159

قابل عمل اقدامات کی ضرورت

وطن عزیز کو معیشت اور دوسرے حوالوں سے درپیش اندرونی امور اور بیرونی چیلنجوں کیساتھ سیاسی تناؤ کی کیفیت میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ اس وقت ہوئی جب وزیر داخلہ شکر گڑھ میں کارنر میٹنگ کے بعد واپس جارہے تھے دوسری جانب سیاسی گرما گرمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جسکے نتیجے میں تلخی کیساتھ غیریقینی کی سی صورتحال سامنے آرہی ہے سیاسی قیادت کا انداز جارحانہ ہے اور ہر جماعت اپنا پاور شو کر رہی ہے ملک کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں جن میں ایک دوسرے کیخلاف تندوتیز تقاریر کا سلسلہ جاری ہے اسکے ساتھ امن وامان کی صورتحال‘ معیشت کے حوالے سے درپیش چیلنج ‘خارجہ محاذ اور قومی اہمیت کے حامل بعض فیصلے سنجیدہ سعی کا تقاضا کر رہے ہیں نگران سیٹ اپ مرکز اور صوبوں کے سیاسی رابطوں کا متقاضی ہے اس حوالے سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کیئرٹیکر وزیراعظم کے نام کا اعلان15 مئی تک کردیا جائیگا ملک میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق متعدد سیاسی رہنما الیکشن کمیشن میں اپنی پٹیشنز مسترد ہونے کے بعد اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنیکا عندیہ دے رہے ہیں انتخابات کے انعقاد سے متعلق بھی بعض سیاسی بیانات میں تاخیر کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں خلائی مخلوق سے متعلق بیانات پہلے ہی سیاسی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس سب کیساتھ تادم تحریر قبائلی علاقوں میں اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ کار کی وسعت سے متعلق اعلامیہ جاری نہیں ہوا قومی بجٹ کی منظوری اور صوبائی بجٹ پیش ہونے کے مراحل باقی ہیں آبی ذخائر سے متعلق فیصلوں کی ضرورت موجود ہے توانائی بحران اپنی جگہ ہے سی پیک کی تکمیل اوراس پراجیکٹ کے ثمرات سمیٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت اپنی جگہ ہے وطن عزیز کی معیشت کے تناظر میں گرانی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت مارکیٹ قاعدے قانون سے آزاد ہوتی نظر آرہی ہے قومی قیادت صوبوں کی سفارشات کے باوجود مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتی نظر نہیں آرہی بہتر یہی ہے کہ اقتدار کے آخری چند روز میں سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ اہم امور نمٹانے کیلئے مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں سیاسی قیادت کیساتھ رابطے بڑھاتے ہوئے مشترکہ اور قابل عمل فیصلے کریں تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے۔

صفائی مہم

خیبرپختونخوا حکومت نے برسراقتدار آنے کے ساتھ صوبائی دارالحکومت کا حلیہ درست کرنے کا عزم ظاہر کیا دیگر متعدد اقدامات کیساتھ بڑے پیمانے پر صفائی مہم چلائی گئی اب جبکہ حکومت کی رخصتی کے دن قریب آرہے ہیں شہر میں ڈینگی کا خوف بھی موجود ہے گرمی کی آمد کیساتھ مکھی مچھروں کی بہتات بھی ہے ایسے میں ضرورت ایک بڑی صفائی مہم کی ہے یہ مہم ریکارڈ پر لا سکے گی کہ صوبائی حکومت نے آنے والوں کو صاف ستھرا دارالحکومت دیا اس مہم میں بلدیاتی قیادت کے ذریعے شہریوں کو بھرپور انداز میں شریک کیا جا سکتا ہے صوبے کے تمام تعمیرات و خدمات کے اداروں کے وسائل اکٹھے کئے جا سکتے ہیں مہم میں گندگی‘ کچرا ٹھکانے لگانے اور سیوریج لائنز کلیئر کرنے کیساتھ تعمیراتی ملبے سے متعلق قواعد پر عمل بھی یقینی بنایا جائے اس سب کیساتھ ڈمپنگ گراؤنڈ سے متعلق احکامات کو عملی شکل دینے کیلئے اقدامات کی ضرورت بھی ہے۔