105

انتخابی پروگرام

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے گیارہ نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا ہے ان نکات میں یکساں نظام تعلیم‘ صحت کیلئے سسٹم کرپشن کا خاتمہ‘ ٹیکس نظام میں بہتری اور زرعی ایمرجنسی بھی شامل ہے تحریک انصاف کے سربراہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کیساتھ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا عزم بھی کرتے ہیں وہ فیڈریشن کی مضبوطی کیلئے تمام صوبوں کو ان کا حق دلانے کا بھی کہتے ہیں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ کرپشن سے فری ملک متحدہ مجلس عمل بنائے گی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں ایسا احتساب بیورو نہیں چاہئے جو بیمار ہو بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ نوازشریف نے کراچی کو کچھ نہیں دیا جمعیت علمائے اسلام کے امیرمولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ کرپشن ختم کرنیکا ایک ہی فارمولا ہے کہ حکومت متحدہ مجلس عمل کو دے دی جائے سابق وزیر اعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے ملک میں تبدیلی کی باتیں کر رہے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پارلیمانی جمہوریت میں ہر جماعت انتخابات سے قبل اپنا پروگرام عوام کے سامنے رکھتی ہے اس پروگرام کی تیاری میں ہر پارٹی اپنے اہم رہنماؤں کو ٹاسک حوالے کرتی ہے جومختلف پہلوؤں سے صورتحال کا جائزہ لے کر پروگرام مرتب کرتے ہیں وطن عزیز میں پے درپے برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے اپنے اپنے پروگراموں کی روشنی میں یقیناًکام بھی کیا تاہم دوسری جانب کوئی الگ رائے اس پر بھی نہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی پروگراموں پر مکمل عمل درآمد سوالیہ نشان ہی رہتا ہے حکومتی اقدامات منشور پر عمل درآمد کے عکاس ضرور ہوتے ہیں ۔

انکے ثمر آور نتائج برسرزمین نظر نہیں آتے ملک کی معیشت قرضوں تلے دبتی چلی جاتی ہے عوام کو بنیادی سہولتیں نہ ملنے کا گلہ ہے جبکہ گرانی کے طوفان میں آئے روز کی شدت نے غریب اور متوسط شہری کی کمر توڑ کر رکھی دی ہے سیاسی جماعتیں خوش کن پروگرام دینے کیساتھ اگر اس پر عملدرآمد کا میکنزم بھی واضح کریں لوگوں کو بتایا جائے کہ کس طرح سے منشور پر عمل ممکن بنایا جائیگا اسکے ساتھ یہ بھی واضح کردیا جائے کہ حکومتی اعلانات اور اقدامات کے برسرزمین نتائج کس طرح مانیٹر کئے جائینگے اس مقصد کیلئے سنجیدگی کیساتھ ہوم ورک کی ضرورت ہے جسکا احساس ضرور کرنا ہوگا۔

سربمہر دکانوں کامستقبل؟

سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ہیلتھ کیئر کمیشن کی عطائیوں کیخلاف کاروائیاں اعدادوشمار کی روشنی میں قابل اطمینان ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز تک529دکانیں اور لیبارٹریاں سیل کی جاچکی تھیں کریک ڈاؤن بدستور جاری ہے اس سب کیساتھ یہ خدشہ اپنی جگہ ہے کہ سیل ہونے والی دکانیں اور لیبارٹریاں دوسرے مقامات پر کام نہ شروع کردیں اس ضمن میں نام بھی تبدیل ہو سکتے ہیں اور امکان یہ بھی ہے کہ بغیر سائن بورڈ بھی کام شروع ہو جائے ذمہ دار حکام کو اس ضمن میں ایک واضح اور ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی اگر ایک جعلی دوا کئی مریضوں کو نقصان پہنچانے کے بعد قانون کی زد میں آتی ہے تو مریضوں کے نقصان کا ازالہ نہیں ہو پاتا اسلئے بہتر ہے کہ ایسے کلینک اور لیبارٹریوں کے دوبارہ کھل کر اگلے کریک ڈاؤن کی زد میں آنے سے قبل مزید زندگیوں کو نقصان سے دوچار نہ کردیں۔