156

سیاسی تناؤ میں نئی ڈیڈلائن

وطن عزیز کی پہلے سے تناؤ کا شکار بنی سیاست میں سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ہونیوالی عوامی تحریک کی آل پارٹیز کانفرنس کی نئی ڈیڈلائن بھی آگئی ہے، اے پی سی نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے استعفوں کیلئے 7 جنوری تک کی مہلت دی ہے، کانفرنس کے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ 8جنوری کو سٹیرنگ کمیٹی کااجلاس ہوگاجس میں آئندہ کیلئے حکمت عملی کا اعلان کیاجائیگا، کانفرنس میں قومی دولت لوٹنے والوں کو این آر او نہ دینے کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے، دوسری جانب سابق وزیراعظم نوازشریف بھی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک بار پھر جلاوطنی اختیار کرسکتے ہیں، عمران خان کا ٹوئٹر بیان میں کہنا ہے کہ شریف برادران کب تک لوٹی ہوئی دولت بچانے کیلئے غیر ملکی رہنماؤں سے مدد مانگیں گے، مریم نواز کہتی ہیں کہ پوری سیاست ان کے والد کے گرد گھوم رہی ہے جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی باز نہ آئی تو وہ آگ لگادینگے

‘ دریں اثناء امریکہ نے پاکستان کی 225ملین ڈالر کی فوجی امداد روکنے پر غور شروع کیا ہے جبکہ ملکی معیشت کا یہ حال ہے کہ صرف قرض کی ادائیگی پر سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر میں 19کروڑ 44لاکھ ڈالر کی کمی نوٹ ہوئی ہے، بھارت اپنی آبی دہشت گردی میں ایک اور ڈیم بنانے کا منصوبہ بنارہاہے‘ افغانستان اور بھارت کی جانب سے بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے‘امریکہ دھمکی آمیز بیانات کے ساتھ ڈومور کے مطالبے ریکارڈ کرارہا ہے، یہ وقت اہم فیصلوں اور موثر حکمت عملی کا ہے، فیصلے بھی ایسے جو ہم خود کریں،وقت کاتقاضا یہ بھی ہے کہ ملکی معیشت کو بیرونی قرضوں سے آزاد کرنے کیلئے پلاننگ کی جائے، ضرورت قومی اداروں کو مستحکم کرنے کیساتھ عوام کو درپیش مسائل پر غور کی بھی ہے، ضرورت اس احساس کی بھی ہے کہ غریب اور متوسط شہری گرانی کی چکی میں پس رہا ہے‘یہ ادراک بھی ضروری ہے کہ اس ملک کا نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں کس قدر پریشان ہے، اگر آج قومی قیادت نے بنیادی مسائل پر توجہ نہ دی تو عوام میں مایوسی ہی پھیلتی چلی جائیگی، جمہوری معاشروں میں اہم معاملات کو سیاسی انداز میں کھلے دل اور لچک دار رویوں کیساتھ مذاکرات کی میز پرحل کرنے کی روایت ہی چلی آرہی ہے جسے برقرار رہنا چاہئے۔

بے موسم خدمات؟

ملک کے دوسرے حصوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی شہری شدید سردی میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی کے باعث احتجاج پر مجبور نظر آرہے ہیں، سوئی ناردرن گیس کے حکام نئی پائپ لائنوں سے متعلق جو خوشخبریاں سنا رہے ہیں ان کا ثمر اگر ملا بھی تو گرمی میں جاکر ملے گا، اسی طرح بجلی کے منصوبے ہر سال گرمی کی شدت میں اس طور شروع ہونے کا کہا جاتا ہے کہ ان سے ریلیف سردی میں ملے گی، بھاری یوٹیلٹی بلوں کے عوض خدمات حاصل کرنیوالے شہری نہ صرف بجلی اور گیس کی قلت کا سامنا کرتے ہیں بلکہ سروسز کی فراہمی کے ذمہ دار دفاتر میں انہیں بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، گڈ گورننس کا تقاضا تو یہ ہے کہ موسم گرما سے قبل بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا انتظام کیاجائے جبکہ سردی سے پہلے گیس کی فراہمی کا فول پروف بندوبست ہو۔