126

امریکی سفارتکار کے فرار کی کوشش

اسلام آباد میں گاڑی کی ٹکر سے عتیق نامی نوجوان کو کچلنے والے امریکی ائیر ڈیفنس اتاشی کرنل جوزف کے پاکستان سے فرار کی کوشش ناکام بنا دی گئی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرنل جوزف کو لینے کیلئے امریکی انتظامیہ نے خصوصی سی 130 طیارہ بھیجا تھا جو کئی گھنٹے تک نور خان ائیربیس پر موجود رہا تاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بروقت ایکشن لیتے ہوئے اسے باہر جانے سے روک دیا ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ کرنل جوزف کا نام بلیک لسٹ میں موجود ہے لہٰذا اسے بیرون ملک جانے نہیں دیا جائیگا بتایا جارہا ہے کہ کرنل جوزف کا پاسپورٹ بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے کرنل جوزف کا کیس قاعدے اور قانون کے مطابق ڈیل ہو رہا ہے قواعد کے مطابق اسے مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں اس کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے متوفی نوجوان کے والد نے عدالت میں درخواست دے رکھی ہے کہ امریکی سفارتکار کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور عدالت نے وزارت داخلہ کو معاملہ دیکھنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سفارتکار کو عدالتی کاروائی مکمل ہونے پر امریکہ کے حوالے کر دیا جائیگا یہ بھی بتایاجارہا ہے کہ کرنل جوزف کے امریکہ میں ٹرائل کی یقین دہانی حاصل کی جائے گی اس سب کے باوجود دنیا کو قاعدے قانون کا سبق پڑھانے والی ٹرمپ انتظامیہ اپنے سفارت کار کو فرار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس کوشش سے صرف ایک روز پہلے پاکستان نے امریکی سفارتکاروں کی نقل و حرکت پر اسی طرح پابندیاں لگائیں جس طرح امریکہ نے پاکستانی سفارتی عملے پر عائد کیں شاید امریکہ اس قسم کے اقدام کیلئے قطعاً توقع نہیں رکھتا تھا ماضی میں امریکی سفیر اپنے آپ کو وائسرائے کی طرح سمجھ کر ہی کام کرتے تھے پاکستان کی جانب سے امریکی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود ہونے پر ٹرمپ انتظامیہ کے ہوش ٹھکانے آگئے ہیں پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے اسکی حیثیت کا احترام ناگزیر ہے خود امریکی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اپنے سفارتکاروں کو سفارتی آداب اورپاکستان کے قاعدے قانون کا پابند بنائے خطے میں انتہائی مثبت کردار کی روشنی میں پاکستان کے درست اور اصولی موقف کو تسلیم کرے اور ڈومور کے مطالبوں کی بجائے اپنے روےئے پر نظرثانی کرے۔

طوفانی بارش سے تباہی

خیبرپختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے نتیجے میں قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان افسوسناک ہے بارشوں کے نتیجے میں الپوری کا پن بجلی گھر بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا جبکہ مواصلات اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا صوبے کے مختلف علاقوں میں آنے والے ہر طوفان بادوباران میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے الرٹس کے باوجود ذمہ دار سرکاری محکموں کی جانب سے پیشگی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے یا نہیں‘ کیا کسی ادارے نے عمارتوں کی حالت سے متعلق بلڈنگ کوڈکی روشنی میں کوئی سروے کیا ہے اسی طرح بہت بڑے سائن بورڈز کی حالت کا جائزہ لیاگیا سیوریج سسٹم کلیئر کیاگیا آبی گزرگاہوں کو کس حد تک درست حالت میں لایا گیا دیکھنا یہ بھی چاہئے کہ جگہ جگہ بکھرے تعمیراتی ملبے سے متعلق قاعدے قانون کی کہاں تک پابندی کرائی جارہی ہے کسی بھی نقصان پر بجلی کی ترسیل کا نظام مرمت کرکے بحال کرنے کے کیا انتظامات ہوئے ہسپتالوں تک رسائی کے راستے کتنے کلیئرتھے اگر یہ سب درست نہیں تو الرٹس جاری کرنا مفید نہیں۔