77

عبادات اور اللہ کی امانت

اب کے رمضان جوں جوں قریب آتا گیا‘میری گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا گیا‘میری والدہ صاحبہ کی عمر پچاسی برس سے اوپر ہوچکی ہے‘ وہ بلڈپریشر کی مریض ہیں اور کئی سال قبل دل کی رگوں میں سٹنٹ لگواچکی ہیں۔ ہفتے میں کم از کم ایک دن تو ان کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ اس دفعہ بھی کہیں وہ روزے رکھنے پر اصرار نہ کریں‘چنانچہ گزشتہ ہفتے میں نے قرآن کی آیات نکالیں اور ان کو سمجھایاکہ اللہ تعالیٰ نے تو طاقت رکھتے ہوئے بھی روزے کے بدلے مسکین کو کھاناکھلانے پر معافی دی ہے۔ روزہ بہت بڑی عبادت ہے لیکن یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ جسم بھی اللہ کی دی ہوئی نعمت اور امانت ہے‘اس کی حفاظت کرنا بذات خود ایک عبادت ہے‘ میں نے ان سے درخواست کی کہ اس رمضان کے تمام روزوں کے بدلے یہ رقم لے کر اپنے ہاتھ سے مستحقین میں بانٹ دیں تاکہ فدیہ ادا ہوجائے اور ان کی صحت کا بھی خیال رہے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب میری امّی نے میری درخواست مان لی ‘میں فرط مسرت سے ان کے گلے لگ گیا اور ان کی پیشانی چوم لی۔
اسی طرح سے میرے ماموں ہیں جو شوگر کے مریض ہیں۔ دل میں بھی تین عدد سٹنٹ ڈال چکے ہیں‘گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے بغیر سہارے کے اٹھ بھی نہیں سکتے۔ دمے کا مرض بھی لاحق ہے اور بلڈپریشر کا علاج بھی جاری ہے‘ ان امراض کے باوجود وہ مصر ہوتے تھے کہ روزہ ضرور رکھنا ہے‘ ہر سال عین رمضان کے درمیان ہسپتال میں ان کوداخل کرانا پڑتا تھا‘ جب تین سال قبل آئی سی یو تک کی نوبت آئی تو میں نے ان کو سختی سے روزہ رکھنے سے منع کردیا۔ اس سال امید ہے کہ ہسپتال جانے کی ضرورت نہ پیش آئے بشرطیکہ انہوں نے روزہ نہ رکھا۔

شوگر کے مریضوں میں پاؤں سُن ہوجاتے ہیں۔ ان کو میں نہ صرف زبانی تفصیل سے بتاتاہوں بلکہ لکھے ہوئے صفحے بھی دیتا ہوں کہ پاؤں دھونا ٹھیک ہے لیکن گیلا رکھنا بہت خطرناک ہے۔ کاٹن کی جرابیں اور آرام دہ بند جوتے پہننا ضروری ہیں اور یہ کہ حتیٰ الوسع کوشش کریں کہ پاؤں پھٹنے نہ پائیں‘ زخمی نہ ہوں اور کنکر پتھر نہ لگے۔ تاہم تقریباً ہر ماہ اور خصوصاً حج کے فوراً بعد یہی مریض پاؤں میں مختلف قسم کے رستے ناسور لئے میرے پاس حاضر ہوجاتے ہیں۔ کئی درجن عمرے اور حجوں کے بعد بھی اس سخت لیکن نفل عبادت کو فرض جان کر نہ صرف اپنی جان ہلاکت میں ڈالتے ہیں بلکہ ان کی اکثریت اپنے پاؤں سے معذور ہوجاتی ہے۔ حرمین شریفین کا سفر باعث برکت و ثواب سہی لیکن بہت سخت عبادت ہے‘ پھر وہاں یہ لوگ پاؤں پر مسح کی بجائے ہر وقت گیلے چپلوں میں پھرتے رہتے ہیں‘کہیں سے کوئی کنکر لگا اور کہیں سے کانٹا‘ مسلسل گیلے رہنے سے ان کو پھپھوندی لگ جاتی ہے۔ پھر انفیکشن اور زخم پڑجاتے ہیں اور چونکہ وہاں ڈاکٹر کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ تردد کرتے ہیں‘ اس لئے جب واپس آتے ہیں تو کافی لمبے علاج اور کئی آپریشنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسرے امراض میں بھی کئی دفعہ ڈاکٹروں کو مناسب ادویہ لکھنے میں صرف اس لئے دقت پیش آتی ہے کہ مریض روزہ رکھنے پر مُصر ہوتا ہے۔ مجبوراً ڈاکٹر کو دوسری ثانوی ادویات تجویز کرنی پڑتی ہیں جن کی روزانہ خوراک صرف دو مرتبہ ہو‘ افطاری اور سحری میں بسا اوقات بارہ گھنٹے کا فرق نہیں ہوتا اور یوں وہ بارہ گھنٹے والی خوراک بھی مناسب وقت پر نہیں مل سکتی۔ اس کے دوررس اثرات واقع ہوسکتے ہیں‘ اچھے علما ء کی اکثریت اس موقع پر ڈاکٹر کے مشورے کو ضرور مدنظر رکھتی ہے اور تفصیل میں جائے بغیر مریض کو روزہ رکھنے کا فتویٰ نہیں پکڑاتی‘ بعض پرہیزگار ڈاکٹر بھی اس موقع پر مریض کو روزہ نہ رکھنے کی ہدایت دینے میں ہچکچاتے ہیں کہ سارا وبال کہیں اُن پر نہ آجائے‘تاہم مریض کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے سترماؤں سے زیادہ محبت ہے۔ کیا وہ اپنے بندوں کی تکلیف پہ خوش ہوگا؟ جب اس کی ذات سراپا ترحم ہمیں نماز تک میں رعایت دے دیتی ہے کہ اگر کھڑے ہوکر تکلیف ہے تو بیٹھ کر پڑھیں‘ اُس سے بھی معذور ہیں تو اشارے سے ہی ادا کردیں ورنہ ذہن ماؤف ہو تو وہ بھی معاف۔ نماز ایسی آسان عبادت کے بارے میں اتنی رعایتیں تو روزے جیسی سخت عبادت کے بارے میں وہ ذات کیسے اتنی سختی برت سکتی ہے۔
ہمارا جسم نہ صرف ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے اور اسکی حفاظت ہمارا فرض بلکہ ہمارے جسم پر ہمارے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کا بھی حق ہے۔ اس دنیا کا بھی حق ہے‘مثال کے طور پر ایک اچھے جج‘ ایک اچھے استاد ‘ ایک اچھے عالم ‘ ڈاکٹر اور انجینئر پر صرف اس کے رشتہ داروں کا ہی حق نہیں بلکہ پورا معاشرہ اس کی ذات پر بھروسہ کئے ہوئے ہوتا ہے۔

اگر وہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھے گا تو وہ معاشرے کا مفید رکن نہیں رہے گا۔ بلکہ اُلٹا اپنے معاشرے پر بوجھ بنے گا اس طرح سے وہ نہ صرف اپنے مفید رول سے رہ جاتا ہے بلکہ معاشرے کو اسکا خیال رکھنا پڑتا ہے‘ اللہ نے یہ دنیاکو دارالامتحان بنایا ہوا ہے‘ ہم یہاں پر لوگوں کیلئے آسانیا ں پیدا کریں گے یعنی جو بوئیں گے وہی آخرت میں کاٹیں گے ۔ ’یہ دینا آخرت کی کھیتی ہے‘ (حدیث نبوی)۔ اس لئے ڈاکٹروں سے بھی گزارش ہے اور علماء سے بھی کہ مریضوں کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو اللہ کی رعایت سے محروم نہ رکھیں۔ مریضوں کو بھی اللہ کی اس رعایت کا اندازہ ہونا چاہئے۔ خصوصاً نفلی عبادات میں اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھیں جیسے دل ‘ شوگر‘ فالج‘ بلڈ پریشر‘جوڑوں کے درد کے مریضوں کو نفلی عمروں اور حج پر جانے سے قبل اپنی حالت کا صحیح اندازہ کرنا چاہئے اور جانے سے قبل ڈاکٹروں سے ضرور مشورہ کرنا چاہئے‘ سعودی عرب میں جب تیز بارش بھی ہوتی ہے تو مساجد سے اعلان ہوجاتا ہے کہ مسجد کی بجائے گھر میں ہی نماز پڑھی جائے اور یہی اصل میں صحیح دین ہے جس میں آسانی ہی آسانی ہے۔