137

حسن اتفاق

پاکستان کی سیاسی و آئینی تاریخ میں ایک سے بڑھ کر ایک نفیس مثالوں کا ذکر ملتا ہے‘ جنہوں نے روڈ میپ دیا یعنی ماضی کے قومی انتخاب کو غلط اور مستقبل کیلئے سیاسی سفر کی نئی سمت کا تعین کیا ہے۔ اِس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کا کردار ہمیشہ ہی سے کلیدی رہا ہے جس نے حسن اتفاق سے گزشتہ دس برس کے دوران تاریخی نوعیت کے متعدد اہم مقدمات کا فیصلہ جمعۃ المبارک کے دن سنایا۔ اِن فیصلوں میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی اور پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دینے سمیت متعدد لائق مطالعہ فیصلے شامل ہیں‘ عدالت عظمٰی نے پرویز مشرف کے ہاتھوں غیر فعال کئے جانیوالے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کا فیصلہ ’بیس جولائی دوہزار سات‘ کو سنایا‘ وہ جمعۃ المبارک کا دن تھا‘ کون بھول سکتا ہے کہ پاناما پیپرز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو ناہل قرار دینے کا فیصلہ اٹھائیس جولائی دوہزارسترہ‘ جمعۃ المبارک کے دن آیا۔ علاوہ ازیں اورنج لائن ٹرین کے حوالے سے بھی غیرمتوقع فیصلہ جمعۃ المبارک ہی کے دن سننے میں آیا‘ سپریم کورٹ نے پندرہ دسمبر دوہزارسترہ بروز جمعۃ المبارک عمران خان اور جہانگیر ترین کی نا اہلی کیلئے حنیف عباسی کی دائر درخواست پر فیصلہ سنائے جانے کا اعلان کیا۔

اسکے علاوہ عدالت عظمیٰ نے اسی روزپندرہ دسمبر دوہزارسترہ جمعۃ المبارک شریف خاندان کیخلاف نیب کی جانب سے دائر حدیبیہ پیپرز مل ریفرنس پر لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کیخلاف احتساب بیورو کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی اپیل مسترد کردی‘ عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی مدت کے تشریحی کیس کا فیصلہ گذشتہ روزسنایا اور اس فیصلے کے تحت نااہل ارکان پارلیمان کی نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی‘ اگرچہ نواز شریف اس مقدمے میں درخواست گزارنہیں تھے لیکن جہانگیر ترین نے اپنی نااہلی پر نظرثانی کیلئے درخواست دائر کی تھی‘تیرہ اپریل کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں صرف حسن اتفاق کے پہلو ہی نہیں بلکہ کئی ایسی باریکیاں بھی پوشیدہ ہیں‘ جن کے ثمرات سے پاکستان میں سیاست و حکمرانی بیک وقت کرنے کے خواب دیکھنے والوں کے پاؤں ایسی دلدلی زمین پر جا ٹھہرے ہیں‘ جہاں محتاط سے محتاط اور صاحب کرداروں کیلئے بھی اپنا توازن برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا! مذکورہ فیصلہ کتنا اہم ہے اور آئندہ عام انتخابات سمیت پاکستان کی سیاست پر اسکے اثرات کیا ظاہر ہوں گے لیکن یہ سوال بھی زیربحث آنا چاہئے کہ نواز شریف کی مسلسل چوتھی مرتبہ ایک ہی عدالت سے نااہلی کے بعد انکے نام سے مسلم لیگ کو کتنا نقصان ہوگا؟ غلام محمد قاصر (مرحوم) نے کہا تھا کہ ’’کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام ...

مجھے تو اُور کوئی کام بھی نہیں آتا۔‘‘ بالکل اسی طرح سیاست کے سوا جنہیں اور کچھ نہیں آتا انکے لئے یہ وقت سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا ہے‘ پاکستان میں ایسے سیاستدانوں کی کمی نہیں جو نسل در نسل صرف اور صرف ذاتی مفادات کی خاطر سیاست کرتے ہیں نواز لیگ کو خیرباد کہنے کا سلسلہ پہلے ہی سے شروع ہے اور اس عدالتی فیصلے کے بعد تو اس میں مزید تیزی آئے گی‘ نواز لیگ شین لیگ کے روپ میں وجود تو رکھتی ہے لیکن اس پر شریف خاندان کی گرفت بتدریج کمزور ہوتی چلی جائیگی نواز شریف کے پاس تاحیات نااہلی سے بچنے کا واحد راستہ احتساب عدالت سے دو سال یا اس سے زائد عرصے کی سزا ہے‘ اگر یہ سزا ہو جاتی ہے تو اِس سے آئین کی شق تریسٹھ کی پہلی شق جز (ہ) کا اطلاق ہو جائیگا جسکے تحت انکی نااہلی کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ عرصے پانچ سال ہوسکتا ہے۔ نواز لیگ اس آئینی نکتے کا فائدہ اٹھانے کیلئے احتساب عدالت سے سزا چاہتی ہے جس کیلئے وہ عدالت کے روبرو دفاع کی بجائے غلطیوں پر غلطیاں کر رہے ہیں۔

اور یہ دروغ گوئی دانستہ ہے تاکہ سزا ہو جائے لیکن عدالت عظمیٰ نے نااہلی کی مدت کا تاحیات تعین کرکے دو اہم کام کئے کیونکہ اگر فیصلے کو پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جاتا تو اس سے حزب اختلاف کی سیاست کرنیوالی تحریک انصاف ملک گیر احتجاج کی راہ لیتی‘ سپریم کورٹ نے اپنے ذمے تنقید لیکر پاکستان کو ارتقائی نظریئے سے روشناس کرایا ہے‘ جس میں مستقبل کی قیادت کا تعلق حسن اتفاق سے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کے سامنے صداقت و امانت کے آئینی مطالب و مفہوم رکھ دیئے گئے ہیں‘ جنکی روشنی میں آئندہ عام انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے والوں کی اہلیت کا فیصلہ ہو گا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حسن اتفاق چاہے کتنا ہی حسین ہو لیکن پاکستان میں سیاستدان بادشاہ گر ہوتے ہیں جن کا سیاسی کردار باآسانی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے قوم کو یہ تو بتا دیا ہے کہ فلاں فلاں صادق و امین نہیں لیکن انہوں نے جو دولت اندرون و بیرون ملک سنبھال رکھی ہے‘ انکی وصولی کون کریگا؟ بدعنوانی سے جمع کیا گیا سرمایہ اپنی جگہ موجود ہے‘ جو انتخابات پر اَثرانداز ہوگا۔