83

سرمایہ کاری برائے مستقبل

کسی ملک یا معاشرے کے رہنے والوں کی صحت کا معیار جانچنے کا عالمی معیار ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس ہے جسکے مطابق دنیا کے188 ممالک میں پاکستان147ویں نمبر پر ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت مثالی نہیں بالخصوص ایک ایسے ملک میں جہاں تعمیروترقی پر صحت سے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے پختہ سڑکیں‘ موٹروے‘ آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں‘ درآمد شدہ آسائشیں ایک طرف اور دوسری طرف اگر آبادی کا نصف سے زائد اگر غذائی قلت کا شکار ہے یا انہیں حسب ضرورت غذا نہیں مل رہی تو قصوروار کون ہے؟ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کے مطابق پاکستان میں فی کس خوراک ملنے کا تناسب اور حسب آبادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اسلام آباد سرفہرست ہے جبکہ ایبٹ آباد اور لاہور دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں‘ جنکا شمار ان اضلاع میں ہوتا ہے کہ جہاں صورتحال نسبتاً بہتر ہے لیکن بدقسمتی سے سندھ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کئی ایسے اضلاع ہیں جن کا شمار انگلیوں پر گننا تک ممکن نہیں کہ جہاں غربت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔

پاکستان میں 58 فیصد خاندان غذائی عدم استحکام کا شکار ہیں جن میں سے قریب 10فیصد ایسے ہیں‘ جنہیں یومیہ ایک وقت کا کھانا تک میسر نہیں اور یہ اعدادوشمار سال دوہزار گیارہ کے سروے سے معلوم ہوئے تھے جسکے بعد سے تاحال نیشنل نیوٹریشن سروے نہیں ہو سکا ہے‘ جس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ماہرین نے قومی صحت کو ترجیح بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے‘ ایبٹ آباد میں صحت سے متعلق عمومی شعور اجاگر کرنے کی غیررسمی نشست میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے دوہزارسترہ میں ہوئی مردم شماری میں صحت سے متعلق اعدادوشمار اکٹھا نہ کرنے پر بھی دکھ کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ سات سالہ پرانے اعدادوشمار کی بنیاد پر قومی اور صوبائی حکمت عملیاں مرتب کرنے کی بجائے بلاتاخیر سروے کروایا جائے قومی وسائل کا بڑا حصہ کم آمدنی والے طبقات کو خوردنی اشیاء کی فراہمی پر خرچ ہونا چاہئے کیونکہ آبادی میں اضافے کا سیدھا سادا مطلب یہی ہے کہ غربت کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

نشست میں فوڈ سیکورٹی اینڈ ٹیوٹریشن سٹریٹجک ریویو فار پاکستان 2017ء نامی حکمت عملی کا بھی سرسری جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی کا 18فیصد خوراک کی کمی کا شکار ہے‘ بچوں کی اکثریت کا وزن انکی عمروں کے تناسب سے کم ہے اور جب تک تعلیمی پالیسی میں خوراک کو شامل نہیں کیا جاتا‘ اسوقت تک بچوں کو لاحق ہونیوالے امراض میں کمی نہیں آئیگی‘حاملہ خواتین کی صحت و خوراک اور بچے کی بعداز پیدائش سے نشوونما کے مختلف مراحل سے متعلق ایک ایسی قومی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں سرکاری طور پر کم آمدنی رکھنے والے طبقات کی مالی سرپرستی کی جائے‘ اس سلسلے میں مغربی ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں عوام کی قوت خرید ہونے کے باوجود بھی حاملہ خواتین اور نومود بچوں کو حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور انکی خوردنی ضروریات پوری کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں نہ صرف بچوں کی جسمانی نشوونما بہتر ہوتی ہے بلکہ انکی ذہانت کا معیار بھی پاکستان سے کئی درجے بلند ہوتا ہے۔