86

ٹھگ

کیا دنیا میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں ٹھگ نہیں ہوتے یہ عجیب الخلقت مخلوق ہر جگہ ہوتی ہے اور ہر سمجھدار شخص ان سے اچانک مڈبھیڑ ہو جانے کے خدشے سے غافل نہیں رہتامگر یہ نابغے خود کوزہ گر خود کوزہ گرے اور خود رند سبوکش ہونے کی وجہ سے ہمیشہ اپنے شکار سے دو قدم آگے رہتے ہیں یہ اگر ایک لمحے میں ایک سال کا فتنہ نہ اٹھا سکیں اور یکبارگی میں ٹراکا کر کے مد مقابل کے چودہ طبق روشن نہ کر سکیں تو ان کی ساری مشقت ریت چھاننے کی سعی لاحاصل بن جاتی ہے ان کے پیشہ ورانہ تقاضے اس بھول چوک کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ یہ شکار کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعددونوں ہاتھ ملتے ہوئے اس طفل تسلی پر قناعت کر لیں کہ غلط تھا اے جنوں شاید تیرا اندازۂ صحرا‘ ہریکتائے فن قسم کے ٹھگ کی ہر واردات ایسی ہوتی ہے کہ جس کا نظارہ چشم فلک نے پہلے نہیں کیا ہوتا‘ یہ انتہائی عملیت پسند ہوتے ہیں اورانکی نظر ہمیشہ حقائق اور نتائج پر جمی رہتی ہے یہ کسی بھکاری کی طرح ارغوانی پیالے میں نا موجود جنتوں کا عکس نہیں دیکھتے انہوں نے ہتھیلی پر سرسوں جمانی ہوتی ہے یہ ایسے شاطر قسم کے دکاندار ہوتے ہیں جو خالی بٹوے والی جیب کو دور ہی سے تاڑ لیتے ہیں انہیں ہمیشہ تگڑے قسم کے گاہک کا انتظار رہتا ہے اس طرح کے پرندے پر نظر پڑتے ہی انکا جی مچل اٹھتا ہے اور کہیں دور سے انہیں یہ صدا سنائی دیتی ہے

دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کب جان لہو ہو گی کب اشک گہر ہو گا
کس دن تیری شنوائی اے دیدۂ تر ہوگی
کب تک تیری راہ دیکھیں اے قامت جانانہ
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ پہچانے نہیں جاتے یہ اسی صورت میں اپنے دست ہنر کی کرشمہ سازی دکھا سکتے ہیں جب انہیں نیک‘ پارسا اور شریف النفس سمجھ لیاجائے‘ اتنا معتبر کہ جسے ووٹ دے کر پہلے کونسلر یا ناظم بنا دیا جائے اورکچھ عرصہ بعد اس کے وزیر بن جانے کی خبر سن کر ذرہ بھر حیرانگی کا اظہار نہ کیا جائے میں کیونکہ اس کیفیت کے حسن کو اس کے حسن بیاں تک دیکھ چکا ہوں اس لئے یہ لفظوں کے قالب میں ڈھلتی ہی چلی جا رہی ہے خوش قسمتی سے مجھے ایسے نابغوں نے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا مگر انکا اعلیٰ مناصب پر دھرنا دے کر بیٹھ جانا میرے لئے ہمیشہ باعث تشویش رہا ہے ان کی اٹھان‘ پرواز اور لپکنے جپٹھنے کی صلاحیت انہیں صدارت اور وزارت عظمیٰ جیسے جلیل ا لقدر مناصب تک بھی پہنچا دیتی ہے دو روز پہلے کی خبر ہے کہ ملایشیا کے لوگوں نے بانوے سالہ پیرانہ سال اور تجربہ کار مہاتیر محمد کو اس لئے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم منتخب کر لیا ہے کہ انکے پیشرو نجیب رزاق پر پورے ساڑھے تین ارب ڈالر خورد برد کرنے کا الزام ہے اس رقم کا ایک بڑا حصہ یورپ اور امریکہ میں مہنگی جائیدادوں ‘ زیورات اور آرٹ ورک خریدنے پر صرف کیا گیا ہے۔

اس میں سے 731 ملین ڈالر سابقہ وزیر اعظم کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع ہیں گذشتہ دو برسو ں میں اتنے سربراہان مملکت پر کرپشن کے الزامات لگا کرانہیں عدالتوں سے سزا دلوائی گئی ہے کہ اب ان پر ایک ضخیم کتاب لکھنے کے علاوہ درجن بھر ہالی ووڈ کی فلمیں بھی بنائی جا سکتی ہیں اس قسم کی معرکتہ الآرا فلموں کے مرکزی کردار کو کسی بھی صورت ٹھگ نہیں کہا جائے گا کیونکہ پرانے زمانے کی یہ مخلوق تو جیب کاٹنے اور زیادہ سے زیادہ دس پندرہ ہزار روپوں کے ہاتھ آجانے ہی کو اپنے فن کی معراج سمجھتی تھی آجکل تو یہ رقم لاکھوں ملین تک جا پہنچی ہے اس پیمانے کی واردات کو ٹھگی کہنا بنارسی ٹھگوں کی شکستہ قبروں پر کوڑے برسانے والی بات ہے اہل فکرو نظر نے اسی لئے عہد نو کا دیباچہ لکھنے والے ان فنکاروں کی کرتب کاریوں کو وائٹ کالر کرائم کاعنوان دے رکھا ہے میں اگر ان کے کرتوتوں کے ڈانڈے ٹھگی سے ملا رہا ہوں تو اس میں میری افتاد طبع یا ذوق مطالعہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے میں تو آج کل امریکی اخباروں میں بار بار چٹ پٹا اور مصالحے دار لفظ thug پڑھ کر حیرانگی میں مبتلا ہوں میری واجبی معلومات کے مطابق ’’ٹھگ‘‘ دوسرے سینکڑوں لفظوں کی طرح فارسی سے اردو تک آ پہنچا تھامگرآجکل thug امریکہ میں اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ اسکے عنقریب زبان زد عام ہوجانے کے خدشے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا یہ جاندار‘ توانا اور دھڑلے دار قسم کا لفظ کیونکہ انگریزی لغت میں بھی موجود ہے اس لئے لگتا ہے کہ یہ بھی ان ہیرے جواہرات کے جہازوں میں برطانیہ لایا گیا تھا جنہیں مال مفت دل بے رحم سمجھ کر ہندوستان میں لوٹا گیا تھا اب ظاہر ہے کہ اس اونچے پیمانے کی لوٹ مار کو ٹھگی کہنا ایک مرتبہ پھر بیچارے آسودۂ خاک ٹھگوں کو بر سر عام رسوا کرنے والی بات ہے ان کی ایک بڑی تعداد تو دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کیلئے دن بھر میں دو چار جیبیں کاٹ لیتی تھی اب تو پلک جھپکتے میں لاکھوں بلکہ اربوں ڈالر وائر ٹرانسفر کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے میں منتقل ہو جاتے ہیں اس صورت میں وہ محاورہ کہ اک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا تو ٹھگوں کی طرح پچھلی صدی کے بیابان میں دفن ہو چکاہے اب تو لگتا ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے یہ مشہور زمانہ شعر آجکل کے لمبے ہاتھ دکھانے والے اوتاروں کے لئے کہا ہے

معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود
خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

مجھے آج اردو اور انگریزی کے ’’ ٹھگ‘‘ کو یکجا کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ معروف امریکی کالم نگار ڈیوڈ بروکس نے گیارہ مئی کے کالم میں یہ تھیوری ثابت کی ہے کہ صدر ٹرمپ کاپرانا وکیل مائیکل کوہن در اصل خود بھی ایک ٹھگ ہے بروکس نے مائیکل کے کئی جرائم پیشہ مؤ کلوں کی وائٹ کالر وارداتوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مائیکل کیونکہ زندگی بھر ٹھگوں ہی کی وکالت کرتا رہا ہے اس لئے اسے ٹھگ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اسکے بعد کالم نگار نےTrump's Lizard Wisdom یعنی ٹرمپ کی گرگٹ والی ذہانت کے عنوان سے لکھے ہوئے کالم میں کہا ہے کہ مائیکل ایک طویل عرصے تک ٹرمپ کا فکسر رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے کرتوتوں کا قانونی دفاع کرتا رہا ہے اس کالم کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں صاحب تحریر نے صدر امریکہ کی بادل نخواستہ تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شمالی کوریا کے برخود غلط ڈکٹیٹر کو باراک اوباما جیسا سلجھا ہوا صدر راہ راست پر نہ لا سکتا تھا اس کے لئے امریکہ کو ڈونلڈ ٹرمپ کی ضرورت تھی بروکس نے لکھا ہے کہ ’’ کم جونگ ان کے بارے میں ٹرمپ ایسی باتیں جانتا ہے جو دوسروں کی سمجھ میں نہیں آ سکتیں‘‘ آگے چل کر اس نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ" Thugs gotta thug"اس تین لفظی جملے میں دو مرتبہ ’’ٹھگ‘‘ استعمال ہوا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹھگوں کو ٹھگ ہی سمجھتاہے مجھے اس کالم کے اس حصے سے اتفاق نہیں کہ جس میں بروکس نے ایران اور چین کے لیڈروں کو بھی شمالی کوریا کے صدر کی طرح ڈھیٹ اور متکبر قرار دینے کے بعد لکھا ہے کہ ان کا مزاج بھی ڈونلڈ ٹرمپ ہی درست کر سکتا تھا کیونکہ ٹھگ ہی ٹھگوں کو سمجھتا ہے۔