٹنا مشکل ہوگا‘ جو ان کے نزدیک شیشے پر نظر آنیوالا ایک دور دراز دھبہ ہے تو چلیں ہم فوراً اپنے سامنے موجود حقائق پر بات کرتے ہیں اور پھر ہم انہیں بھی چیک کرسکتے ہیں‘یہ حقیقت ہے اور جھوٹی خبر نہیں ہے کہ نومبر 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنے۔ نہیں؟ پھر جلد ہی ان کے انتخاب کو روسی ایجنٹوں کی کاروائی قرار دے دیا گیا۔

صحیح؟ واقعتاً ٹرمپ ریاست کی خفیہ طاقتوں کو زچ کرتے رہے‘ وہ ولادی میر پیوٹن سے دوستی کرنا چاہتے تھے جبکہ انہوں نے نیٹو کے مقصد پر بھی سوال اُٹھائے‘ وہ ایک قدم اور آگے چلے گئے اور انہوں نے ان کو دی جانیوالی انٹیلی جنس رپورٹس پر یاتوسوال اٹھانے شروع کر دیئے یا پھر انہیں عوام کے سامنے لانا شروع کردیا‘ ڈرائیور کی جانب موجود شیشہ شاید ہمیں بتا رہا ہو کہ ہمیں ڈونلڈ ٹرمپ سے خبردار رہنا چاہئے‘ جنکے بارے میں کئی امریکیوں کیساتھ ساتھ سبھی مانتے ہیں کہ وہ ایک انجان علاقے میں پوری رفتار سے داخل ہوجانا چاہتے ہیں مگر دوسری جانب موجود شیشے پر صرف ایک دھبہ نظر آ رہا ہے اور وہ بھی ایسی لین میں جہاں اسے نہیں ہونا چاہئے‘ جہاں تک آنکھ دیکھ سکتی ہے‘ تو وہاں تک یہ خطرناک دھبہ تھیریسا مے جیسا لگ رہا ہے کھل کر کہیں تو ٹرمپ صرف دنیا کی توجہ ہٹانے کا ایک پتلا ہیں‘ ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکریپل کا روس نے 2010میں امریکہ سے تبادلہ کرلیا تھا اور انہیں حفاظت کی غرض سے برطانیہ بھیج دیا تھا‘انکی بیماری کے بارے میں روسیوں نے سوال پوچھے ہیں بشمول اسکے کہ صدارتی انتخابات کے موقع پر ہی انہیں زہر کیوں دیا گیا؟ یا روس کی جانب سے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی سے بالکل پہلے کیوں؟ یہ شک بھی جائز ہے کہ اسکریپل اور انکی بیٹی کسی ایسے شخص کے حملے کا نشانہ بنے جس کا پردہ اسکریپل کی وجہ سے فاش ہوگیا تھا مگر دوسری جانب ہم یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ آیا کسی ملک کیلئے ایسا زہر تیار کرنا ناممکن ہے جو اصل میں کسی اور ملک نے ایجاد کیا تھا؟یہ سوال اسوقت اہم ہے جب دوسرا فریق دعویٰ کرتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ وہ زہر کون سا ہے‘دوسرے الفاظ میں کہیں تو انکے پاس وہ مواد موجود ہے اور اس سے وہ اسکا تریاق بھی ایجاد کرسکتے ہیں یا ایسا کیوں نہیں کہ اسے محفوظ رکھیں تاکہ حملہ کرکے کسی اور کا نام لگا سکیں؟ ایسا نہیں ہوا تھا مگر اسکی وجہ سے چند سوالات ذہن میں پیدا ہوئے۔

برطانیہ میں ایک سائنسدان کی خسرے سے موت ہوگئی جب 1978ء میں لیبارٹری نے حادثاتی طور پر وائرس چھوڑ دیا تھا‘ جینیٹ پارکر نامی خاتون سائنسدان کی موت نے طبی شعبے کو ہلا کر رکھ دیا‘ اسوقت کی اطلاعات ہیں کہ یہ مان لیا گیا تھا کہ وائرس ایک خسرہ لیبارٹری سے ہوا کی راہداری کے ذریعے ہوتا ہوا جینیٹ کے دفتر میں آ پہنچا‘ یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ سالزبری اور دومہ میں ہونیوالے دونوں حملوں کا الزام روس پر ڈالا جا سکتا ہے‘ زیادہ گہری بحث جان بولٹن کی ٹرمپ کے نئے قومی سلامتی مشیر کے طور پر تعیناتی پر ہوگی انہوں نے ایران کیساتھ جنگ کی حمایت کی ہے اور مبینہ شامی کیمیائی حملہ انکے اِس مقصد کو مضبوط کرسکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ٹرمپ نے روس کے لئے اپنا لہجہ بدل کیوں لیا ہے؟ کیا ریاست کی خفیہ طاقتوں کو آخر ان پر کنٹرول حاصل ہوگیا ہے؟ اگر ہاں‘ تو تھیریسا مے کو اِس بیانیے پر زیادہ کنٹرول ہونا چاہئے‘کیونکہ اگر یہی بات ہے تو یہ ماسکو میں ایک سابق برطانوی ایجنٹ تھا جسکی رپورٹ نے امریکی صدر کے حواس بحال کئے ہیں۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: جاوید نقوی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)