75

جھوٹے خواب

پاکستان کو درپیش توانائی بحران ختم کرنے کیلئے حکمرانوں کے دعوؤں اور وعدوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے‘ ایک کے بعد ایک دعویٰ‘ وعدہ اورآن دی ریکارڈ خواب جھوٹ ثابت ہوئے ہیں بقول جان ایلیا ’ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے۔‘ جیسی صورتحال درپیش ہے کہ پاکستان ’گماں‘ اور ’فقط گماں‘ کے دائرے میں رقصاں ہے!انتیس مئی دوہزار تیرہ: ذرائع ابلاغ نے یہ خبر شہ سرخیوں میں شائع کی تھی کہ ترکمانستان‘ افغانستان‘ پاکستان اور بھارت پر مشتمل گیس منصوبہ مکمل کیا جائیگا‘اس منصوبے کا نام انہی چار ممالک کے ناموں سے لئے گئے حروف سے اخذ کیا گیا۔ سہانا خواب تھا کہ تاپی (TAPI) گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کو سالانہ تین اعشاریہ دو ارب کیوبک فٹ گیس دستیاب ہوگی اور یہ منصوبہ دوہزارسترہ تک مکمل کر لیا جائیگا۔ منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ کے مطابق ترکمانستان سے سالانہ تین ارب کیوبک فٹ سے زائد گیس کے حصول کے لئے ایک ہزار چھ سو اسی کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جائیگی‘ جس کا قطر چھپن انچ ہوگا اور پائپ لائن راہداری کا تعین کر لیا گیاکہ یہ ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پہلے پاکستان اور بعد میں بھارت جائے گی‘ اس منصوبے پر لاگت کا ابتدائی تخمینہ تین اعشاریہ تین ارب ڈالر لگایا گیا جبکہ سال دوہزار آٹھ میں اخراجات کا تخمینہ سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر تھا دسمبر دوہزاردس میں ترکمانستان میں منعقدہ تاپی کانفرنس کے موقع پر منصوبہ کے رکن ممالک کے سربراہان نے ایک معاہدے پر دستخط کئے۔

تیرہ مئی دوہزار اٹھارہ: پاکستان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح ملتوی کر دیا گیا ہے اور وہ کام جو دسمبر دوہزار سترہ میں شروع ہونا تھا‘ کے آغاز میں مزید چند ماہ لگ سکتے ہیں‘ وفاقی وزارت توانائی کے ذیلی شعبے انٹراسٹیٹ گیس سسٹم کے مطابق موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے پیش نظر افتتاح کو ملتوی کیا گیا اور اس منصوبے سے منسلک فیصلہ سازاسے عبوری حکومت کے دور میں شروع ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں‘گویا سب کچھ سیاسی ہے اور فیصلہ سازوں کے سیاسی پسندیدگی اور مخالفتوں کی وجہ سے قومی اہمیت کے حامل منصوبے کو سردخانے کی نذر کر دیا گیا ہے۔تاپی منصوبے پر کام کا آغاز رواں ماہ ہونا طے تھااور اس سلسلے میں ضروری تیاریاں بھی کر لی گئی تھیں کیونکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنے وزارت عظمی کے دور میں اسکے افتتاح میں دلچسپی کا اظہار کر چکے تھے اور پاکستان کا انتظامی نظام کچھ ایسا ہے کہ جس چیز میں ملک کے حکمران دلچسپی لیں پوری افسرشاہی اسی کام میں لگ جاتی ہے لیکن پھر اقتدار کا سورج غروب ہونے لگا تو سب نے یکایک آنکھیں پھیر لیں‘ لمحہ فکریہ ہے کہ مالی وسائل کی بھی کمی نہیں اور نہ ہی کوئی دوسری ایسی دشواری حائل ہے‘ ۔

جسکی وجہ سے منصوبہ ملتوی کیا جاتا‘ اصولی طور پرتاپی گیس پائپ لائن کا افتتاح رواں برس فروری یا مارچ یا زیادہ سے زیادہ اپریل میں ہو جانا چاہئے تھا لیکن سیاسی حکومت کی مدت ختم ہونے کے پیش نظر اب اسے جون یا جولائی تک ملتوی کردیا گیا اور اسوقت نگران عبوری حکومت برسر اقتدار ہوگی‘ضروری نہیں کہ نگران حکومت بھی تاپی منصوبے کو ضروری سمجھے اور یہ منصوبہ آئندہ کسی سیاسی حکومت کو نیک نامی کمانے کے موقع کے طور پر تحفے میں دے دیا جائے! پاکستان کے فیصلہ سازوں کو نسبتاً کم مالی وسائل اور امن و امان کی خراب صورتحال رکھنے والے افغانستان سے سبق سیکھنا چاہئے جس نے مذکورہ گیس پائپ لائن منصوبے کے لئے کمپریسر سٹیشنز کا تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے جبکہ ترکمانستان اور بھارت پہلے ہی اپنی اپنی حدود میں کام کا آغاز کر چکے ہیں‘ رہی بات پاکستان کی تو یہاں گیس پائپ لائن کیلئے زمین توحاصل کر لی گئی ہے لیکن سیاست حائل ہے‘تاپی عالمی منصوبہ ہے جسے مکمل کرنا پاکستان کی ذمہ داری بھی ہے کیونکہ وہ اس سے متعلق ایک عالمی معاہدہ پر دستخط کر چکا ہے کیا ہمارے سیاسی فیصلہ سازوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ملک و قوم کو جمہوریت سے بیزار کر کے دم لیں گے؟کیا یہی ووٹ کی عزت ہے کہ عہدے اور اختیارات کے ذریعے قومی وسائل اور فیصلوں کا استحصال کیا جائے؟