239

عسکری ترجمان کی پریس بریفنگ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ روز پریس بریفنگ میں ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر دیگر اہم امور پر بھی بات کی ہے میجرجنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کے مقدمے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا امریکہ کی جانب سے ہمیں جو بھی رقم ملی وہ اخراجات کی مد میں تھی ملک پر منڈلاتے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے افغانستان اور بھارت سے متعلق پاک فوج کے ترجمان کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے فوج کے کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں رہے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا امریکی موقف کارآمد نہیں ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو ہمارے انسانی ہمدردی کے جذبے کو سراہنا چاہئے سعد رفیق کے بیان سے متعلق خود ریلوے کے وزیر اس کے ساتھ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے علیحدہ علیحدہ بیانات بھی میڈیا رپورٹس میں آئے ہیں۔

جہاں تک بھارتی پروپیگنڈے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بھارت مسئلہ کشمیر سے متعلق عالمی ادارے کی قراردادیں طویل عرصے سے سردخانے میں ڈالے ہوئے ہے دوسری جانب مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں جن پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے بھارت نت نئے بیانات جاری کرتا رہتا ہے۔ افغانستان سے متعلق پاکستان کا موقف شفاف ہے جبکہ پاکستان کی امن کے لئے کوششیں ریکارڈ کا حصہ ہیں جہاں تک امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اندر سٹرائیک کی دھمکیوں کا سوال ہے تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ امریکہ کو واضح بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم دوستوں سے لڑا نہیں کرتے عسکری ترجمان یہ بھی کلیئر کرتے ہیں کہ ہم اپنی ملکی خودمختاری اور عزت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ میجر جنرل آصف غفور کا یہ کہنا کہ ملک پر منڈلاتے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے اس بات کا متقاضی ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے مقام پر اپنی ذمہ داریوں کا احساس و ادراک کرے پاکستان کی پالیسی ہر حوالے سے شفاف ہے اور ہمارا موقف وہی ہے کہ جو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا ہونا چاہئے غیر جانبداری اور متوازن حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری بھی ہمارے موقف کی بھرپور حمایت کرے۔

سپریم کورٹ کے ریمارکس

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ قوم کو دھوکے میں رکھ کر کیمیکل کو دودھ بنا کرنہیں بیچنے دینگے ناقص دودھ کی فروخت کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ناقص دودھ سے بچے متاثر ہورہے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں مہنگائی کے طوفان کے ساتھ ملاوٹ کا دھندہ قابل تشویش اور متعلقہ اداروں کی فوری اور موثر کاروائی کا متقاضی ہوتا ہے اس مقصد کیلئے حکمت عملی گلی محلوں کی سطح پر بنتی ہے ماضی قریب میں یہ سارا کام مجسٹریسی نظام کے تحت ہوتا رہا ہے جسکے بعد اب مختلف ادارے کاروائیاں کرتے نظر ضرور آتے ہیں تاہم یہ سب کچھ مختصر وقت کیلئے ہی ہوتا ہے جسکے بعد خاموشی چھا جاتی ہے دیگر اشیاء کیساتھ دودھ میں ملاوٹ اور وہ بھی مضر صحت کیمیکل کی انتہائی قابل تشویش ہے اس کیلئے موثر حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔