161

جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر دوبارفائرنگ سے متعلق ابتدائی رپورٹ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کو ارسال کردی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گولی کافی فاصلے سے فائر کی گئی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت عظمیٰ کے سینئر ترین جج کی لاہور میں واقع رہائش گاہ پر گذشہ شب10بجکر50منٹ پر فائرنگ کی گئی جس میں نامعلوم افراد نے گھر کے دروازہ پر گولیاں برسائیں اور فرار ہوگئے صبح سویرے 9بجکر 45 منٹ پر کچن کی کھڑکی پر فائرنگ کی گئی ابتدائی رپورٹس کے مطابق موقع سے9ایم ایم کا خول برآمد ہوا ہے واقعہ کی تفتیش شروع کردی گئی ہے فائرنگ پر احتجاج کرتے ہوئے وکلاء نے ہڑتال کا اعلان کردیا تاہم چیف جسٹس آف پاکستان کی اپیل پر ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی متعدد سیاسی رہنماؤں نے فائرنگ کے افسوسناک واقعہ کی مذمت کی ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ذمہ داروں کوانصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ شریف خاندان کا شرمناک عمل ہے اور یہ کہ رانا ثناء اللہ اور سعد رفیق اس قسم کی وارداتوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ قابل مذمت ہے ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق فائرنگ کو وحشیانہ عمل قرار دیتے ہیں جسٹس اعجاز الاحسن پانامہ بنچ کا حصہ ہونے کیساتھ شریف فیملی کیخلاف احتساب عدالت میں مقدمات کے نگران جج بھی ہیں یہ اس بنچ کا حصہ بھی تھے کہ جس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی روزانہ سماعت کا حکم دیا عدالت عظمیٰ کے سینئر جج کی رہائش گاہ پر فائرنگ سے متعلق حقائق تو انکوائری رپورٹ میں ہی سامنے آئیں گے تاہم جیسا کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کے موثر کردار کے لئے تمام فریقین محفوظ فضا یقینی بنائیں جبکہ امن وامان اور استحکام یقینی بنانے کیلئے کاوشیں جاری رکھی جائیں اس مقصد کیلئے فوری اور موثر حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی جس میں سٹیک ہولڈرز کی آراء کو بھی شامل کیا جائے۔

3ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال

مارچ2018ء میں لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ختم ہونے کا اعلان ریکارڈ پر موجود ضرور ہے تاہم خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 3ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے گرمی کی شدت کیساتھ بجلی کی پیداوار اور کھپت کے درمیان گیپ مزید بڑھتاجائے گا۔ دوسری جانب ترسیل کے نظام میں خرابیوں کے باعث معمولی آندھی یا بارش کی صورت میں بجلی کی سپلائی منقطع ہوجانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے گزشتہ شب صوبائی دارالحکومت کا وسیع علاقہ تاریکی میں ڈوبا رہا اور متعلقہ عملہ اپنے دستیاب وسائل اور مین پاور کے ساتھ رات گئے تک بحالی کیلئے کوشاں رہا‘ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے حکومتی اقدامات سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم ان کے نتائج مثبت صورت میں صارفین تک نہ پہنچنے کا گلہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا‘ اس ساری صورتحال کی بنیادی وجہ آبی ذخائر میں اضافہ نہ کرنا اور بجلی کی پیداوار کے نئے یونٹس لگانے کے ساتھ پرانے پروڈکشن یونٹس کو پوری طرح آپریشنل نہ رکھنا ہے اس سب کے ساتھ گردشی قرضوں کا خاتمہ اور ایندھن کی سپلائی ریگولر رکھنا بھی ضروری ہے۔