104

ہوش کے ناخن

یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ ماڈل لاہور میں جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے قابل مذمت واقعات کی بھرپور مذمت اور ملوث کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت کا ہے‘ جس سے کسی کو بھی نہ تو سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور نہ ہی ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے جس سے جرم کرنے اور جرم پر ابھارنے والوں کو فائدہ ہو۔ ’’میرے خلاف گواہی میں پیش پیش رہا ‘وہ شخص جس نے مجھے جرم پر اُبھارا تھا۔‘‘ پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں عدالتوں پر حملے ہوئے لیکن اس مرتبہ جج کی رہائش گاہ نشانہ بنی ہے جسکا مقصد معزز جج کے اہل خانہ کو احساس دلانا ہے کہ وہ کتنے غیرمحفوظ ہیں! جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر حملے کی آصف علی زرداری اور چودھری شجاعت حسین نے جوڈیشل اِنکوائری کا مطالبہ کیا ہے‘ جسے بیجا نہیں کہا جا سکتا۔ جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے شریف خاندان اسحاق ڈار کیخلاف نیب میں دائر ریفرنسز میں پیشرفت کی نگرانی کر رہے تھے‘ ان ریفرنسز میں اگلے ماہ فیصلہ متوقع ہے‘ مسلم لیگ نواز کے کچھ رہنماؤں نے نوازشریف کی نااہلیت‘ انکو پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹانے اور گزشتہ دنوں تاحیات نااہلی کے فیصلے پر تنقید کی ہے احتساب عدالت کی نگرانی کے فیصلے کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا مگر کسی سیاسی رہنما کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں دی گئی۔

فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے کا اظہار ہوتا رہا مگر ان پر عمل سے گریز نہیں کیا گیا۔ نوازشریف خاندان عدالتوں میں اپنی جنگ لڑ رہا ہے کسی بھی سیاسی قوت کی طرف سے ججوں پر حملوں کی جرات نہیں ہو سکتی البتہ تیسرے فریق کی طرف سے سیاسی صورتحال مزید بگاڑنے کی سازش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘پاکستان کے سیاسی حالات نارمل نہیں حکومت اپنی آئینی مدت سے گنتی کے چند ہفتوں کی دوری پر ہے‘ کچھ حلقے عام انتخابات کے انعقاد کے یقینی ہونے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں‘کچھ کی طرف سے برملا نگران سیٹ اپ کو دو تین سال توسیع دینے کی تجاویز اور مشورے دیئے جا رہے ہیں‘ اسکے لئے یقیناًکوئی آئینی گنجائش نہیں ہے‘ غیر آئینی اقدام کیلئے کوئی سانحہ برپا کیا جا سکتا ہے‘ قوم اور محب وطن حلقوں کو فاضل جج اعجاز الاحسن کی حملے میں سلامتی پر شکر ادا کرنا چاہئے سازشی خدانخواستہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تو جمہوریت کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا تھا ایسے منصوبہ ساز اپنے مذموم مقاصد کی بارآوری کے لئے آئندہ بھی کوئی تماشا لگانے کی سازش کر سکتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن پر حملے کو جمہوریت کیخلاف خطرے کی گھنٹی کے طور پر لینا چاہئے اوّل تو عدالتوں پر کوئی دباؤ نہیں اگر کوئی دباؤ ڈال رہا بھی تو عدالتیں اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں نوازشریف کے بارے میں آئندہ ماہ احتساب عدالت کا فیصلہ متوقع ہے‘۔

جس میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے تاہم جو بھی فیصلہ آتا ہے ماضی کے فیصلوں کی طرح اس پر بھی عمل ہوگا‘فیصلہ اگلے ماہ آئے یا اس میں کوئی تاخیر ہو‘ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘البتہ جمہوریت کو گزند پہنچے‘ اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے‘یہ محض کرنے کی باتیں ہیں کہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ آیا تو ایسا احتجاج ہوگا جسے برداشت نہیں کیا جا سکے گا‘ فیصلہ نگران حکومت کے دوران آیا تو شہبازشریف کی قیادت میں نواز لیگ انتخابی معرکے کی تیاری میں مصروف ہو گی‘ایسے لوگوں کے ارمانوں پر بھی پانی پھیرنے کی ضرورت ہے جو دوہزاراٹھارہ کے عام انتخابات کے انعقاد کو مؤخر کرنے کے لئے سرگرم ہیں‘ ایسی قوتوں کو فوری طور پر شکست دینے کی ضرورت ہے‘اسکے لئے ضروری ہے کہ عام انتخابات کی تاریخوں کا بلاتاخیر اعلان کر دیا جائے تاکہ کسی کے ذہن میں تاخیر یا عدم انعقاد کا گمان نہ رہے‘جس سے سازشی ناکام اور انکی سازشیں اپنی موت آپ مر جائیں گی اور قوم کو بھی تیاری کا موقع ہاتھ آ جائے گا۔لمحہ فکریہ ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر بارہ گھنٹے میں دو مرتبہ فائرنگ ہوئی لیکن کسی بھی حملہ آور کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی‘ جس سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی سمجھنا قطعی مشکل نہیں‘لاہور صوبہ پنجاب کے ان چند شہروں میں شامل ہے جس کا 70فیصد شہری علاقہ بشمول ماڈل ٹاؤن جیسا حساس علاقہ ڈولفن فورس نامی خصوصی دستے کی عقابی نظروں تلے ہے‘ سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمرے بھی ہر کھمبے پر نصب دکھائی دیتے ہیں لیکن نامعلوم افراد واردات کر کے چلتے بنے! کسی جج کے گھر پر یوں فائرنگ ہونا افسوسناک ہے‘ ججز کی سکیورٹی پر سنجیدہ نوعیت کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں‘ کون نہیں جانتا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی شہرت دیانتدار جج کی ہے‘وہ جون دوہزارسولہ کو سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے‘ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے‘ اس دوران ان کے سامنے انتہائی اہم کیسز رہے‘ جنکے انہوں نے انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے دیئے۔