317

اعداد وشمار اور لوڈشیڈنگ

توانائی ڈویژن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں فورس لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت شارٹ فال3032 میگاواٹ ہے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جن علاقوں میں لائن لاسز10فیصد تک ہیں وہاں لوڈشیڈنگ صفر ہے ایسے فیڈرز کی تعداد61فیصد بتائی جارہی ہے اس وقت ریکارڈ پر موجود اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں بجلی کی طلب 18ہزار432میگا واٹ جبکہ پیداوار 15ہزار 400میگا واٹ ہے متعلقہ دفاتر کا یہ بھی کہنا ہے کہ چشمہ تھری پاور پلانٹ بھی قومی گرڈ سے منسلک ہوگیا ہے گزشتہ عام انتخابات میں کامیابی پر حکومت نے اعلان کردیا تھا کہ بجلی کے گردشی قرضے چکائے جارہے ہیں پیداوار بڑھائی جارہی ہے اور ملک کو اندھیروں سے نکالا جا رہا ہے متعلقہ دفاتر بار بار یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ 2018ء میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی اس وقت ریکوری کے نام پر ہی سہی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بعض علاقوں میں جاری ہے حالانکہ لائن لاسز پر قابو پانا خود ذمہ دار دفاتر کی ذمہ داری ہے نہ کہ ان لوگوں کی جو بجلی کابل بروقت جمع کرانے کے باوجود اپنے علاقے میں دوسرے لوگوں کی جانب سے بل نہ دینے کی سزا بھگت رہے ہیں۔

یہ بات کس حد تک قرین انصاف ہے یہ خود حکمرانوں کو دیکھنا ہوگا بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے حکومت کی کوششوں سے انکار ممکن نہیں تاہم جب 40 فیصد کے قریب فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کا اعتراف کیا جارہا ہے اس کے باوجود3032میگا واٹ کا شارٹ فال اس بات کا پتہ دیتا ہے اگر لاسز والے فیڈرز پر بھی بجلی بند نہ ہو تو یہ شارٹ فال کہاں تک پہنچ جائے گا دوسری جانب بجلی کی ترسیل کا نظام گزشتہ روز بھی ہوا کے چندتیز جھونکے بھی برداشت نہ کرسکا جس کی بحالی کے لئے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اہلکار اپنے مہیاوسائل کے ساتھ مسلسل کوششیں کرتے رہے‘لوڈشیڈنگ کا سو فیصد خاتمہ تو ایک طرف ہم ترسیل کا نظام فول پروف بنا سکے نہ بجلی بلوں سے متعلق شکایات دور کرسکے کیا ہی بہتر ہو کہ اعداد و شمار اور اقدامات و اعلانات کی نسبت سے عملی نتائج بھی یقینی بنائے جائیں۔

ہسپتالوں کے ارد گرد کا ماحول

چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی کیجولٹی کی پرانی عمارت کے قریب دیوار گرا کر راستہ بنا لیا گیاہے تادم تحریر ہسپتال انتظامیہ نے آسامائی گیٹ خود نہیں کھولا ‘ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے سرکاری شفا خانے میں کیجولٹی کی بلڈنگ تبدیل ہوتی رہی ہے اور عرصے کے بعد دوبارہ اس گیٹ کے قریب لائی گئی ہے جہاں 1970ء کی دہائی میں تھی اس دوران ہسپتال کے دروازوں کے قریب ادویہ فروش مختلف مواقع پر احتجاج کرتے رہے ہیں ہسپتال کے تمام راستے کھولنا انتہائی قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اب ایل آر ایچ سمیت تمام ہسپتالوں کے باہر ادویہ فروشوں کو قاعدے قانون کا پابند رکھنا بھی ضروری ہے جس میں دواؤں کی کوالٹی اور سٹوریج کیلئے قواعد کی پابندی ناگزیر ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ کیمسٹ حضرات کو پابند بنایا جائے کہ وہ مریض کو دوا ضرورت کے مطابق دیں عموماً بعض فارمیسیز پر ایمر جنسی میں دوچار گولیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مریض کو بیس بیس گولیوں کی پیکنگ خریدنے پرمجبور کیا جاتا ہے مریضوں کی سہولیات کیلئے ہسپتالوں کے گرد ادویات کی دکانوں ‘ لیبارٹریوں ‘ ہوٹلز کے معیار اور ایمبولینس گاڑیوں کے چارجز پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی ۔