166

سول انتظامیہ کی باری

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کھلے دل کیساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ پاک فوج نے قبائلی علاقوں کی تعمیر وترقی اور امن کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کردیااور یہ کہ اب سول انتظامیہ کی باری ہے، میرانشاہ میں قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیاجائے گا اور یہ کہ اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتیں سنجیدہ ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانا طویل المدتی ترقی و خوشحالی کی کنجی ہے اور حکومت قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق اس پر کام کر رہی ہے، وزیراعظم قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق اپنے عزم کا اظہار ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب ان کی مدت اقتدار اب چند ہفتوں تک محدود ہے۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ سول انتظامیہ سے ان سارے معاملات میں اب تک کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کریں۔ حکومت فاٹا اصلاحات میں سنجیدہ ہے اس سنجیدگی کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد کسی حکومت نے ریفارمز کے کام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ خصوصی کمیٹی بنائی گئی، سفارشات سامنے آئیں اور ریفارمز کیلئے ایک طویل ٹائم شیڈول دیدیاگیا۔

اس شیڈول پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست ہونے پر احتجاج سامنے آیا، بات دھرنوں تک پہنچی اور اس کیساتھ سست اصلاحات یا ان کے طریقہ کار پر کچھ تحفظات بھی سامنے آئے جن کو دور کرنے کیلئے کوئی خاص سنجیدہ سیاسی سعی نظر نہیں آئی۔ وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتیں سنجیدہ ہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے اس سنجیدگی کا تقاضا تو یہی ہے کہ اگر کسی کے کوئی تحفظات یا خدشات ہیں تو انہیں دور کیاجائے اور اصلاحات کی جانب بڑھا جائے فاٹا ریفارمز میں اہم بات قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہے اور کے پی گورنمنٹ اس مقصد کیلئے پوری طرح تیار ہونے کیساتھ جلد از جلد اعلان کا مطالبہ بھی کر رہی ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وزیراعظم اپنی مدت اقتدار کے آخری ہفتوں میں سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیتے ہوئے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کا آغاز کریں تاکہ قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کا عمل تیز ہو اور یہ قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔

شجرکاری کی ضرورت

صوبائی دارالحکومت کی مرکزی شارع جی ٹی روڈ چمکنی کے بعد ناردرن بائی پاس کی پل سے آگے کشادہ صورت میں ہے۔ اس میں کمی ہے تو پورے جی ٹی روڈ کے مقابلے میں نسبتاً بڑے سنٹر میڈیا پر درختوں اور پودوں کیساتھ آہنی ریلنگ کی ہے۔ جی ٹی روڈ پر بس منصوبے کیلئے اُکھاڑے گئے چند درخت تو یہاں لگادئیے گئے لیکن اس سے آگے کا سنٹر میڈیا خالی پڑا ہے۔ ناردرن بائی پاس کے فلائی اوور سے آگے سڑک پر دونوں جانب خوبصورت گرین بیلٹ کی گنجائش بھی موجودہے، ہمارے صوبے میں منصوبہ سازوں نے حکومت کے سارے اقدامات کو جی ٹی روڈ کے مخصوص حصے اور دو چار دیگر سڑکوں تک محدود رکھا ہوا ہے اس بات کا احساس ضروری ہے کہ صوبائی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہونے پر پہلا تاثر جی ٹی رڈ ہی ہے، بلین ٹری سونامی والے صوبے کی مرکزی سڑک کے اس سنٹرل میڈیا اور روڈ کے دونوں جانب گرین بیلٹس کیلئے وزیراعلیٰ کو ٹائم فریم کیساتھ حکم دیناہوگا اس مقصد کیلئے ناردرن بائی پاس کے فلائی اوور سے روڈ کا جائزہ لیکر پلاننگ کی جاسکتی ہے، اس ضمن میں متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی بنانا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوسکیں۔